<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ایم بلال کی بیاض &#187; متفرقات</title>
	<atom:link href="http://mbilal.paksign.com/category/miscellaneous-articles/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://mbilal.paksign.com</link>
	<description>قطرہ قطرہ ملے تو بنے سمندر</description>
	<lastBuildDate>Sat, 03 Jul 2010 23:39:24 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9.2</generator>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<item>
		<title>نیا نام، نئی جگہ اور نئے ڈیرے</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/blog-transfer/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/blog-transfer/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 02 Jul 2010 15:35:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو اور کمپیوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور عصر حاضر]]></category>
		<category><![CDATA[تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[طنزومزاح]]></category>
		<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ویڈیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=334</guid>
		<description><![CDATA[آپ سے گذارش ہے کہ اگر آپ نے اپنے بلاگ رول یا کسی بھی جگہ میرے بلاگ کا ربط دیا ہوا ہے تو تبدیلی کر کے نیا ربط شامل کر دیں۔ شکریہ۔
یہی تحریر میرے نئے بلاگ پر بھی موجود ہے۔ برائے مہربانی نئے نام، نئی جگہ یعنی میرے نئے ڈیرے پر اپنی قیمتی رائے دیجئے تاکہ میں بلاگ کو مزید بہتر کر سکوں۔

اس کے علاوہ تمام بلاگز ایگریگیٹر ویب سائیٹس جیسے اردو سیارہ، اردو لاگز اور ماورائی فیڈر وغیرہ وغیرہ کے منتظمین سے گذارش ہے کہ میرے بلاگ کا ربط تبدیل کر دیا جائے۔

<p align="center"><font color="#FF0000">بلاگ کے متعلق چند ضروری روابط درج ذیل ہیں </font> </p>


<p align="center">بلاگ کا پتہ </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/">http://www.mbilalm.com/blog/</a></p>


<p align="center">تحاریر کے آر ایس ایس کا ربط </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/feed/">http://www.mbilalm.com/blog/feed/</a></p>

<p align="center">تبصروں کے آر ایس ایس کا ربط </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/comments/feed/">http://www.mbilalm.com/blog/comments/feed/</a></p>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
السلام علیکم!<br />
ایک لمبا عرصہ انتظار کیا کہ ہو سکتا ہے دل مان جائے اور یہ فیصلہ نہ ہی کروں لیکن دل ہے کہ مانتا ہی نہیں تھا۔ جب بھی کہیں ڈومین نیم یا بلاگ کا ذکر آتا تو فورا خیال آتا کہ اپنے نام کی بھی ڈومین لینی ہے یا کسی کے لئے کوئی ڈومین رجسٹر کروانے لگتا تو سب سے پہلے یہی خیال آتا کہ یہ کام کرنے کے بعد اپنے نام کی بھی ایک ڈومین رجسٹر کروائیں گے اور پھر اپنا بلاگ وہاں منتقل کر دوں گا لیکن ہر بار کام ختم ہونے پر نیا کام اور پھر اسی طرح کافی عرصہ گزر گیا۔ آخر کار کچھ دن پہلے میں نے اپنے نام کی ڈومین لے ہی لی۔ اور آج اپنا بلاگ نئی ڈومین پر منتقل کر دیا ہے۔ جس کا ربط درج ذیل ہے۔</p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/">http://www.mbilalm.com/blog/</a></p>
