<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ایم بلال کی بیاض &#187; ہمارا معاشرہ</title>
	<atom:link href="http://mbilal.paksign.com/category/our-society/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://mbilal.paksign.com</link>
	<description>قطرہ قطرہ ملے تو بنے سمندر</description>
	<lastBuildDate>Sat, 03 Jul 2010 23:39:24 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9.2</generator>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<item>
		<title>نیا نام، نئی جگہ اور نئے ڈیرے</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/blog-transfer/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/blog-transfer/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 02 Jul 2010 15:35:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو اور کمپیوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور عصر حاضر]]></category>
		<category><![CDATA[تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[طنزومزاح]]></category>
		<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ویڈیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=334</guid>
		<description><![CDATA[آپ سے گذارش ہے کہ اگر آپ نے اپنے بلاگ رول یا کسی بھی جگہ میرے بلاگ کا ربط دیا ہوا ہے تو تبدیلی کر کے نیا ربط شامل کر دیں۔ شکریہ۔
یہی تحریر میرے نئے بلاگ پر بھی موجود ہے۔ برائے مہربانی نئے نام، نئی جگہ یعنی میرے نئے ڈیرے پر اپنی قیمتی رائے دیجئے تاکہ میں بلاگ کو مزید بہتر کر سکوں۔

اس کے علاوہ تمام بلاگز ایگریگیٹر ویب سائیٹس جیسے اردو سیارہ، اردو لاگز اور ماورائی فیڈر وغیرہ وغیرہ کے منتظمین سے گذارش ہے کہ میرے بلاگ کا ربط تبدیل کر دیا جائے۔

<p align="center"><font color="#FF0000">بلاگ کے متعلق چند ضروری روابط درج ذیل ہیں </font> </p>


<p align="center">بلاگ کا پتہ </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/">http://www.mbilalm.com/blog/</a></p>


<p align="center">تحاریر کے آر ایس ایس کا ربط </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/feed/">http://www.mbilalm.com/blog/feed/</a></p>

<p align="center">تبصروں کے آر ایس ایس کا ربط </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/comments/feed/">http://www.mbilalm.com/blog/comments/feed/</a></p>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
السلام علیکم!<br />
ایک لمبا عرصہ انتظار کیا کہ ہو سکتا ہے دل مان جائے اور یہ فیصلہ نہ ہی کروں لیکن دل ہے کہ مانتا ہی نہیں تھا۔ جب بھی کہیں ڈومین نیم یا بلاگ کا ذکر آتا تو فورا خیال آتا کہ اپنے نام کی بھی ڈومین لینی ہے یا کسی کے لئے کوئی ڈومین رجسٹر کروانے لگتا تو سب سے پہلے یہی خیال آتا کہ یہ کام کرنے کے بعد اپنے نام کی بھی ایک ڈومین رجسٹر کروائیں گے اور پھر اپنا بلاگ وہاں منتقل کر دوں گا لیکن ہر بار کام ختم ہونے پر نیا کام اور پھر اسی طرح کافی عرصہ گزر گیا۔ آخر کار کچھ دن پہلے میں نے اپنے نام کی ڈومین لے ہی لی۔ اور آج اپنا بلاگ نئی ڈومین پر منتقل کر دیا ہے۔ جس کا ربط درج ذیل ہے۔</p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/">http://www.mbilalm.com/blog/</a></p>
<p>سب سے پہلے تو آپ سے گذارش ہے کہ اگر آپ نے اپنے بلاگ رول یا کسی بھی جگہ میرے بلاگ کا ربط دیا ہوا ہے تو تبدیلی کر کے نیا نام اور نیا ربط شامل کر دیں۔ شکریہ۔<br />
اس بلاگ پر تبصرے اور دیگر چیزیں بند کر دی ہیں اس لئے <a href="http://www.mbilalm.com/blog/blog-transfer/">یہی تحریر میرے نئے بلاگ</a> پر بھی موجود ہے۔ برائے مہربانی نئے نام، نئی جگہ یعنی میرے نئے ڈیرے پر اپنی قیمتی رائے دیجئے تاکہ میں بلاگ کو مزید بہتر کر سکوں۔</p>
<p>اس کے علاوہ تمام بلاگز ایگریگیٹر ویب سائیٹس جیسے اردو سیارہ، اردو لاگز اور ماورائی فیڈر وغیرہ وغیرہ کے منتظمین سے گذارش ہے کہ میرا نام اور میرے بلاگ کا ربط تبدیل کر دیا جائے۔</p>
<p align="center"><font color="#FF0000">بلاگ کے متعلق چند ضروری روابط درج ذیل ہیں </font> </p>
<p align="center">بلاگ کا پتہ </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/">http://www.mbilalm.com/blog/</a></p>
<p align="center">تحاریر کے آر ایس ایس کا ربط </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/feed/">http://www.mbilalm.com/blog/feed/</a></p>
<p align="center">تبصروں کے آر ایس ایس کا ربط </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/comments/feed/">http://www.mbilalm.com/blog/comments/feed/</a></p>
<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اس کے علاوہ نام بھی تبدیل کر لیا ہے۔ نام کے آخر پر ایک ”ایم“ یعنی ”م“ کا اضافہ کر دیا ہے۔ ”ایم بلال“ سے ”ایم بلال ایم“ یعنی ”م بلال م“ کر لیا ہے۔ اب نام کو کس طرح لکھوں اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی۔ میرے خیال میں اردو میں ہی لکھنا بہتر ہے جیسے ”م بلال م“ لیکن کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ ”ایم بلال ایم“ لکھو۔ اس لئے یہ آپ سب پر چھوڑ دیتا ہوں جیسے آپ کی مرضی ہو ویسے لکھ لیں۔ ویسے بھی پہلے کوئی خالی ”بلال“ لکھتا ہے تو کوئی ”محمد بلال“ جبکہ میں خود ”ایم بلال“ لکھتا تھا۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">نوٹ:- اگر کسی جگہ یا کسی ربط میں مسئلہ آ رہا ہے تو برائے مہربانی مجھے بئے بلاگ پر تبصرہ کر کے یا درج ذیل ای میل پر اطلاع کریں۔ شکریہ۔</span><br />
<img class="aligncenter" title="E-Mail" src="http://www.paksign.com/mbilal/images/walkondew.gif" alt=""  /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/blog-transfer/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نعرے لگانا آسان مگر محنت کرنا بہت مشکل</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/discussion-easy-but-hardwork-difficult/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/discussion-easy-but-hardwork-difficult/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 24 Jun 2010 22:00:28 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلام اور عصر حاضر]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[9 ویب سائٹس بند]]></category>
		<category><![CDATA[discussion easy but hardwork difficult]]></category>
		<category><![CDATA[نعرے لگانا آسان مگر محنت کرنا بہت مشکل]]></category>
		<category><![CDATA[ویب سائیٹ بلاک]]></category>
		<category><![CDATA[کرے کون؟]]></category>
		<category><![CDATA[گوگل اور یاہو بلاک]]></category>
		<category><![CDATA[گوگل، ایم ایس این اور یاہو بین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=330</guid>
		<description><![CDATA[اگر ہم اپنے آج کے حالات دیکھیں تو ہم بھی جنگ  کی پوزیشن میں نہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم پہلے ترقی کریں۔ جب ہم ترقی کر جائیں گے اور بادشاہ ہوں گے تو اول غیر مسلموں کو گستاخی کی جرأت ہی نہیں ہو گی اور اگر انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی تو ہم منہ توڑ جواب دے سکیں گے۔ لیکن اس طرف کوئی نہیں آئے گا۔ کیونکہ یہ کام یعنی مستقل مزاجی، ایمانداری، جذبے اور لگن کے ساتھ ترقی کرنا نعرے لگانے، جلوسوں میں اپنے ہی بھائیوں کے کاروبار تباہ کرنے اور ویب سائیٹ بلاک کرنے سے بہت مشکل ہے۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
