پاکستان کی پکار۔۔۔ اے میرے نوجواں
ایم بلال نے Sunday، 21 February 2010 کو شائع کیا.

کل فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھی۔ مجھے تو بہت اچھی لگی۔ عاطف سعید صاحب نے کیا خوب کام کیا ہے۔ پاکستان کی پکار ہے جو اپنے جوانوں کو پکار رہا ہے۔ فریاد کر رہا ہے کہ ”اے میرے نوجواں کچھ تو محسوس کر“۔ ذرا اس فقرے پر غور کریں اور محسوس کرنے کی کوشش کریں۔
” میری فریاد سن کچھ تو محسوس کر۔۔۔میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر“
میری تمام دوستوں سے گذارش ہے کہ جو بھی میری تحریر پڑھیں اگر ان کے پاس وقت ہو تو بے شک یہاں کمنٹس کرنے کی بجائے اس ویڈیو کو دیکھیں اور صرف چند لمحات کے لئے پاکستان کی پکار کے صرف اس فقرے ” میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر“ پر غور کریں۔

YouTube Preview Image

اے میرے نوجواں تو میری بات سن
کچھ تو محسوس کر
تیرے چاروں ہے جو پھیلا ہوا
اس کو محسوس کر
سب مجھے نوچ کر کھا رہے ہیں یہاں
بات اب کی نہیں بات صدیوں کی ہے
ان کو معلوم ہے، جانتے ہیں وہ سب
کتنی لاشیں گریں، کتنے بازوں کٹے
کتنی ماؤں کے بیٹے جدا ہو گئے
کتنی بہنوں کے آنچل جلائے گئے
کتنے بچے یتیمی کو اوڑھے ہوئے میری جانب بڑھے
میں اک خواب تھا
ایسے گھر کا جہاں ہر کوئی رہ سکے ایک پرچم تلے
نہ کوئی خوف ہو اور نہ ڈر کوئی
غیر کے سامنے نہ جھکے سر کوئی
میں اک خواب تھا جس کو قائد نے تعبیر تو کر دیا
میرے بچے مگر اس کی تعبیر کے حرف و معانی سمجھنے سے قاصر رہے
خون اپنوں کا خود ہی بہاتے رہے
اپنے لاشوں کو خود ہی اٹھاتے رہے
لا الہ زباں سے تو کہتے رہے
اس کے معانی سے آنکھیں چراتے رہے
متحد نہ ہوئے منتشر ہو گئے
اور ایمان کو بیچ کر سو گئے
نظم و تنظیم کی خوبیاں بھول کر
میرے بچوں کی قربانیاں بھول کر
اپنی دنیا میں گم اس طرح ہو گئے
جوش جذبے سبھی ولولے کھو گئے
بات اب کی نہیں بات صدیوں کی ہے
جانتا ہوں کہ سب لوگ ایسے نہیں
میری آغوش میں ایسے بچے بھی ہیں
میری چاہت سے دل جن کے لبریز ہیں
جن کی آنکھوں میں خوابوں کی تعبیر ہے
جو سمجھتے ہیں قائد کے فرمان کو
جانتے ہیں جو اقبال نے کہہ دیا
ان کے دم سے ہی زندہ ہوں میں آج تک
یہ میرا نام ہیں میری پہچان ہیں
اے میرے نوجواں تو میری بات سن
کل جو گزرا ہے تو بھی اسے دیکھے
کس میں تیری بقاء ہے اسے جان لے
آنے والا جو کل ہے تیرے دم سے ہے
ایسا بچہ نہ بن جو مجھے نوچ کر پیٹ بھرتا رہے
کام کی عظمتوں کو سمجھ نوجواں
میری مٹی میں سونا ہے تیرے لئے
اپنے قائد کے خوابوں کو تعبیر کر
اپنے اندر کے دشمن کو خود مار دے
میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر
آنے والا جو کل ہے تیرے دم سے ہے
اے میرے نوجواں سن میری بات سن
میری فریاد سن کچھ تو محسوس کر
میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر
اے میرے نوجواں تو میری بات سن



جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ
ایم بلال نے Thursday، 18 February 2010 کو شائع کیا.