<p>سب سے پہلے تو آپ سے گذارش ہے کہ اگر آپ نے اپنے بلاگ رول یا کسی بھی جگہ میرے بلاگ کا ربط دیا ہوا ہے تو تبدیلی کر کے نیا نام اور نیا ربط شامل کر دیں۔ شکریہ۔<br />
اس بلاگ پر تبصرے اور دیگر چیزیں بند کر دی ہیں اس لئے <a href="http://www.mbilalm.com/blog/blog-transfer/">یہی تحریر میرے نئے بلاگ</a> پر بھی موجود ہے۔ برائے مہربانی نئے نام، نئی جگہ یعنی میرے نئے ڈیرے پر اپنی قیمتی رائے دیجئے تاکہ میں بلاگ کو مزید بہتر کر سکوں۔</p>
<p>اس کے علاوہ تمام بلاگز ایگریگیٹر ویب سائیٹس جیسے اردو سیارہ، اردو لاگز اور ماورائی فیڈر وغیرہ وغیرہ کے منتظمین سے گذارش ہے کہ میرا نام اور میرے بلاگ کا ربط تبدیل کر دیا جائے۔</p>
<p align="center"><font color="#FF0000">بلاگ کے متعلق چند ضروری روابط درج ذیل ہیں </font> </p>
<p align="center">بلاگ کا پتہ </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/">http://www.mbilalm.com/blog/</a></p>
<p align="center">تحاریر کے آر ایس ایس کا ربط </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/feed/">http://www.mbilalm.com/blog/feed/</a></p>
<p align="center">تبصروں کے آر ایس ایس کا ربط </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/comments/feed/">http://www.mbilalm.com/blog/comments/feed/</a></p>
<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اس کے علاوہ نام بھی تبدیل کر لیا ہے۔ نام کے آخر پر ایک ”ایم“ یعنی ”م“ کا اضافہ کر دیا ہے۔ ”ایم بلال“ سے ”ایم بلال ایم“ یعنی ”م بلال م“ کر لیا ہے۔ اب نام کو کس طرح لکھوں اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی۔ میرے خیال میں اردو میں ہی لکھنا بہتر ہے جیسے ”م بلال م“ لیکن کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ ”ایم بلال ایم“ لکھو۔ اس لئے یہ آپ سب پر چھوڑ دیتا ہوں جیسے آپ کی مرضی ہو ویسے لکھ لیں۔ ویسے بھی پہلے کوئی خالی ”بلال“ لکھتا ہے تو کوئی ”محمد بلال“ جبکہ میں خود ”ایم بلال“ لکھتا تھا۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">نوٹ:- اگر کسی جگہ یا کسی ربط میں مسئلہ آ رہا ہے تو برائے مہربانی مجھے بئے بلاگ پر تبصرہ کر کے یا درج ذیل ای میل پر اطلاع کریں۔ شکریہ۔</span><br />
<img class="aligncenter" title="E-Mail" src="http://www.paksign.com/mbilal/images/walkondew.gif" alt=""  /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/blog-transfer/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پی ٹی اے اردو ویب سائیٹ کا افتتاح</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/news-urdu-version-of-pta-website/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/news-urdu-version-of-pta-website/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 18 Mar 2010 23:58:52 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[PTA urdu website]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Version of PTA Website]]></category>
		<category><![CDATA[urdu website of PTA]]></category>