انٹرنیٹ بنانے والے نے بھی کیا زبردست چیز بنا دی ہے۔ ایک وقت تھا تحریک آزادی اور دوسری تحریکوں کے سربراہ اور دیگر ممبران کو دور دراز علاقوں تک سفر کرنا پڑتا، آزادی کا شعور دینے اور اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے کے لئے پرنٹ میڈیا کا سہارا لینا پڑتا پھر کہیں جا کر چند لوگوں تک آواز پہنچتی۔ دوسری طرف آج کا وقت ہے جس میں انٹرنیٹ جیسی سہولت دستیاب ہے اور مجھ جیسا پینڈو بھی اگر ہمت رکھتا ہو تو انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی آواز چند لمحات میں پوری دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ بلاگ لکھ سکتا ہے، مختلف فورمز پر اپنے حق کی صدا لگا سکتا ہے۔ مختلف اداروں کی رپورٹس دیکھ سکتا ہے۔ لائبریری میں کتابیں  تلاش کرنے کی بجائے گوگل اور دیگر سرچ انجن کے ذریعے چند منٹوں میں اپنی مطلوبہ معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ سوچتا ہوں اب وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کا بچہ بچہ یہ صدا لگائے گا کہ ہمیں ہمارا حق دو۔ کیونکہ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے خیالات سن رہے ہیں۔ تھوڑا اور آہستہ آہستہ سہی لیکن عوام کو شعور ضرور آ رہا ہے۔ سیاست دانوں کے فریب اور جھوٹے وعدے اگر کوئی بھولنا چاہے تو انٹرنیٹ اسے دوبارہ یاد کروا دیتا ہے۔ اور یہ سب انٹرنیٹ کی بدولت تیزی سے ہو رہا ہے۔<br />
ایک <a target="_blank" href="http://ejang.jang.com.pk/6-23-2010/images/1026.gif">خبر</a> پڑھی تھی کہ ” قرآن پاک میں تحریف کا الزام، لاہور ہائیکورٹ کا یاہو،ایم ایس این، گوگل سمیت 9 ویب سائٹس بند کرنے کا حکم“۔ اس سے پہلے خاکوں والے معاملے پر فیس بک اور یوٹیوب کو بھی بین کیا گیا تھا۔ اکثر جب دوستوں میں بحث ہوتی تو میری یہی کوشش ہوتی کہ میں اس معاملے پر خاموشی اختیار کروں۔ مجھے ٹھیک طرح سمجھ نہیں آتی تھی کہ اس مسئلہ کا کیا حل ہے؟ جب کوئی زیادہ پوچھتا تو میرا جواب یہی ہوتا کہ اس مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہونا چاہئے لیکن یہ جو حل ہمارے لوگ کر رہے ہیں یہ کوئی بہتر حل نہیں۔ دیکھو جی جنہوں نے یہ گستاخی کی ہے اگر حقیقت کو تسلیم کیا جائے تو وہ اس وقت بادشاہ ہیں اور جنگل میں بادشاہ شیر ہی ہوتا ہے پھر چاہے شیر بچے دے یا انڈے اس کی مرضی۔ اگر بچے یا انڈے دینے پر اعتراض ہے تو خود شیر بنو۔ پھر کسی کی جرأت ہی نہیں ہو گی کہ وہ اس طرح کی گستاخیاں کریں۔ ایسے ویب سائیٹ بلاک کر کے تم اپنا ہی نقصان کر رہے ہو۔ عوام میں جو تھوڑا بہت شعور آ رہا ہے اسے بھی ختم کر دو گے۔<br />
اگر اسلامی تاریخ دیکھی جائے اور خاص طور پر <a target="_blank" href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B5%D9%84%D8%AD_%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%A8%DB%8C%DB%81">صلح حدیبیہ</a> کا معاہدہ دیکھا جائے تو اس کی زیادہ تر شقیں ظاہری طور پر مسلمانوں کے حق میں نہیں تھیں جس کی سب سے بڑی مثال کہ” اگر کوئی مسلمان مکہ کے لوگوں کے کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا مگر کوئی مشرک مسلمان ہو کر اپنے بزرگوں کی اجازت کے بغیر مدینہ چلا جائے تو اسے واپس کیا جائے گا۔“ لیکن اس وقت مسلمان جنگ کی پوزیشن میں نہیں تھے اور حالات کا یہی تقاضا تھا کہ مسلمان کسی طرح جنگ سے بچ جائیں۔ اسی معاہدہ جس کی زیادہ شقیں ظاہری طور پر مسلمانوں کے حق میں نہیں تھیں کی بنا پر مسلمان جنگ سے بچ گئے اور پھر اگلے سال مکہ میں داخل ہوئے۔<br />
اگر ہم اپنے آج کے حالات دیکھیں تو ہم بھی جنگ  کی پوزیشن میں نہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم پہلے ترقی کریں۔ جب ہم ترقی کر جائیں گے اور بادشاہ ہوں گے تو اول غیر مسلموں کو گستاخی کی جرأت ہی نہیں ہو گی اور اگر انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی تو ہم منہ توڑ جواب دے سکیں گے۔ لیکن اس طرف کوئی نہیں آئے گا۔ کیونکہ یہ کام یعنی مستقل مزاجی، ایمانداری، جذبے اور لگن کے ساتھ ترقی کرنا نعرے لگانے، جلوسوں میں اپنے ہی بھائیوں کے کاروبار تباہ کرنے اور ویب سائیٹ بلاک کرنے سے بہت مشکل ہے۔<br />
نبی پاکﷺ کی عظمت پر جان قربان کرنے کا نعرہ لگانا بہت آسان ہے لیکن اس کے حقیقی معنوں پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔ ایک طرف ہم انہیں گستاخی کرنے والوں کے ملکوں سے امداد لے کر چلتے ہیں اور دوسری طرف انہیں سے تعلق ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف ہم انہیں کی پروڈکٹ استعمال کر کے ان کی معیشت مستحکم کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ وہ گستاخی کیوں کرتے ہیں۔ اگر حقیقت کو تسلیم کرو تو سچ یہی ہے کہ اگر ان میں گستاخی کی جرأت ہے تو یہ سب ہماری کمزوری ہے کیونکہ انہیں پتہ ہے مسلمان کمزور ہیں زیادہ سے احتجاج کریں گے، اپنے ہی ملک کی املاک کو نقصان پہنچائیں گے، پھر چپ ہو جائیں گے، ہم سے امداد لے کر کھائیں گے اور ہماری معیشت کو طاقت ور بنائیں گے۔<br />
 کبھی کبھی سوچ آتی ہے کہ یہ سب کیا ہے ایک طرف ہم کاربونیٹڈ واٹرز کے ذائقہ تک کے معیار کو قربان نہیں کر تے اور نہ ہی ان کا متبادل بناتے ہیں اور اگر بنائیں تو ہمارے لوگ کہتے ہیں ، جی امپورٹڈ چیز تو پھر کمال کی ہوتی ہے۔ اور پھر دوسری طرف چیختے ہیں کہ وہ گستاخی کر گئے۔ کبھی سوچا ہے ایک سوئی تک ہم نہیں بنا سکتے۔ ہمارا نوجوانوں کا بس ایک ہی خواب ہے کہ کسی اچھے ملک جا کر سیٹ ہو جائیں۔ کبھی سوچا ہے یہی ہمارا ٹیلنٹ وہاں جا کر انہیں ترقی دیتا ہے اور پھر ان میں جرأت پیدا ہوتی ہے۔ نہیں یہ نہیں سوچیں گے ہم کیونکہ یہ سوچیں تو پھر بہت کچھ قربان کرنا پڑے گا اور ہم قربانی نہیں دینا چاہتے بس نعرے ہی لگا سکتے ہیں۔ کبھی سوچا کہ یہ کمپیوٹر، انٹرنیٹ، گاڑیاں حتیٰ کہ وہ بندوق جو ہماری فوج استعمال کرتی ہے، وہ جہاز جن پر ہم حج کے لئے جاتے ہیں، وہ ماربل کاٹنے کی مشینیں جنہوں سے ماربل کاٹا اور حرم پاک میں لگا، وہ گھڑی جس سے وقت دیکھ کر ہم نماز کا وقت معلوم کرتے ہیں۔ ان سب کی ٹیکنالوجی کس نے بنائی؟ میں یہ نہیں کہتا کہ ان کی پروڈکٹ استعمال نہ کرو ان کی ٹیکنالوجی استعمال نہ کرو بلکہ انہیں کی چیزیں، معلومات اور ٹیکنالوجی استعمال کر کے خود ترقی کرو۔ ان کے ملکوں میں جاؤ ان سے تعلیم حاصل کرو۔ جدید ترین ٹیکنالوجی سیکھو۔ ان کے ساتھ امن سے رہو اور یہ سمجھو کہ ہم نے معاہدہ کیا ہوا ہےاور  پھر ہر چیز خود تیار کرو، اپنے دوسرے بھائیوں کو سیکھاؤ اپنے ملک میں آ کر وہی تعلیم، وہی ٹیکنالوجی استعمال کرو اور زبردست قسم کی چیزیں تیار کرو۔ اپنے ملک کو ترقی دو، اپنی معیشیت مستحکم کرو اور پھر دیکھو وہ گستاخی کرتے ہیں یا نہیں؟ لیکن ہم یہ سب نہیں کریں گے کیونکہ ویب سائیٹس بلاک کرو اور بس کام ختم، مستقبل جائے بھاڑ میں۔<br />
او خدا کے بندو! پہلے ترقی کرو، خود کو اتنا مستحکم کرو کہ آج جس ٹیکنالوجی کو وہ کنڑول کر رہے ہیں مستقبل میں تم کنٹرول کرو اور پھر اگر کوئی گستاخانہ  ویب سائیٹ بناتا ہے یا فیس بک جیس ویب سائیٹ پر صفحہ بناتا ہے تم اسے ایک منٹ سے پہلے ختم کر سکو۔ مگر یہ کام، یہ محنت کرے کون؟ کیونکہ نعرے لگانا آسان مگر محنت کرنا بہت مشکل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/discussion-easy-but-hardwork-difficult/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>13</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کیا ہم پینڈو انسان نہیں؟</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/villager-are-not-human/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/villager-are-not-human/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 23 Jun 2010 23:23:46 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[villager]]></category>
		<category><![CDATA[villager are not human]]></category>
		<category><![CDATA[دیہاتی]]></category>
		<category><![CDATA[شہری اور دیہاتی میں تفریق]]></category>
		<category><![CDATA[پینڈو]]></category>
		<category><![CDATA[کیا پینڈو انسان نہیں؟]]></category>
		<category><![CDATA[کیا ہم پینڈو انسان نہیں؟]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=326</guid>