یہ چھوٹی اور عام سی مثال اس لئے دی ہے کہ ہم عام لوگ ہیں اور ہمارا بس بھی ان عام اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر چلتا ہے۔ جب یہ عام لوگ ہی بڑے لوگ بنتے ہیں تو بس بھی بڑی بڑی باتوں پر چلتا ہے اور پھر کرپشن اور دیگر برائیاں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔ ہم میں اور صاحبِ اقتدار میں فرق صرف چھوٹے اور بڑے پیمانے کا ہے۔ ہمارے پیمانے میں تھوڑی شراب آتی ہے تو ہم تھوڑی پیتے ہیں اور صاحبِ اقتدار کے پیمانے میں زیادہ آتی ہے تو وہ زیادہ پیتا ہے۔ فرق صرف پیمانے کا ہے ورنہ ہم ہیں ایک جیسے ہی۔

مکمل تحریر پڑھیے »


اردو اور کمپیوٹر (مکمل کتابچہ)
ایم بلال نے Friday، 2 January 2009 کو شائع کیا.

میرے بلاگ پر اب تک اردو اور کمپیوٹر کے زمرہ میں شائع ہونے والی پوسٹس کو ایک کتابچہ کی صورت دی گئی ہے تاکہ اگر کوئی چاہے تو اُسے ڈاؤن لوڈ کر سکے اور اردو کی ترقی کے لئے اس کتابچہ کو استعمال کر سکے۔
مکمل کتابچہ پی ڈی ایف فائل میں یہاں سے اُتار سکتے [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


وہ بات ہی نہ کریں جس کو کرنے کا آپ میں دم نہیں
ایم بلال نے Wednesday، 17 February 2010 کو شائع کیا.

حکومت اور ان کے درباریوں سے صرف ہم یہ کہتے ہیں کہ اب وہ دور نہیں رہا کہ آپ نے جو کہا عوام نے چپ چاپ سن لیا اور پھر کچھ عرصہ بعد بھول گئے۔ اب میڈیا بہت تیز ہو چکا ہے اور ساتھ ساتھ عوام کے ذہن بھی کچھ کچھ کام کرنا شروع ہو گئے جس کی وجہ سے اب یہ سچے جھوٹے وعدوں اور باتوں کو بھی یاد رکھتے ہیں۔

مکمل تحریر پڑھیے »


بے ہنگم موبائل نیٹ ورک میں پھنسی عوام
ایم بلال نے Wednesday، 14 October 2009 کو شائع کیا.

آلو اور ٹماٹر کا کیا بھاؤ ہے اور فلاں موبائل کنکشن کتنے کا ہے، فلاں کنکشن کے ساتھ کتنا فری بیلنس ملے گا؟ یہ وہ وقت تھا جب آپ راہ چلتے زیادہ تر دکانوں یا ریڑھی والوں سے ایسے سوالات کر سکتے تھے۔ کچھ ہماری بھیڑ چال، کچھ موبائل ٹیکنالوجی کی بھر مار اور کچھ حکومتی اداروں کی غفلت نے ایسے ایسے بیج بوئے جن کی فصل بالکل تھوڑے عرصہ میں پک کر تیار ہو چکی اور اب ہم کاٹ رہے ہیں اور مستقبل قریب میں مزید کاٹنے والے ہیں۔

مکمل تحریر پڑھیے »


بِلو مال و مال پارلیمنٹ پہنچی
ایم بلال نے Friday، 2 October 2009 کو شائع کیا.
توہین رسالت قانون، اصل خرابی کہاں
ایم بلال نے Sunday، 20 September 2009 کو شائع کیا.
اردو بلاگرز کے لئے چند مشورے
ایم بلال نے Saturday، 8 August 2009 کو شائع کیا.
انٹرنیٹ، جدید ٹیکنالوجی اور ہماری سوچ
ایم بلال نے Wednesday، 10 June 2009 کو شائع کیا.
جن کا نام ہی تاریخ ہوتا ہے
ایم بلال نے Thursday، 9 April 2009 کو شائع کیا.
ہر دن 12 ربیع الاول کا دن ہو
ایم بلال نے Wednesday، 11 March 2009 کو شائع کیا.

جملہ حقوق بحق "ایم بلال کی بیاض" محفوظ ہیں.
ورڈ پریس "پاک سائن تھیم" منجانب ایم بلال