		<category><![CDATA[پی ٹی اے اردو ویب سائیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پی ٹی اے اردو ویب سائیٹ کا افتتاح]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=211</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) نے انٹر نیٹ پر اپنی سرکاری ویب سائیٹ کا آغازاردو میں بھی کر دیا ہے۔
صارفین پی ٹی اے کی ویب سائٹ کے ذریعے اس کی مختلف سہولیات بھی استعمال کر سکیں گے۔
صارفین اس ویب سائیٹ پر اپنی شکایات کا اندراج ”شکایات“ کے نام سے موجود لنک کے تحت ایک سادہ اور آسان شکایت فارم پر کر کے بہ آسانی کرا سکیں گے۔ اس کے علاوہ پی ٹی اے کی اردو ویب سائٹ پرسم انفارمیشن سسٹم 668 ، چوری شدہ موبائل کو ایمی نمبر کے ذریعے بلاک کرانا، ٹیلی کام سیکٹر کی کارکردگی کے اعدادوشمار اور پی ٹی اے کی دیگر ایسی سہولیات بھی موجود ہوں گی۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) نے انٹر نیٹ پر اپنی سرکاری ویب سائیٹ کا آغازاردو میں بھی کر دیا ہے۔</p>
<p> پی ٹی اے کی اردو ویب سائیٹ کا ڈیزائن اور خاکہ انگریزی ویب سائیٹ جیسا ہو گا اوراسی مواد کو آسان اردو میں ترجمہ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد در اصل ان انٹر نیٹ صارفین کو آن لائن معلومات تک رسائی فراہم کرنا ہے جو عمومی طور پر انٹرنیٹ کے استعمال اور انگریزی زبان سے کم واقفیت رکھتے ہیں۔ لیکن اب وہ صارفین بھی اس ویب سائیٹ کے ذریعے پی ٹی اے کی سرگرمیوں، فیصلوں، پالیسیوں، تحفظ صارفین ریگولیشنز اور کمپلینٹ مینیجمنٹ سسٹم سے متعلق آن لائن معلومات تک رسائی حاصل کر کے ان سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔</p>
<p>صارفین پی ٹی اے کی ویب سائٹ کے ذریعے اس کی مختلف سہولیات بھی استعمال کر سکیں گے۔ پی ٹی اے اپنے ہیڈ کوارٹرز اور زونل دفاتر کے ساتھ ساتھ اپنی ویب سائیٹ پر بھی ٹیلی کام صارفین کی مختلف شکایات براہ راست وصول کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک مخصوص سسٹم سی ایم ایس (کانٹنٹ مینیجمنٹ سسٹم) تیار کیا گیا ہے جس کے ذریعے صارفین کی شکایات کے نئے نظام کو آپریٹرز کے نظام سے مربوط کر دیا گیا ہے۔ اس نئے نظام کے ذریعے شکایات کا اندراج اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میںکیا جا سکے گا۔ صارفین اس ویب سائیٹ پر اپنی شکایات کا اندراج ”شکایات“ کے نام سے موجود لنک کے تحت ایک سادہ اور آسان شکایت فارم پر کر کے بہ آسانی کرا سکیں گے۔ اس کے علاوہ پی ٹی اے کی اردو ویب سائٹ پرسم انفارمیشن سسٹم 668 ، چوری شدہ موبائل کو ایمی نمبر کے ذریعے بلاک کرانا، ٹیلی کام سیکٹر کی کارکردگی کے اعدادوشمار اور پی ٹی اے کی دیگر ایسی سہولیات بھی موجود ہوں گی۔ پی ٹی اے کی اردو ویب سائیٹ ملاحظہ کرنے کیلئے صارفین www.pta.gov.pk لنک پر جا سکتے ہیں اس لنک کے تحت کھلنے والے صفحے پر موجود مینیو میں ”اردو“ کا بٹن دبانے سے صارفین اردو ویب سائیٹ پر پہنچ جائیں گے۔</p>