		<description><![CDATA[جب کسی سے پوچھا جائے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دیہات کو کم بجلی اور شہر کو زیادہ تو جواب ملتا ہے شہر میں انڈسٹری ہوتی ہے اور اگر اسے بجلی نہیں ملے گی تو انڈسٹری بند ہو جائے گی۔ شہری لوگ بجلی جانے اور گرمی لگنے پر گھر سے باہر نہیں نکل سکتے اس لئے ان کو بجلی زیادہ دی جاتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی اگر شہر کو بجلی صرف ان دو وجوہات کی بنا پر زیادہ دی جاتی ہے تو ہم دیہاتی مٹی کے ساتھ مٹی ہو جاتے ہیں تو پھر کیا فصلوں کوآنسوؤں سے سیراب کریں؟ تیل کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں آ جا کر بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویل سے کام چلایا تو بجلی بھی ”ٹھس“۔اگر انڈسٹری کے بغیر گزارہ نہیں تو زرعی ملک میں زراعت کے بغیر گزارہ کیسے ہو گا؟ میں مانتا ہوں انڈسٹری کے بغیر گزارہ نہیں لیکن کیا زراعت کے بغیر گزارہ ممکن ہے؟ کیا ہم دیہاتی گرمی لگنے پر باہر فصلوں میں جا بیٹھیں؟ کیا ہمارے بچوں کو گرمی نہیں لگتی؟ کیا ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہمارے بچے پنکھوں کے نیچے بیٹھ کر پڑھ سکیں؟ کیا ہمیں سستی بجلی دیتے ہو جو ساری ساری رات بند رکھتے ہو؟کیا ہم ٹیکس نہیں دیتے؟ کیا ہمیں ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں؟ کیا ٹھنڈا پانی پینے سے ہمارے پیٹ خراب ہو جاتے ہیں؟اوئے بتاؤ ہمیں بتاؤ کیا ہم جانور ہیں؟ کیا ہم انسان نہیں؟ کیا ہم پاکستانی نہیں؟ سیاست دانو جواب دو تم کیسے پاکستانیوں کی اتنی بڑی تعداد کو صرف دیہاتی کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہو؟ ]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
سننے میں آیا ہے کہ پاکستان کی ستر فیصد آبادی چلو اس سے کم سہی لیکن نصف سے زیادہ ضرور ہے اور وہ  دیہی علاقوں میں رہتی ہے یعنی ”پینڈو“ ہے۔ میں بھی ایک پینڈو ہوں۔<br />
مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ شہریوں کو زیادہ حقوق اور دیہاتیوں کو کم کیوں؟ کیا ہم دیہاتی انسان نہیں ہوتے؟ ایک بات واضح کر دوں کہ تمام پاکستانی شہری میرے لئے محترم ہیں اور میں ان کی اتنی ہی قدر کرتا ہوں جتنی میں دیہاتیوں کی کرتا ہوں۔ یہاں بات قدر یا عزت کی نہیں بلکہ اپنے حق کی ہے اور میں اپنے حق کا مطالبہ کسی عام شہری سے نہیں بلکہ صاحبِ اختیار لوگوں سے کر رہا ہوں۔ عام شہری سے تو گذارش ہے کہ جہاں آپ اپنے حق کے لئے آواز اٹھاؤ وہاں اپنے دیہاتی بھائیوں کو بھی یاد رکھو۔<br />
واپس اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں کہ کیا ہم دیہاتی انسان نہیں؟ یہ خیال میرے ذہن میں اس لئے آیا کہ یہاں میرے گاؤں میں شام سات بجے کی بجلی بند ہے اور ابھی بھی بند ہے۔تقریبا 2 بجے کے قریب ایک بار آئی ۔ 30منٹ رہی اور پھر اللہ کو پیاری ہو گئی۔ ہمارے گاؤں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا شہر جلالپورجٹاں ہے۔ اگر ہم اپنے چھت پر جائیں تو شہر کی بتیاں نظر آتی ہیں۔ ابھی بجلی نے ”مت ماری“ تو میں صحن میں گیا اور پھر سوچا چھت پر جا کر دیکھتا ہوں کہ شہر کی بجلی ہے یا نہیں۔ معلوم ہوا کہ شہر میں بجلی ہے اور یہ عذاب صرف دیہاتیوں کے لئے ہے۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اکثر بھی نہیں بلکہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے۔ یہ بات آپ بھی اچھی طرح جانتے ہوں گے۔ خیر نیچے آیا لیپ ٹاپ آن کیا اور پھر کیا ؟ پھر یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔<br />
جب کسی سے پوچھا جائے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دیہات کو کم بجلی اور شہر کو زیادہ تو جواب ملتا ہے شہر میں انڈسٹری ہوتی ہے اور اگر اسے بجلی نہیں ملے گی تو انڈسٹری بند ہو جائے گی۔ شہری لوگ بجلی جانے اور گرمی لگنے پر گھر سے باہر نہیں نکل سکتے اس لئے ان کو بجلی زیادہ دی جاتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی اگر شہر کو بجلی صرف ان دو وجوہات کی بنا پر زیادہ دی جاتی ہے تو ہم دیہاتی مٹی کے ساتھ مٹی ہو جاتے ہیں تو پھر کیا فصلوں کوآنسوؤں سے سیراب کریں؟ تیل کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں آ جا کر بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویل سے کام چلایا تو بجلی بھی ”ٹھس“۔اگر انڈسٹری کے بغیر گزارہ نہیں تو زرعی ملک میں زراعت کے بغیر گزارہ کیسے ہو گا؟ میں مانتا ہوں انڈسٹری کے بغیر گزارہ نہیں لیکن کیا زراعت کے بغیر گزارہ ممکن ہے؟ کیا ہم دیہاتی گرمی لگنے پر باہر فصلوں میں جا بیٹھیں؟ کیا ہمارے بچوں کو گرمی نہیں لگتی؟ کیا ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہمارے بچے پنکھوں کے نیچے بیٹھ کر پڑھ سکیں؟ کیا ہمیں سستی بجلی دیتے ہو جو ساری ساری رات بند رکھتے ہو؟کیا ہم ٹیکس نہیں دیتے؟ کیا ہمیں ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں؟ کیا ٹھنڈا پانی پینے سے ہمارے پیٹ خراب ہو جاتے ہیں؟اوئے بتاؤ ہمیں بتاؤ کیا ہم جانور ہیں؟ کیا ہم انسان نہیں؟ کیا ہم پاکستانی نہیں؟ سیاست دانو جواب دو تم کیسے پاکستانیوں کی اتنی بڑی تعداد کو صرف دیہاتی کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہو؟<br />
صرف ایک بجلی کا مسئلہ نہیں ہر بات میں دیہاتیوں کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ مانا کہ ایک دیہات کی آبادی کم ہوتی اس لئے اس کو ساری سہولیات نہیں دی جاسکتی۔لیکن کچھ دیہات ملا کر مشترکہ سہولت تو دی جا سکتی ہے۔ جیسے سکول، کالجز اور ہسپتال وغیرہ۔ ہوتا کیا ہے کہ سکول اور ہسپتال بنائے تو جاتے ہیں لیکن پھر استاد اور ڈاکٹر صاحب غائب۔ کیونکہ ان کو لگتا ہے یہ پینڈو لوگ ہیں ان کو تعلیم اور صحت کی کیا ضرورت۔ حکومت دیہات سے زیادہ شہری سکول و کالجز اور ہسپتالوں کی نگرانی کرتی ہے لیکن دیہات کو دیہات سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ دیہات میں شہر جتنی سہولیات نہیں دی جا سکتیں لیکن جب چند دیہاتوں کو ملا کر شہر جتنی آبادی ہو جائے پھر تو سکول، کالج اور ہسپتال شہر جیسے ہونے چاہئیں۔ ہم دور دراز سفر کرنے کو تیار ہیں لیکن ہمیں بھی تعلیم اور صحت کا ویسا ہی معیار ملنا چاہئے جیسا شہری بابو کو ملتا ہے۔ یہاں ہمارے ساتھ والے گاؤں میں ہائی سکول ہے اور شہر میں بھی ہائی سکول ہے۔ دونوں میں طلباء کی تعداد میں کوئی خاص فرق نہیں لیکن شہر کے سکول کا معیار اور ہے اور گاؤں کے سکول کا معیار اور۔ جو تھوڑے بہت اچھے استاد ہیں وہ سب شہر کے سکول میں ہیں اور جو سارا دن حقہ پینے والا بندہ ہے وہ گاؤں کے سکول میں استاد ہے اور وہ سارا دن بچوں کو اسی کام لگائے رکھتا ہے۔میں مانتا ہوں چھوٹی جگہ پر چھوٹے پیمانے پر اور بڑی جگہ  پر بڑے پیمانے پر کام ہوتا ہے۔ اب ہر گاؤں میں یونیورسٹی تو نہیں بن سکتی لیکن بالکل بنیادی سہولیات تو بغیر کسی تفریق کے  ملنی چاہئیں۔شہرمیں رہنے والے کو گرمی لگتی ہے تو گاؤں میں رہنے والے کو بھی لگتی ہے۔ شہری بچے کو تعلیم کا حق ہے تو دیہاتی بچے کو بھی اتنا ہی حق ہے۔ ہم دور دراز سفر کرنے کو تیار ہیں۔ ہم پینڈو کہلوانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے لیکن خدا کے لئے ہمیں مساوی حقوق دیئے جائیں۔ پہلے ہی پیارے پاکستان میں لوگ تفرقوں میں تقسیم ہیں، کوئی صوبہ مانگ رہا ہے تو کوئی ملک۔ کوئی پنجابی کی صدا لگا رہا ہے تو کوئی سندھی کی، کوئی پاکستانی سے زیادہ بلوچی کہلوانا پسند کرتا ہے تو کوئی ہزاروی۔ اس سے پہلے کہ شہری اور پینڈو کی صدائیں بھی بلند ہونا شروع ہو جائیں۔ خدا کے لئے عوام کو پاکستانی بناؤ اور ہم جیسے پینڈو لوگوں کو بھی انسان اور پاکستانی سمجھو۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/villager-are-not-human/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>10</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>لوگ ایسا کیوں سوچتے ہیں؟</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/why-people-think-like-this/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/why-people-think-like-this/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 21 Jun 2010 20:36:42 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[our thinking]]></category>
		<category><![CDATA[why people think like this]]></category>
		<category><![CDATA[لوگ ایسا کیوں سوچتے ہیں]]></category>
		<category><![CDATA[لوگ ایسا کیوں سوچتے ہیں؟]]></category>
		<category><![CDATA[ہماری سوچ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=317</guid>