<p><a href="http://urdu.pta.gov.pk/index.php?option=com_content&#038;view=article&#038;id=1454">حوالہ</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/news-urdu-version-of-pta-website/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>4</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پاکستان کی پکار۔۔۔ اے میرے نوجواں</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/call-of-pakistan-oh-my-youth/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/call-of-pakistan-oh-my-youth/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 21 Feb 2010 13:38:30 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ویڈیوز]]></category>
		<category><![CDATA[aatif saeed video]]></category>
		<category><![CDATA[call of pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Jago jagao]]></category>
		<category><![CDATA[jago Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[youth of pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[اے میرے نوجواں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان کی پکار]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان کی پکار۔۔۔ اے میرے نوجواں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=205</guid>
		<description><![CDATA[کل فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھی۔ مجھے تو بہت اچھی لگی۔ عاطف سعید صاحب نے کیا خوب کام کیا ہے۔ پاکستان کی پکار ہے جو اپنے جوانوں کو پکار رہا ہے۔ فریاد کر رہا ہے کہ ”اے میرے نوجواں کچھ تو محسوس کر“۔ ذرا اس فقرے پر غور کریں اور محسوس کرنے کی کوشش [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کل فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھی۔ مجھے تو بہت اچھی لگی۔ <a href="http://www.facebook.com/aatif.saeed">عاطف سعید</a> صاحب نے کیا خوب کام کیا ہے۔ پاکستان کی پکار ہے جو اپنے جوانوں کو پکار رہا ہے۔ فریاد کر رہا ہے کہ ”اے میرے نوجواں کچھ تو محسوس کر“۔ ذرا اس فقرے پر غور کریں اور محسوس کرنے کی کوشش کریں۔<br />
” میری فریاد سن کچھ تو محسوس کر۔۔۔میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر“<br />
میری تمام دوستوں سے گذارش ہے کہ جو بھی میری تحریر پڑھیں اگر ان کے پاس وقت ہو تو بے شک یہاں کمنٹس کرنے کی بجائے اس ویڈیو کو دیکھیں اور صرف چند لمحات کے لئے پاکستان کی پکار کے صرف اس فقرے ” میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر“ پر غور کریں۔</p>
<p>[youtube]http://www.youtube.com/watch?v=7ge6RTgeJC4[/youtube]</p>
<p>اے میرے نوجواں تو میری بات سن<br />
کچھ تو محسوس کر<br />
تیرے چاروں ہے جو پھیلا ہوا<br />
اس کو محسوس کر<br />
سب مجھے نوچ کر کھا رہے ہیں یہاں<br />
بات اب کی نہیں بات صدیوں کی ہے<br />
ان کو معلوم ہے، جانتے ہیں وہ سب<br />
کتنی لاشیں گریں، کتنے بازوں کٹے<br />
کتنی ماؤں کے بیٹے جدا ہو گئے<br />
کتنی بہنوں کے آنچل جلائے گئے<br />
کتنے بچے یتیمی کو اوڑھے ہوئے میری جانب بڑھے<br />
میں اک خواب تھا<br />
ایسے گھر کا جہاں ہر کوئی رہ سکے ایک پرچم تلے<br />
نہ کوئی خوف ہو اور نہ ڈر کوئی<br />
غیر کے سامنے نہ جھکے سر کوئی<br />
میں اک خواب تھا جس کو قائد نے تعبیر تو کر دیا<br />
میرے بچے مگر اس کی تعبیر کے حرف و معانی سمجھنے سے قاصر رہے<br />
خون اپنوں کا خود ہی بہاتے رہے<br />
اپنے لاشوں کو خود ہی اٹھاتے رہے<br />