		<description><![CDATA[لو فیر پے گیا سیاپا۔۔۔ میں کئی کئی اندازے لگانے میں مصروف ہو گیا کہ یہ تخفہ صرف مفت میں مدد کرنے کا نتیجہ ہے بلکہ وہی لوگ بہتر ہیں جو پیسے لے کر ہی دوسروں کی مدد کرتے ہیں تاکہ کام کی  قدر بھی ہو اور مال بھی مل جائے؟ یا پھر وہ لوگ جو کوئی مفاد رکھ کر مدد کرتے ہیں؟  مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ انہوں نے ایسا کیوں لکھا اور کیا سوچ کر لکھا؟ کیا انہوں نے لڑکوں کی اجتماعی سوچ کو دیکھتے ہوئے ایسا کہا؟ کیا ہم لڑکے واقعی ایسے ہوتے ہیں؟ کیا عورت ذات یہی سوچتی ہے کہ مرد حضرات  ہمیشہ کسی مفاد کی خاطر ہی مدد کرتے ہیں؟  جبکہ میں اردو کمپیوٹنگ کے معاملے میں جہاں تک ہو سکے سب کو ہی جواب دیتا ہوں اور جتنی جلدی ہو سکے جواب دے دیتا ہوں۔ اس بات کی گواہی وہ مرد حضرات ضرور دیں گے جنہوں نے مجھ سے ای میل یا دیگر ذرائع سے رابطہ کیا اور جہاں تک مجھ سے ہو سکا  میں نے ان کی تھوڑی بہت مدد کی۔ یہ مسئلہ یہاں بلاگ پر لانے کا مقصد ایک تو یہ ہے کہ آپ تبصرہ کریں اور اندازہ لگائیں کہ ان محترمہ نے ایسا کیوں لکھا ہو گا؟ انہوں نے سوچا  اور لکھا ہے تو ظاہر ہے ہمارے لوگوں کی ایک سوچ یہ بھی ہے ۔ میری نظر میں یہ بھی ایک المیہ ہے اور ہمیں خود کو بدلنا ہو گا تاکہ اس سوچ کا اور اس سوچ کو پیدا کرنے والے محرکات کا خاتمہ ہو سکے یا کم از کم تھوڑا کم ہو جائے۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
پتہ نہیں یہ بات ہر معاشرے میں موجود ہے یا نہیں لیکن ہمارے معاشرے میں ضرور ہے۔ بات یہ کہ اگر آپ کو کسی گُر  کا پتہ چل گیا ہے تو پھر کسی اور کو نہ بتاؤ اگر بتاؤ تو یا تو اس کا  بہت زیادہ وقت ضائع کر کے یا پھر پیسے لے کر۔ چلو مانا کہ پروفیشنل کام نہ بتاؤ لیکن اگر کوئی بنیادی معلومات لینا چاہے یا پھر اس تعلیم کا جنون رکھتا ہو تو کم از کم بنیادی معلومات تو ضرور دینی چاہئے۔ لیکن یہاں ایسا نہیں۔ مجھے یاد ہے ایک بار میرے ایک جاننے والے کے ہاتھ کمپیوٹر کا ایک چھوٹا سا Trick لگ گیا۔ Trick کوئی ایسا نہیں تھا کہ اس سے پیسے کمائے جاتے تھے یا پھر وہ کوئی بہت بڑا فائدہ کر دینے والا تھا لیکن مجھے سیکھنے کا شوق تھا توان سے پوچھا تو کہنے لگے بہت محنت کے بعد حاصل کیا ہے اس لئے ایسے تو نہیں دیں گے خیر بڑا وقت ضائع کیا انہوں نے اور پھر وہ Trick بتایا۔ کئی بار بالکل بنیادی معلومات کے حصول کے لئے بڑی بڑی مغز ماری کرنی پڑی اور لوگوں سے رابطے کرنے پڑے ۔ کئی تو بتانے سے صاف انکار کردیتے تھے  لیکن یہ لوگ بہتر ہوتے ہیں ان کی نسب جو ای میل اور ایس ایم ایس کا جواب تک نہیں دیتے تھے۔ سوچتا اگر جواب نہیں دینا ہوتا تو پبلک کو اپنا ای میل اور نمبر دینے کی پھر ضرورت ہی کیا ہے؟خیر مجھے ان سب باتوں پر بہت غصہ آتا تھا۔ بالکل منا بھائی کی طرح سوچتا تھا کہ یہ لوگ علم اپنے پاس رکھ کر سڑاتے کیوں ہیں کسی کو دیتے کیوں نہیں۔<br />
میرا دل کرتا تھا کہ مجھے جس فائدہ مند چیز کا علم ہو وہ میں روڈ پر کھڑے ہو کر لوگوں کو پکڑ پکڑ کر بتاؤ۔ لیکن میں اس قابل تھا ہی نہیں کہ ایسا کر سکوں۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے مجھے کچھ تھوڑا بہت علم ہوتا گیا میری کوشش ہوتی کہ اگر کسی کو اس کی ضرورت ہے تو اس تک ضرور پہنچاؤں۔<br />
2006ء میں مجھے یونیکوڈ اردو کے بارے میں پتہ چلا لیکن میرا مسئلہ یہ تھا کہ میں انپیج کے فونیٹک کی بورڈ کا عادی تھا لیکن ونڈوز میں کوئی اور کی بورڈ تھا پھر کی بورڈ بنانے کی تلاش میں نکل پڑا اور بہت کچھ سیکھا۔ جب میں کی بورڈ لے آؤٹ بنا چکا تو پھر میں نے وہی کی بورڈ لے آؤٹ، اردو کے چند فونٹس اور اردو کی انسٹالیشن کا طریقہ ایک فولڈر میں رکھا اور پھر سب دوستوں کو ای میل کر دیا اس کے علاوہ جس کو ضرورت ہوتی اسے وہی فولڈر دیتا اور سمجھاتا بھی۔ یہی سلسلہ چلتا رہا  اور بعد میں میں نے ایک کتابچہ ”اردو اور کمپیوٹر“ کے نام سے لکھا۔ اس کتابچہ کو لکھنے کے پیچھے بھی وہی سوچ تھی کہ جن بنیادی معلومات کے لئے میں نے بہت مغز ماری کی ہے لیکن اگر کوئی دوسرا یہی معلومات چاہتا ہو تو آسانی سے اور اپنی زبان اردو میں حاصل کر سکے۔ اس کے بعد کئی لوگوں کو سمجھ نہ آتی تو پھر وہ ای میل یا فون پر رابطہ کرتے انہیں سمجھاتا اور کتابچہ میں بھی وہی معلومات شامل کر دیتا۔ یہ سلسلہ یہیں ختم نہ ہوا بلکہ اردو کے متعلق رابطہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور میرا ایک خاص وقت ای میلز کا جواب دینے میں ہی گزر جاتا ہے۔ لیکن میری کوشش ہوتی ہے کہ جلد از جلد جواب دے سکوں۔ خیر یہ سلسلہ اچھا بھلا چل رہا تھا (انشاءاللہ جہاں تک مجھ سے ہو سکا چلتا رہے گا)۔ مجھے کچھ دن پہلے ایک ای میل ملی۔ یہ ساری تمہید اور تحریر اسی ای میل کی وجہ سے لکھ رہا ہوں۔ ای میل کے ساتھ آنے والے نام سے تو وہ کوئی محترمہ  تھیں اب پتہ نہیں وہ محترم تھے یا واقعی محترمہ تھیں۔  خیر انہوں نے ارد و کمپیوٹنگ کے متعلق کافی سوال لکھے ہوئے تھے۔ تمام سوال بنیادی نوعیت کے ہی تھے میں نے دوسرے دن جواب دے دیا انہوں نے پھر مزید معلومات پوچھی میں نے پھر جواب دے دیا۔ اس طرح یہ سلسلہ کوئی پانچ سات ای میلز تک چلا جب ان کا مسئلہ حل ہو گیا تو انہوں نے مجھے ایک بہت اچھا تخفہ دیا۔ جو کہ صرف چند الفاظ تھے لیکن میں سوچنے اور یہ تحریر لکھنے پر مجبور ہو گیا۔ میں نے ان محترمہ کو اس وقت  کوئی جواب نہیں دیا تھا بلکہ اب اس تحریر کا ربط میل کر رہا ہوں کہ وہ بھی یہ تحریر پڑھ لیں۔<br />
ان کے الفاظ یہ تھے کہ ”آپ نے میری بہت مدد کی اس کے لئے آپ کا بہت شکریہ۔ ایک بات کہتی ہوں کہ اگر میری جگہ کوئی لڑکا ہوتا تو آپ لڑکے لوگ کبھی اس کی اتنی مدد نہ کرتے“۔<br />
لو فیر پے گیا سیاپا۔۔۔ میں کئی کئی اندازے لگانے میں مصروف ہو گیا کہ یہ تخفہ صرف مفت میں مدد کرنے کا نتیجہ ہے بلکہ وہی لوگ بہتر ہیں جو پیسے لے کر ہی دوسروں کی مدد کرتے ہیں تاکہ کام کی  قدر بھی ہو اور مال بھی مل جائے؟ یا پھر وہ لوگ جو کوئی مفاد رکھ کر مدد کرتے ہیں؟  مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ انہوں نے ایسا کیوں لکھا اور کیا سوچ کر لکھا؟ کیا انہوں نے لڑکوں کی اجتماعی سوچ کو دیکھتے ہوئے ایسا کہا؟ کیا ہم لڑکے واقعی ایسے ہوتے ہیں؟ کیا عورت ذات یہی سوچتی ہے کہ مرد حضرات  ہمیشہ کسی مفاد کی خاطر ہی مدد کرتے ہیں؟  جبکہ میں اردو کمپیوٹنگ کے معاملے میں جہاں تک ہو سکے سب کو ہی جواب دیتا ہوں اور جتنی جلدی ہو سکے جواب دے دیتا ہوں۔ اس بات کی گواہی وہ مرد حضرات ضرور دیں گے جنہوں نے مجھ سے ای میل یا دیگر ذرائع سے رابطہ کیا اور جہاں تک مجھ سے ہو سکا  میں نے ان کی تھوڑی بہت مدد کی۔<br />
یہ مسئلہ یہاں بلاگ پر لانے کا مقصد ایک تو یہ ہے کہ آپ تبصرہ کریں اور اندازہ لگائیں کہ ان محترمہ نے ایسا کیوں لکھا ہو گا؟ انہوں نے سوچا  اور لکھا ہے تو ظاہر ہے ہمارے لوگوں کی ایک سوچ یہ بھی ہے۔ میری نظر میں یہ بھی ایک المیہ ہے اور ہمیں خود کو بدلنا ہو گا تاکہ اس سوچ کا اور اس سوچ کو پیدا کرنے والے محرکات کا خاتمہ ہو سکے یا کم از کم تھوڑا کم ہو جائے۔<br />
اور دوسرا مقصد یہ کہ اگر ہو سکے تو وہ محترمہ اپنی سوچ کچھ بدل سکیں اور  جان سکیں کہ اردو کمپیوٹنگ کے حوالے سے میری تھوڑی سی کاوش یہاں سب کے لئے ہے نہ کہ صرف صنفِ نازک کے لئے اور یہ کہ جس طرح تمام عورتیں ایک جیسا نہیں سوچتی جیسے انہوں نے کچھ اور سوچا اور باقی کچھ اور طرح سوچتیں ہیں ایسے ہی  سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے بلکہ کئی مجھ جیسے پاگل بھی ہوتے ہیں (پاگل صرف اس لئے لکھا کیونکہ ان جیسوں کے لئے ہم پاگل ہی ہیں) جو صرف اس لالچ میں دوسروں کی اردو کمپیوٹنگ کے حوالے سے یا دیگر معاملات میں مدد کرتے ہیں تاکہ ہماری زبان اردواور ہمارے اپنے ترقی کر سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/why-people-think-like-this/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>30</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>دور حاضر میں بے شمار مسائل اور بیماریوں کی جڑ</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/load-shading-and-pakistani-nation/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/load-shading-and-pakistani-nation/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 25 Apr 2010 13:50:55 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[load shading and pakistani nation]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading-and-pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ اور بیمار عوام]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ اور نفسیاتی مریض]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=230</guid>
		<description><![CDATA[اللہ نہ کرے جب کسی انسان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو وہ کئی لحاظ سے بے بس ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں انرجی کسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ آج ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی بُری طرح ٹوٹے ہوئے بھی ایک عرصہ ہونے کو ہے لیکن ہمارے حکمران کرسی بچانے کے چکر میں اس مرض کا علاج کرنے کی بجائے عام کو جھوٹے دلاسے اور جھوٹے سرکاری بیان دیتے رہتے ہیں۔ انہیں بیانات اور اشتہارات پر غریب عوام کا بے شمار پیسا لگا دیا گیا ہے۔ اگر یہی پیسا اپنی واہ واہ بنانے کی بجائے کسی کام پر لگایا جاتا تو آج ہمارے حالات بالکل ٹھیک نہ سہی لیکن کم از کم آج جیسے نہ ہوتے۔
ہمیں جھوٹے دلاسے دینے والے، ہمیں بجلی کم استعمال کرنے کا کہنے والے خود آرام سے عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جن کے گھروں اور دفتروں میں بڑے بڑے جنریٹر اور یو پی ایس لگے ہیں۔ جو جہاں جائیں وہاں بجلی بند نہیں ہوتی چاہے وہ نتھیا گلی ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ٹیکسوں اور ہمارے خون پسینے کی کمائی سے ہمارے نوکر ہمیں ہی ذلت کی زندگی دے رہے ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
	اللہ نہ کرے جب کسی انسان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو وہ کئی لحاظ سے بے بس ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں انرجی کسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ آج ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی بُری طرح ٹوٹے ہوئے بھی ایک عرصہ ہونے کو ہے لیکن ہمارے حکمران کرسی بچانے کے چکر میں اس مرض کا علاج کرنے کی بجائے عوام کو جھوٹے دلاسے اور جھوٹے سرکاری بیان دیتے رہتے ہیں۔ انہیں بیانات اور اشتہارات پر غریب عوام کا بے شمار پیسا لگا دیا گیا ہے۔ اگر یہی پیسا اپنی واہ واہ بنانے کی بجائے کسی کام پر لگایا جاتا تو آج ہمارے حالات بالکل ٹھیک نہ سہی لیکن کم از کم آج جیسے نہ ہوتے۔<br />
	لوڈ شیڈنگ یعنی بجلی کا بحران ایک ایسا مرض ہے جو عوام کی زندگی کو ”الف“ سے لے کر ”ے“ تک متاثر کر رہا ہے۔ اس سے پوری قوم نفسیاتی مریض بنتی جا رہی ہے۔ جس کی مثالیں آپ کو جگہ جگہ ملیں گی۔ تمام شعبہ ہائے زندگی برباد ہورہےہیں۔ طالب علم اپنی جگہ پریشان ہے تو صنعتکار اپنی جگہ۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، غریب مزدور فاقوں پر مجبور ہورہا ہے۔ جو کام گھنٹوں میں ہو جاتے تھے وہ دنوں میں بھی نہیں ہو رہے۔ ساری ساری رات مچھر سے گانے سننے کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی کوفت میں رات جاگ کر گزارنے والے طالب علم دن کو کیا خاک پڑھائی کریں گے۔ اسی طرح مزدور دن کو مزدوری کرے گا یا اپنی نیند پوری کرے گا۔ اسی طرح ہر شعبہ ہائے زندگی کا حال ہے۔ آپ جہاں دیکھو جدھر دیکھو ہر محفل میں ہر دفتر میں غرض ہر جگہ لوگ لوڈ شیڈنگ کی ہی باتیں کرتے ہیں اور اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور اندر ہی اندر لوڈ شیڈنگ کی وجوہات کو کوستے ہیں۔ یہ عجیب سی کیفیت ذہنی مریض بنانے کے لئے کافی ہے۔<br />
	ذرا سوچئے! نیند کی کمی، ذہنی الجھن، روزگار میں کمی، پیسے کی مشکلات، فاقوں کا ڈر، پروڈکشن میں کمی، منٹوں کا کام دنوں میں اور سست رفتاری وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ چھوٹی سی مصیبتیں ہیں؟ نہیں۔ بلکہ آج کے دور میں یہ کسی عذاب سے کم نہیں۔ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی بے شمار بیماریوں اور مسائل کو گلے لگانے پر مجبور ہیں۔ ہمارا مستقبل دن بدن تاریک سے تاریک تر ہو رہا ہے۔ ہماری پوری ایک نسل نفسیاتی مریض بن رہی ہے۔ ہمیں کمر کسنے کا کہنے والے، ہمیں جھوٹے دلاسے دینے والے، ہمیں بجلی کم استعمال کرنے کا کہنے والے خود آرام سے عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جن کے گھروں اور دفتروں میں بڑے بڑے جنریٹر اور یو پی ایس لگے ہیں۔ جو جہاں جائیں وہاں بجلی بند نہیں ہوتی چاہے وہ نتھیا گلی ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ٹیکسوں اور ہمارے خون پسینے کی کمائی سے ہمارے نوکر ہمیں ہی ذلت کی زندگی دے رہے ہیں۔<br />
	اور ایک ہم عوام ہیں جو بجلی جانے پر واپڈا و دیگر حکام کو چند گالیاں اور برا بھلا کہہ کر اندر ہی اندر جلتے اور تڑپتے رہتے ہیں لیکن کوئی انقلابی قدم نہیں اٹھاتے۔ خود تو سوچتے ہیں اور عجیب عجیب سوچ کر خود کو نفسیاتی مریض تو بنا رہے ہیں لیکن جب آواز بلند کرنے یا کام کا وقت آتا ہے تو چپ کر جاتے ہیں۔<br />
	میں اپنی اس تحریر کے ذریعے اپنے ہم وطن پاکستانیوں کو دعوتِ فکر دیتا ہوں کہ وہ ذرا اپنے گھر اور گردونواح کے لوگوں کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ اس لوڈشیڈنگ کی وجہ سے وہ خود اور باقی لوگ کن کن بیماریوں اور مسائل کی وجہ سے آہستہ آہستہ اس زہر سے موت کی آغوش میں جا رہے ہیں۔ آخر پر بس اتنا کہوں گا کہ جاگو پاکستانی جاگو! اور دیکھو کہ آج کے دور میں یہ لوڈ شیڈنگ بے شمار بیماریوں اور مسائل کی جڑ ہے اور یہ کس طرح پوری ایک نسل کو نفسیاتی مریض بنا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/load-shading-and-pakistani-nation/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/wake-up-pakistan-1/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/wake-up-pakistan-1/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 18 Feb 2010 13:23:32 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[jago Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[wake up Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[wakeup]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=166</guid>
		<description><![CDATA[یہ چھوٹی اور عام سی مثال اس لئے دی ہے کہ ہم عام لوگ ہیں اور ہمارا بس بھی ان عام اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر چلتا ہے۔ جب یہ عام لوگ ہی بڑے لوگ بنتے ہیں تو بس بھی بڑی بڑی باتوں پر چلتا ہے اور پھر کرپشن اور دیگر برائیاں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔ ہم میں اور صاحبِ اقتدار میں فرق صرف چھوٹے اور بڑے پیمانے کا ہے۔ ہمارے پیمانے میں تھوڑی شراب آتی ہے تو ہم تھوڑی پیتے ہیں اور صاحبِ اقتدار کے پیمانے میں زیادہ آتی ہے تو وہ زیادہ پیتا ہے۔ فرق صرف پیمانے کا ہے ورنہ ہم ہیں ایک جیسے ہی۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; &#8220;حکومت ٹھیک ہو تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔&#8221; اس جیسے فقرات اکثر سننے کو ملتے ہیں۔ بات تو ٹھیک ہے کہ حکومت ٹھیک ہو تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور ہر لحاظ سے ایک بہترین معاشرہ وجود میں آئے گا۔ پہلی بات کہ شاید ہم یہاں یہ بھول جاتے ہیں کہ خراب چیزیں کبھی خود بخود ٹھیک نہیں ہوتیں۔ دوسرا شاید ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ جیسی عوام ہوتی ہے ویسے حکمران ہوتے ہیں۔ اگر ہم تھوڑا سا اپنا تجزیہ کریں تو یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ ہماری اکثریت سوائے حکومت اور نظام کو کوسنے کے اور کچھ نہیں کرتی۔ جبکہ ہماری اکثریت خود اندر سے خراب ہو چکی ہے۔ ہر کوئی شارٹ کٹ اور &#8220;یگاڑ&#8221; لگانے کے چکر میں ہے۔ اخلاقی قدروں کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔ یہاں چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا۔ اگر کسی کے موبائل پر غلطی سے کسی دوسرے کا لوڈ یعنی بیلنس آ جائے تو شاید ہی کوئی ہو گا جو اسے واپس کرے گا یا کرنے کا سوچے گا ورنہ اکثریت کا تو یہ حال ہے کہ شکر کریں گے کہ مفت کا مال ملا ہے۔ جبکہ اخلاقی قدروں کو دیکھا جائے تو کم از کم بیلنس واپس کرنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیئے۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; یہ چھوٹی اور عام سی مثال اس لئے دی ہے کہ ہم عام لوگ ہیں اور ہمارا بس بھی ان عام اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر چلتا ہے۔ جب یہ عام لوگ ہی بڑے لوگ بنتے ہیں تو بس بھی بڑی بڑی باتوں پر چلتا ہے اور پھر کرپشن اور دیگر برائیاں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔ ہم میں اور صاحبِ اقتدار میں فرق صرف چھوٹے اور بڑے پیمانے کا ہے۔ ہمارے پیمانے میں تھوڑی شراب آتی ہے تو ہم تھوڑی پیتے ہیں اور صاحبِ اقتدار کے پیمانے میں زیادہ آتی ہے تو وہ زیادہ پیتا ہے۔ فرق صرف پیمانے کا ہے ورنہ ہم ہیں ایک جیسے ہی۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; اگر ہم چاہتے ہیں کہ نظام بہتر ہو۔ حق دار کو اس کا حق ملے، ہر کسی کو انصاف ملے تو سب سے پہلے ہمیں خود کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ جب ہم حق داروں کو ان کا حق دیں گے، ہر کسی سے انصاف کریں گے اور سب سے بڑھ کر جب اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے تو نظام خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہو جائے گا۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; تاریخ گواہ ہے کہ جب برائی، ظلم و ستم، ناانصافی یعنی ہر طرف اندھیرے کا راج ہوتا ہے تو اس میں روشنی کی لئے دیا خود بخود روشن نہیں ہوتا بلکہ چند لوگوں کو ضرور خوابِ غفلت سے اٹھ کر آگے بڑ کر دیا جلانا پڑتا ہے۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; اے میرے ہم وطنو! بہت نیند ہو چکی اب جاگو اور دوسروں کو بھی جگاؤ۔ قطرہ قطرہ ملا کر سمندر بنا ڈالو، آگے بڑھو! دوسروں کے لئے نہ سہی کم از کم اپنے حق کے لئے تو آواز بلند کرو۔ اب نہیں تو کب اٹھو گے؟ ہم نہیں تو پھر کون جاگے گا؟ اے پاکستان کے عام شہری تم بکریوں میں رہتے رہتے یہ بھول گئے ہو کہ تم شیر ہو۔ تم ایک عام شہری ہو اور عام شہری اچھائی کا وہ فولاد ہوتا ہے جس سے جو برائی ٹکراتی ہے وہ چکنا چور ہو جاتی ہے۔اے پاکستان کے شیرو سب برائی کے پیمانے توڑ ڈالو۔ سب سے پہلے خود کو اچھائی کا فولاد بناؤ اور پھر دوسروں کو بھی بکریوں سے نکالو، انہیں آئینہ دکھاؤ اور ان میں حقیقی شعور بیدار کرو کہ تم بکری نہیں، تم شیر ہو۔<br />
اے میرے وطن کے مظلومو! پل پل غربت کی چکی میں پسنے والو! قدم قدم پر اپنی خودی کی دھجیاں اڑتی دیکھنے والو! اٹھواپنے حق کے لئے آواز بلند کرو۔ اندھیرے کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ایک دیا جلاؤ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خوابِ غفلت سے جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ۔</p>
<p>بقول شاعر<br />
کیا پوچھتے ہو یہ کیسی گھڑی ہے<br />
قیامت جیسی برسات کی جھڑی ہے</p>
<p>اپنی جان اپنا وطن بالکل آزاد ہے مگر<br />
عوام اک دوسرے کے پیچھے پڑی ہے</p>
<p>محبت کس کو کہتے ہیں بھول چکے<br />
موتیوں بغیر دیکھو خالی یہ لڑی ہے</p>
<p>کچھ ہمت کرو ساتھیو اٹھ کھڑے ہو<br />
بہت مشکل وقت کی یہ گھڑی ہے<br />
(ارمان سید)</p>
<p>جاری ہے۔۔۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/wake-up-pakistan-1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بِلو مال و مال پارلیمنٹ پہنچی</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/billo-and-youth-parliament/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/billo-and-youth-parliament/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 01 Oct 2009 19:41:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[طنزومزاح]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[abrar ul haq]]></category>
		<category><![CDATA[ibrar-ul-haq]]></category>
		<category><![CDATA[youth parliament]]></category>
		<category><![CDATA[youth parliament of pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[youthparliament.org.pk]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=147</guid>
		<description><![CDATA[&#8220;بِلو&#8221; ابھی تک گھر میں ہی تھی کہ ایک دن سکول میں تفریح کے وقت ہمارا ایک دوست کچھ گنگنا رہا تھا جب غور کیا تو پتہ چلا کہ حضرت بِلو کے گھر جانے کی صدا لگا رہے ہیں۔ تھوڑی بہت تحقیق سے پتہ چلا کہ اصل میں ابرار الحق سب کو آوازیں دے رہے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>&#8220;بِلو&#8221; ابھی تک گھر میں ہی تھی کہ ایک دن سکول میں تفریح کے وقت ہمارا ایک دوست کچھ گنگنا رہا تھا جب غور کیا تو پتہ چلا کہ حضرت بِلو کے گھر جانے کی صدا لگا رہے ہیں۔ تھوڑی بہت تحقیق سے پتہ چلا کہ اصل میں ابرار الحق سب کو آوازیں دے رہے تھے کہ جس نے بِلو کے گھر جانا ہے وہ ٹکٹ لے اور لائن میں لگ جائے۔ ابرارالحق کی آواز ہمارے دوست تک پہنچی اور اس نے بھی وہی صدا لگانی شروع کر دی۔ یہ وہ وقت تھا جب پہلی بار ابرار الحق موسیقی کی دنیا میں نمودار ہوئے۔ مجھ جیسے کئی لوگ حیران تھے کہ کیا یہ کوئی گانا ہے یا پھر مداری ہو رہی ہے؟ لیکن وقت کی تیز دھار نے مجھ جیسے کئی لوگوں کے ذہن کاٹ کر یہ بات باور کروا دی کہ یہ کوئی مداری نہیں بلکہ اب ایسے ہی گانے ہوا کریں گے۔ خیر وقت کے ساتھ ساتھ ابرار الحق کے چاہنے والوں میں اضافہ ہوتا گیا اور ابرار الحق کا ہر البم خاص طور پر نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کرتا۔ وقت گزرتا گیا اور شائد  بِلو بھی بڑی ہو چکی تھی یوں بِلو گھر سے نکلی اور جی ٹی روڈ پر آگئی۔ یہی وہ وقت تھا جب بابے بھی جوان ہونے لگے اور ان کے دل کی ٹلیاں بجنے لگیں۔ بِلو کے لشکارے پر جی ٹی روڈ پر بریکیں لگیں، اُڑتے ہوئے جہاز بھی نیچے اتر آئے، کافی گاڑیوں میں گاڑیاں &#8220;ٹھا&#8221; کر کے لگیں اور  یوں روڈ بند اور مداری شروع۔یہیں بِلو کو سائیکل پر بیٹھنے کی دعوت بھی دی گئی اور ساتھ ساتھ کچھ تھوڑے بہت میٹھے میٹھے طنز بھی ہوئے جیسے پینی پیپسی، کھانے برگر اور مقابلہ جٹ سے۔پتہ نہیں بِلو سائیکل پر بیٹھی بھی یا نہیں لیکن ابرارالحق کے &#8220;شریک&#8221; ان سے بہت جل رہے تھے۔ ابرارالحق کے اسی سائیکل کو دیکھتے ہوئے کچھ سیاست دانوں نے انتخابی نشان بھی سائیکل رکھ لیا اور ابرارالحق ان سیاست دانوں کے لئے اسی سائیکل پر ووٹ مانگنے نکل پڑے کچھ کامیابی بھی ہوئی لیکن پتہ نہیں کب وہ سائیکل پنکچر ہوا اور ساری سیاست کی ہوا نکل گئی۔یہاں یاد رہے ہمیں جتنا معلوم ہوا ہے اس کے مطابق ابرارالحق خود سیاست میں نہیں تھے بلکہ سیاست دانوں کی اشتہاری مہم میں کام کر رہے تھے۔ خیر پنکچر سائیکل کو بھیگے ہوئے دسمبر میں پیدل ساتھ ساتھ چلاتے ہوئے ابرارلحق کو سجنی کی بہت یاد آئی۔ پھر نہ جانے کب دل تڑپا اور آواز آئی کہ &#8220;دھرتی ہے ماں&#8221;۔ مجھ جیسے کئی لوگ حیران تھے کہ ابرار بھائی کو کیا ہو گیا ہے؟ پنجاب دھرتی سے ابرارالحق کو جگا جٹ مل گیا پھر اس کی کہانی شروع ہو گئی۔ جٹ کی دہشت نے اسے جرم کرنے پر مجبور کر دیا اور پھر جٹ کچہری پہنچا، سزا ہو گئی۔ جگا جیل سے رہا تو ہو گیا لیکن جگے جٹ کو دشمنوں نے کاٹ کر موت کی گھاٹ اتار دیا۔ خیر اتنے میں جی ٹی روڈ کھل گیا اور ابرارالحق لاہور پہنچ گئے۔ اب کی بار صرف ایک &#8220;بِلو&#8221; ہی نہیں پورے لاہور کی &#8220;کڑیوں&#8221; کو ابرارالحق میلہ دیکھانے لے گئے۔ میلے میں رنگ  برنگا ماحول دیکھا تو ابرارالحق کو رب کے کئی رنگ یاد آئے تو انہوں نے رب کے رنگوں کی صدا کیا لگائی پھر ماں کی یاد آئی،قربانی کا جذبہ پیدا ہوا اور اشاروں پر گاڑیاں صاف کرتے ہوئے بچوں کے دکھ بھی یاد آئے اور انہوں نے ان سب کی بھی صدا لگائی۔ بڑی حیرانی ہونے کے ساتھ ساتھ دل بہت خوش ہوا چلو ابرار بھائی نے ہم جیسے غریبوں کے لئے بھی کچھ بولا ہے۔ ابرار بھائی کا دل نرم ہو چکا تھا یوں انہوں نے ایک اور کارنامہ کر دکھایا اور صغریٰ شفیع ہسپتال بنایا۔ اس کام کے بعد ابرار بھائی نے پھر جوش مارا اور عشق کا نعرہ لگا دیا۔ نعرہ لگاتے ہوئے شہر شہر گھومنا شروع کیا۔ بِلو اور دیگر کے ساتھ ساتھ &#8220;مجاجنی&#8221;، &#8220;پریتو&#8221;، &#8220;رانو&#8221;، &#8220;پروین یا پرمین&#8221;   اور بھی بے شمار لوگوں کو ساتھ ملا لیا ابھی لوگ جمع ہوئے ہی تھے کہ اسلام آباد سے فیکس آ گئی۔ ابرار بھائی نے پیار کی پالیسی تھوڑی تبدیل کی، نوجوانوں میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ سب کے فارم پُر کیے۔ بِلو اور دیگر عاشقوں کی ٹیم لے کر اسلام آباد پارلیمنٹ میں پہنچ گئے۔یوں گھر سے نکلی بِلو مال و مال پارلیمنٹ پہنچی۔<br />