لا الہ زباں سے تو کہتے رہے<br />
اس کے معانی سے آنکھیں چراتے رہے<br />
متحد نہ ہوئے منتشر ہو گئے<br />
اور ایمان کو بیچ کر سو گئے<br />
نظم و تنظیم کی خوبیاں بھول کر<br />
میرے بچوں کی قربانیاں بھول کر<br />
اپنی دنیا میں گم اس طرح ہو گئے<br />
جوش جذبے سبھی ولولے کھو گئے<br />
بات اب کی نہیں بات صدیوں کی ہے<br />
جانتا ہوں کہ سب لوگ ایسے نہیں<br />
میری آغوش میں ایسے بچے بھی ہیں<br />
میری چاہت سے دل جن کے لبریز ہیں<br />
جن کی آنکھوں میں خوابوں کی تعبیر ہے<br />
جو سمجھتے ہیں قائد کے فرمان کو<br />
جانتے ہیں جو اقبال نے کہہ دیا<br />
ان کے دم سے ہی زندہ ہوں میں آج تک<br />
یہ میرا نام ہیں میری پہچان ہیں<br />
اے میرے نوجواں تو میری بات سن<br />
کل جو گزرا ہے تو بھی اسے دیکھے<br />
کس میں تیری بقاء ہے اسے جان لے<br />
آنے والا جو کل ہے تیرے دم سے ہے<br />
ایسا بچہ نہ بن جو مجھے نوچ کر پیٹ بھرتا رہے<br />
کام کی عظمتوں کو سمجھ نوجواں<br />
میری مٹی میں سونا ہے تیرے لئے<br />
اپنے قائد کے خوابوں کو تعبیر کر<br />
اپنے اندر کے دشمن کو خود مار دے<br />
میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر<br />
آنے والا جو کل ہے تیرے دم سے ہے<br />
اے میرے نوجواں سن میری بات سن<br />
میری فریاد سن کچھ تو محسوس کر<br />
میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر<br />
اے میرے نوجواں تو میری بات سن</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/call-of-pakistan-oh-my-youth/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بے ہنگم موبائل نیٹ ورک میں پھنسی عوام</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/unarranged-mobile-networks/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/unarranged-mobile-networks/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2009 13:04:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[mobile in pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[mobile networks]]></category>
		<category><![CDATA[mobile number registration in pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[number registration]]></category>
		<category><![CDATA[sim registration]]></category>
		<category><![CDATA[unarranged mobile networks]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=151</guid>
		<description><![CDATA[آلو اور ٹماٹر کا کیا بھاؤ ہے اور فلاں موبائل کنکشن کتنے کا ہے، فلاں کنکشن کے ساتھ کتنا فری بیلنس ملے گا؟ یہ وہ وقت تھا جب آپ راہ چلتے زیادہ تر دکانوں یا ریڑھی والوں سے ایسے سوالات کر سکتے تھے۔ کچھ ہماری بھیڑ چال، کچھ موبائل ٹیکنالوجی کی بھر مار اور کچھ حکومتی اداروں کی غفلت نے ایسے ایسے بیج بوئے جن کی فصل بالکل تھوڑے عرصہ میں پک کر تیار ہو چکی اور اب ہم کاٹ رہے ہیں اور مستقبل قریب میں مزید کاٹنے والے ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم </p>