مندرجہ بالا تحریر بس کچھ مزاح لکھنے اور کچھ ابرارالحق کے بارے میں لکھنے کا شوق ہوا تو لکھ دیا۔ ویسے یہ شوق اس وقت ہوا جب کچھ دن پہلے سوشل کمیونٹی ویب سائیٹ &#8220;فیس بک&#8221; پر ابرارالحق کے دیئے ہوئے ایک لنک http://www.youtube.com/watch?v=12CHjEcY9qk  پر ایک چھوٹی سی ویڈیو دیکھی۔ ویڈیو، شاعری اور ابرارالحق کے کمنٹس کسی کے لئے متاثر کن ہوں یا نہ ہوں لیکن میرے لئے کافی متاثر کن تھے۔ دراصل وہ ویڈیو ابرارالحق کے ایک پروجیکٹ یوتھ پارلیمنٹ کے بارے میں تھی۔ یوں تو یوتھ پارلیمنٹ کا اشتہار کئی بار اخبارات میں دیکھا لیکن کچھ خاص سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ پروجیکٹ کس لئے ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔ لیکن ویڈیو میں ابرارالحق کے کمنٹس سن کر کچھ کچھ اندازہ ہوا۔ پھر یوتھ پارلیمنٹ کی ویب سائیٹ دیکھی اور اپنی کمزور سی انگریزی کو استعمال کرتے ہوئے کچھ سمجھنے کی کوشش کی تو کچھ کچھ ایسا ہی لگا کہ یہ ایک اچھا پروجیکٹ ہے۔ یوتھ پارلیمنٹ ویب سائیٹ کے ایڈمن کو ایک ای میل بھی کی تھی کہ جناب ہم جیسے لوگ جو انگریزی نہیں پڑھ سکتے ان کے بارے میں بھی کچھ سوچیں اور اگر ہو سکے تو یوتھ پارلیمنٹ کے بارے میں معلومات اردو میں بھی فراہم کر دیں۔ جب میل کا کوئی جواب نہ آیا تو فیس بک پر بھی یوتھ پارلیمنٹ کے پیج پر بھی گزارش کی لیکن پھر بھی کوئی جواب نہیں۔ خیر کوئی مسئلہ نہیں۔ ابرارالحق اور یوتھ پارلیمنٹ سے گذارش ہے کہ اردو میں بھی معلومات فراہم کریں کیونکہ جس &#8220;یوتھ&#8221; کے لئے یہ سب ہو رہا ہے اس میں بہت زیادہ لوگ مجھ جیسے ہیں جو ٹھیک طرح سے انگریزی نہیں سمجھ سکتے۔ ایک بار پھر گذارش ہے کہ خدارا ہم پر اور ہماری زبان پر پہلے ہی بہت ظلم ہو رہے ہیں اس لئے کم از کم ہمارا نہیں تو ہماری زبان کا ہی کچھ خیال کریں۔<br />
باقی آپ سب سے گذارش ہے کہ ابرارالحق کے گانے آپ کو پسند ہیں یا نہیں اس بات کو ایک طرف کر کے کم از کم یوتھ پارلیمنٹ کے بارے میں http://www.youthparliament.org.pk پر پڑھیں اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ پروجیکٹ کچھ بلکہ رتی برابر بھی بہتری لا  سکتا ہے تو اس پروجیکٹ میں ضرور شامل ہوں اوردوسروں کو بھی اس پروجیکٹ میں شامل ہونے کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ مجھ جیسے ان پڑھ کو بھی سمجھائیں اور ابرارالحق کو بھی مشورہ دیں کہ اس کو کس طرح مزید بہتر کیا جا سکتا ہے۔ ویسے میں نے مشورے کا کہہ تو دیا ہے لیکن مجھے خود معلوم نہیں کہ ابرارالحق اور یوتھ پارلیمنٹ والے مشورہ لینا پسند بھی کریں گے یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/billo-and-youth-parliament/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>توہین رسالت قانون، اصل خرابی کہاں</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/toheen-e-risalat-qanoon-asal-kharabi-kaha/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/toheen-e-risalat-qanoon-asal-kharabi-kaha/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 20 Sep 2009 00:16:55 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[توہین رسالت قانون، اصل خرابی کہاں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%d8%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84-%d8%ae%d8%b1%d8%a7%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%da%ba/</guid>
		<description><![CDATA[بسم اللہ الرحمن الرحیم
یوں تو آج کل توہین رسالت، ختم نبوت، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ پر بہت باتیں اور جگہ جگہ بحث و مباحث کا سلسلہ جاری ہے لیکن 17 ستمبر 2009ء کو روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ کے صفحہ اول پر شائع ہونے والے گورنر پنجاب کے بیان &#8220;توہین رسالت کا قانون ختم ہونا چاہیے&#8221; نے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
یوں تو آج کل توہین رسالت، ختم نبوت، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ پر بہت باتیں اور جگہ جگہ بحث و مباحث کا سلسلہ جاری ہے لیکن 17 ستمبر 2009ء کو روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ کے صفحہ اول پر شائع ہونے والے گورنر پنجاب کے بیان &#8220;توہین رسالت کا قانون ختم ہونا چاہیے&#8221; نے مجھ جیسے عام شہری کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ آج ہم یہاں اسلام میں توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے بات نہیں کریں گے بلکہ عمومی جائزہ لیں گے کیونکہ اگر اسلامی نقطہ نظر سے بات کی جائے  تو اس کے لئے علم کا معیار بھی  کافی بلند ہونا چاہے اور ویسے بھی  یہ ایک بہت حساس معاملہ ہے اور اپنے ایمان کی فکر کرتے ہوئے ایک ایک قدم پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس لئے آج ہم عمومی جائزہ ہی لیتے ہیں۔<br />
پوری دنیا میں کوئی قانون اس  لئے بنایا جاتا ہے کہ ریاستی نظام کو امن و امان سے چلایا جا سکے اور خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دی جائے تاکہ آئندہ مجرم یا کوئی دوسرا بھی سزا سے نصیحت پکڑے اور جرم سے دور رہے۔ قانون پر عملدرآمد کرانا  حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور خلاف ورزی کرنے والے کو سزا صرف اور صرف عدالت دے سکتی ہے۔ عوام کسی جرم کی نشاندہی کر سکتی ہے،جرم روکنے میں حکومت کی مدد کر سکتی ہے لیکن سزا دینے کا اختیار عام عوام کے پاس نہیں ہوتا اور جب ماورائے عدالت سزا عام شہری دینے لگتے ہیں۔ ایک تو یہ سیدھا سیدھا جرم کرتے ہیں اور دوسرا اس وجہ سے معاشرے میں شر پیدا ہوتا ہے اور سارا معاشرہ تباہ ہو کر رہ جاتا ہے۔  اگر کہیں ایسے حالات پیدا ہو جائیں جیسا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے تو اس صورت میں حکومت وقت کو خود بھی اور عام عوام کو بھی قانون پر سختی سے عمل کرنے اور کروانے کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ادارے اور حکمران نہ تو خود سو فیصد قانون پر عمل کرتے ہیں اور نہ ہی عوام سے کروا سکتے ہیں۔ جب کوئی مسئلہ بنتا ہے تو اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے عجیب عجیب بیان دے دیتے ہیں کہ فلاں قانون ٹھیک نہیں، فلاں شق تبدیل کی جائے ، یہ کیا جائے ، وہ کیا جائے وغیرہ۔۔۔<br />
ایسا ہی ایک بیان ہمارے گورنر صاحب بھی دے چکے ہیں جس کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ہم پر ایسے حکمران بیٹھے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ دنیا کا کوئی ملک، کوئی قانون نبی تو دور کی بات ایک عام انسان کی توہین کی بھی اجازت نہیں دیتا اور تو اور کسی مجرم کو اس کے جرم کی سزا کے علاوہ مزید کوئی تکلیف دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اور ایک ہمارے گورنر صاحب ہیں جو توہین رسالت کے قانون کو ختم کروانا چاہتے ہیں۔ ہاں یہاں یہ بات یاد رہے کہ توہین رسالت کی سزا کیا ہے اور کیا ہونی چاہیے اس پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی  اسمبلی اور پارلیمنٹ وغیرہ اسلامی نقطہ نظر سے ضرور بحث کر سکتی ہے اور قانون میں تبدیلی کر سکتی ہے لیکن یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ توہین رسالت کا قانون ختم ہو جائے۔ ذرا سوچئیے دنیا کا کوئی بھی انسان اپنے نبی، پیغمبریا لیڈر کی توہین برداشت نہیں کرتا۔ مسلمانوں کو ایک طرف کر کے  فرض کریں اگر کوئی ہندؤ یا کوئی دوسرا بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو کیا عیسائی یہ برداشت کریں گے؟ اگر کوئی مسلمان ہندؤں کے دیوتا کی توہین کرتا ہے تو کیا ہندؤں یہ برداشت کریں گے؟ ہر گز نہیں کریں گے اور کرنی بھی نہیں چاہئے کیونکہ جب ہم اپنی توہین ہونے پر ہتک عزت کا دعوی کر دیتے ہیں تو پھر ان لوگوں جن کو انسانوں کی ایک جماعت عظیم ہستی سمجھتی ہے کی شان میں گستاخی یا توہین کسی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہئے۔ چاہے وہ ہستی مسلمانوں کی ہو یا پھر کسی بھی مذہب کی ہو۔ کسی کی بھی توہین قابل قبول ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔ یہاں ایک بات یاد رہے کہ نظریات و عقائد سے اختلاف اور چیز ہے اور توہین و گستاخی اور چیز ہے۔<br />