<p>آلو اور ٹماٹر کا کیا بھاؤ ہے اور فلاں موبائل کنکشن کتنے کا ہے، فلاں کنکشن کے ساتھ کتنا فری بیلنس ملے گا؟ یہ وہ وقت تھا جب آپ راہ چلتے زیادہ تر دکانوں یا ریڑھی والوں سے ایسے سوالات کر سکتے تھے۔ کچھ ہماری بھیڑ چال، کچھ موبائل ٹیکنالوجی کی بھر مار اور کچھ حکومتی اداروں کی غفلت نے ایسے ایسے بیج بوئے جن کی فصل بالکل تھوڑے عرصہ میں پک کر تیار ہو چکی اور اب ہم کاٹ رہے ہیں اور مستقبل قریب میں مزید کاٹنے والے ہیں۔<br />
تقریباً 2002 سے 2007 تک موبائل کنکشن بالکل سبزی کی طرح خریدا جا سکتا تھا یعنی پیسے دو کنکشن لو۔ اس کے علاوہ اور کسی کاغذی کاروائی کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اسی دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب کنکشن کی قیمت فرض کریں 100 روپے تھی اور ساتھ 150 کا بیلنس ملتا تھا۔ اتنا اچھا موقعہ عوام نے ضائع نہیں کیا تھا یوں 100 روپے خرچ کے 150 کا بیلنس استعمال کرتے اور پھر سِم پھینک دیتے۔ کنکشن بیچتے ہوئے کوئی کاغذی کاروائی نہیں کی جاتی تھی مگر کمپنی کو کنکشن کسی کے نام پر رجسٹر کرنا ہوتا تھا۔ بس پھر کیا تھا کمپنیوں نے کنکشن فرضی ناموں پر رجسٹر کرنے شروع کر دیئے۔ جب پانی سر سے گزر چکا تو حکومتی اداروں کو خیال آیا کہ یہ سب غلط ہو رہا ہے۔ یوں موبائل کنکشن کمپنیوں پر سختی کی گئی اور حکم ہوا کہ فرضی نام کی بجائے کنکشن اصل صارف کے نام پر رجسٹر کیا جائے۔ نادرا کی مدد لیتے ہوئے کنکشن اصل صارف کے نام پر رجسٹر کرنے کا کام شروع ہوا۔ اس معاملے میں صارف کو بھی کچھ بھاگ دوڑ یا ایس ایم ایس کر کے حکومتی ادارے کو بتانا پڑتا۔ اب سارے صارف اس قابل نہیں تھے کہ وہ یہ کام کر سکتے۔ ساتھ ساتھ حکومتی ادارے نے بھی ڈیڈ لائن دے دی کہ فلاں تاریخ تک کنکشن اصل صارف کے نام رجسٹر کرو نہیں تو فرضی ناموں کے کنکشن بند کر دیئے جائیں گے۔ اس حکم نامے سے موبائل کنکشن کمپنیوں کے رنگ اُڑ گئے کہ اب کیا کیا جائے کیونکہ زیادہ تر کنکشن تو ہیں ہی فرضی ناموں پر اور اوپر سے ہر صارف کمپنی یا حکومتی ادارے سے رابطہ تو نہیں کر سکتا۔ اس کا حل کمپنیوں نے یہ ڈھونڈا کہ اِدھر اُدھر سے معلومات لو یعنی لوگوں کے شناختی کارڈ کی کاپی لو یا جو پہلے سے ہی موجود ہیں اُن پر رجسٹر کرتے جاؤ۔ آخر کار نتیجہ یہ نکلا کہ تمام کنکشن فرضی ناموں سے ٹھیک ناموں پر رجسٹر تو ہو گئے لیکن اصل صارف کے نام پر رجسٹر نہ ہو سکے۔ یوں آج بھی بے شمار کنکشن ایسے ہیں جو رجسٹرڈ کسی اور کے نام پر ہیں اور استعمال کوئی اور کر رہا ہے۔ ایک طرف تو کنکشن اصل صارف کے نام پر رجسٹر نہیں اور دوسری طرف ایسے بے شمار لوگ ہیں جنہوں نے زندگی میں کوئی کنکشن نہیں لیا لیکن اُن کے نام پر دس دس کنکشن چل رہے ہیں۔<br />
اس سارے کھیل سے عام شہری کو تو یقیناً کوئی فائدہ نہیں ہو رہا لیکن شرپسند عناصر ضرور فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ کنکشن کسی اور کے نام پر ہوتا ہے  اس لئے اُس کنکشن سے بے دھڑک لوگوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ کسی بڑے مسئلے میں یعنی جب حکومتی ادارے تنگ ہوتے ہیں تو وہ تلاش کرتے ہوئے اصلی صارف تک پہنچ جاتے ہیں لیکن دیگر مسائل میں گھری ہوئی عام عوام یونہی برداشت کرتی رہتی ہے۔ کئی بار ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ کچھ لوگ کسی کے گھر تک پہنچ جاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ آپ کے نام پر فلاں نمبر رجسٹرڈ ہے اور اُس نمبر سے ہمیں تنگ کیا جاتا ہے جبکہ اُس گھر والے کا وہ نمبر نہیں ہوتا۔ اس طرح کرتا کوئی ہے اور بھرتا کوئی اور ہے۔اور تو اور ذرا سوچیئے! آج کل وطن عزیز کے جو حالات چل رہے ہیں ان میں اگر کوئی کنکشن میرے، آپ کے یا کسی کے بھی نام پر رجسٹرڈ ہو اور ہمیں اُس کنکشن کے بارے میں پتہ بھی نہ ہو اور اوپر سے وہ کنکشن کسی دہشت گرد کے استعمال میں ہو اور وہ دہشت گرد اس کنکشن کو کسی دہشت گردی کی واردات میں استعمال کر دے یا وہ کنکشن کسی خود کش بمبار سے ملے یا دہشت گردی کی موقع واردات پر ملے تو سوچیئے ہمارا کیا ہو گا؟ مان لیتے ہیں بے گناہ ہونے کی وجہ سے کچھ عرصے بعد رہائی مل جائے گی لیکن وقتی طور پر اور ایک بار جیل کی ہوا اور وہاں کی خدمات لینے کے بعد ہم کیسے ہوں گے؟ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہمارے رشتہ دار ہماری تصویر لیے سپریم کورٹ کے باہر کھڑے ہوں اور ہم اُس جرم کی سزا پا رہے ہوں جو ہم نے کیا بھی نہ ہو اور ہمارا اس سے دور دور کا کوئی تعلق بھی نہ ہو بس کنکشن ہمارے نام تھا جو کہ ہم نے لیا بھی نہیں تھا۔ میرے تو ایسا لکھتے ہوئے بھی رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔<br />
ذرا سوچیئے! حکومتی اداروں کی غفلت اور موبائل کنکشن کمپنیوں کے پیسے کمانے کے چکر میں ایک عام شہری جو صرف موبائل کنکشن کے استعمال پر تقریباً 35 فیصد ٹیکس دیتا ہے وہ مفت میں ذلیل ہو رہا ہے۔<br />
ہماری حکومت وقت سے گذارش ہے کہ اس مسئلے کا سختی سے نہ صرف نوٹس لیا جائے بلکہ عملی اقدامات بھی کرے اور راہ چلتے ہوئے مفت میں ہمیں ذلیل نہ کریں اور اس بے ہنگم موبائل نیٹ ورک میں پھنسی عوام کو باہر نکالے۔ ساتھ میں یہ بھی یاد رکھا جائے کہ یہ عوام موبائل پر بہت ٹیکس دے رہی ہے۔</p>
<p>عام عوام سے اپیل:- میری تمام لوگوں سے بھی گذارش ہے کہ اپنے استعمال کے موبائل کنکشن اپنے نام رجسٹرڈ کروائیں اور اگر آپ کے نام پر کوئی دوسرا موبائل کنکشن رجسٹرڈ ہے تو اسے فوری بند کروائیں تاکہ کل کو کسی بڑی پریشانی سے بچا جا سکے۔<br />
٭٭٭اپنا کنکشن کس کے نام پر رجسٹرڈ ہے؟ یہ معلوم کرنے کے لیے اپنے کنکشن کو استعمال کرتے ہوئی رائٹ میسیج میں جا کر MNP لکھ کر 667 پر بھیج دیں تھوڑی دیر بعد آپ کو ایس ایم ایس موصول ہو جائے گا کہ آپ کا کنکشن کس کے نام پر ہے۔ اگر آپ کے نام پر نہیں تو فوراً قریبی متعلقہ فرنچائز سے رابطہ کریں اور کنکشن اپنے نام منتقل کروائیں۔<br />
٭٭٭اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کے نام پر کتنے موبائل کنکشن چل رہے ہیں تو کوئی بھی موبائل کنکشن استعمال کرتے ہوئے رائٹ میسیج میں جا کر اپنا شناختی کارڈ نمبر لکھ کر 668 پر بھیج دیں۔ تھوڑی دیر بعد اپ کو ایس ایم ایس موصول ہو جائے گا کہ آپ کے نام پر کتنے کنکشن ہیں۔ اگر آپ کے نام پر آپ کے استعمال سے زائد کنکشن ہوں تو فوراً قریبی متعلقہ فرنچائز رابطہ کریں۔ اُن سے اپنے نام کے تمام کنکشن کی فہرست لیں اور اپنے استعمال کے علاوہ جتنے بھی کنکشن ہوں اُن کو بند کروانے کی درخواست دیں اور یاد سے اس کام کی رسید بھی حاصل کریں۔<br />
یاد رہے 668 والی سہولت فی الحال یوفون پر میسر نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/unarranged-mobile-networks/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