 فرض کریں اگر یہ قانون ختم کر دیا جاتا ہے تو پھر ہر کسی کو چھوٹ ہو گی کہ وہ جو چاہے کرے۔ منفی ذہنیت کے مالک لوگوں کو موقع مل جائے گا اور پھر ایسے ایسے بیانات اور گستاخیاں ہو گیں کہ پوری دنیا کا معاشراتی نظام بگڑ کر رہ جائے گا۔ یہ  ہمارے کچھ لوگ اور حکمران آج ہمیں جس دنیا کے قانون کا حوالہ دیتے ہیں شاید ان کو خود معلوم نہیں کہ اُس دنیا میں ایک عام انسان کی توہین پر کیا سے کیا ہو جاتا ہے اور عدالتیں ایسے حرکت میں آتی ہیں کہ صدر تک کو اپنی فکر ہونے لگتی ہے۔ میں کوئی قانون دان تو نہیں لیکن یہ بات بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ دنیا کا کوئی قانون کسی کی مذہبی شخصیات اور مذہبی رسومات کی توہین کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا کے ہر ملک میں ایسے قانون کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔<br />
آج کل ایک اور بحث بڑی چل رہی ہے کہ مسئلہ توہین رسالت کے قانون کا نہیں بلکہ اس قانون کے غلط استعمال کا ہے۔  بات پھر وہیں آ جاتی ہے کہ قانون کا ٹھیک استعمال کرنا اور کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ دنیا میں کوئی ایسی چیز ، عہدہ اور نہ ہی کوئی قانون ایسا ہے جس کا غلط استعمال نہ کیا جاسکتا ہو۔ مثلا کوئی جھوٹی گواہی دے کر کسی کو سزا دلوا دیتا ہے اب بے گناہ کو سزا ہو جاتی ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ سب جانتے ہوئے بھی کہ گواہی کے نظام کے بغیر کام نہیں چلے گا اور آپ  سیدھا سیدھا گواہی کے نظام کو ہی ختم کروانے چل پڑیں بلکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ اس نظام کو بہتر کیا جائے۔ اگر اس میں بہتری کی گنجائش ہے تو بہتری کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور بھی پیدا کریں تاکہ کوئی جھوٹی گواہی دے ہی نہ۔ اب یہ بات تو صاف ہے کہ کسی کی مذہبی شخصیات کی توہین کا قانون اگر ختم کر دیا جائے تو بے شمار مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہاں اگر اس قانون میں کوئی کمی ہے تو اس کو بہتر کیا جائے اور اگر حکمرانوں یا انتظامی اداروں سے ٹھیک طرح قانون پر عمل درآمد نہیں کروایا جا رہا تو وہ خود کو بہتر کریں یا پھر اپنی غلطی تسلیم کریں۔ میں مانتا ہوں کہ توہین رسالت کے قانون کی آڑ میں کئی شر پسند عناصر فائدہ حاصل کرتے ہیں اور قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ بات پھر وہیں آتی ہے کہ قانون کا ٹھیک استعمال کس نے کروانا ہے؟ انتظامی اداروں کو کس نے بہتر کرنا ہے؟<br />
میری گورنر صاحب اور ہر اس بندے سے گذارش ہے جو خودکو &#8220;لبرل&#8221; ظاہر کرنے کے لئے پتہ نہیں کیا کیا بیان دے جاتے ہیں کہ جناب ذرا سوچئیے کیا اس قانون کو ختم کرنے سے معاشرے میں فساد برپا نہیں ہو گا؟ باقی اگر آپ سے انتظامی امور نہیں چلائے جاتے اور آپ کے دور حکومت میں توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال کیا جاتا ہے تو برائے مہربانی اپنی کمی کو چھپانے کے لئے قانون کو ختم کرنے کے بیان نہ دیں۔ ویسے یہ تو آپ اور ہم سب جانتے ہیں کہ اصل خرابی کہاں ہے۔۔۔</p>
<p>نوٹ:- یہ کوئی فتوی نہیں بلکہ میرے خیالات و نظریات ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ کو ان سے مکمل اتفاق ہو لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ بحث برائے تعمیر کی بجائے بحث برائے بحث شروع کر دیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/toheen-e-risalat-qanoon-asal-kharabi-kaha/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>16</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>انٹرنیٹ، جدید ٹیکنالوجی اور ہماری سوچ</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/internet-technology-aur-hamari-sooch/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/internet-technology-aur-hamari-sooch/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 10 Jun 2009 14:59:13 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[internet]]></category>
		<category><![CDATA[internet and new technology]]></category>
		<category><![CDATA[internet and our thinking]]></category>
		<category><![CDATA[internet-technology-aur-hamari-sooch]]></category>
		<category><![CDATA[our thinking]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ، جدید ٹیکنالوجی اور ہماری سوچ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=110</guid>
		<description><![CDATA[بسم اللہ الرحمن الرحیم
	آج نیٹ گردی کے دوران ایک تحریر ملی جس کا عنوان تھا &#8220;گلوبل ویلیج میں انٹرنیٹ کی دنیا کے اثرات&#8221; پڑھنی شروع کی تو حیرانی اس بات پر ہوئی کہ تحریر کا زیادہ بلکہ یوں کہیے کہ 95فیصد حصہ انٹرنیٹ کے منفی اثرات پر لکھا گیا تھا۔ حیرت کی بات ہے ہم [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
	آج نیٹ گردی کے دوران ایک تحریر ملی جس کا عنوان تھا &#8220;گلوبل ویلیج میں انٹرنیٹ کی دنیا کے اثرات&#8221; پڑھنی شروع کی تو حیرانی اس بات پر ہوئی کہ تحریر کا زیادہ بلکہ یوں کہیے کہ 95فیصد حصہ انٹرنیٹ کے منفی اثرات پر لکھا گیا تھا۔ حیرت کی بات ہے ہم ہر چیز کے صرف منفی پہلو ہی کیوں تلاش کرتے ہیں؟ یہ سوال ذہن میں تھا کہ میں نے سوچا چلو میں بھی ہر چیز کے منفی پہلو تلاش کرتا ہوں۔ بے شمار منفی پہلو سامنے آتے گئے حتیٰ کہ میں انسان کی صحت و تندرستی کے منفی پہلو تک میں کھو گیا۔ آخر میرے پرانے نظریہ کو ایک بار پھر تقویت ملی اور میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ دنیا میں کوئی چیز منفی نہیں اگر منفی ہوتی ہے تو وہ ہماری سوچ۔ بلا شبہ دنیا کی زیادہ تر ایجادات انسان کے لئے آسانی پیدا کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں جس کی مثال ہم روزمرہ ہر موڑ پر دیکھتے ہیں۔ ایک گاڑی کو استعمال کرتے ہوئے آپ تعلیم حاصل کرنے کے لئے مدرسہ جا سکتے ہیں، مریض کو ہسپتال لے جا سکتے ہیں اور غلط استعمال کرتے ہوئے جان بوجھ کر آپ اسی گاڑی کے نیچے کسی کو دے کر قتل کر سکتے ہیں، قتل کر کے بھاگ سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ حتیٰ کہ انسان اپنی صحت و تندرستی سے کسی کی اور اپنی حفاظت بھی کر سکتا ہے اور اسی تندرستی کو استعمال کر کے کسی کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ چیزیں بری نہیں ہوتیں جبکہ ان کے استعمال کرنے کے پیچھے ہماری سوچ اچھی یا بری ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ہم اچھائی یا برائی کو حاصل کرتے ہیں۔ یہی حال انٹرنیٹ کا ہے۔ اگر ہم انٹرنیٹ کا استعمال اس لئے ترک کر دیں کہ اس سے برائی آسانی سے پھیلتی ہے تو میرے خیال میں یہ دیوانے کی سوچ کے علاوہ کچھ نہیں۔<br />
جب کاغذ بنا ہو گا، جب تلوار بنی ہو گی تب بھی انسان نے شاید سوچا ہو یہ بری چیزیں ہیں ان سے برائی آسانی سے پھیلے گی۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جس کاغذ سے جس تلوار سے برائی آسانی سے پھیل سکتی ہے اس سے اچھائی بھی تو آسانی سے پھیل سکتی ہے۔ کیسی بات ہے جب یہ سب کچھ نہیں تھا، انسان کو مرے ہوئے انسان کو ٹھکانے لگانے کا فن بھی نہیں آتا تھا تب بھی شیطان نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ایک انسان کے ہاتھوں دوسرے انسان کو قتل کروا دیا تھا۔<br />
حقیقت میں ہم لوگ کنویں کے مینڈک ہیں شاید۔ ہماری سوچ شاید منفی سے شروع ہو کر منفی پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ پتہ نہیں کیوں مثبت چارج ہم پر اثر ہی نہیں کرتا۔ اسی بات پر آپ کو ایک لطیفہ نما بات سناتا ہوں۔ &#8220;میں اپنے گاؤں میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والا پہلا انسان ہوں جب میں نے شروع شروع میں بڑی مشکل سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی تو اکثر لوگوں کا یہی سوال ہوتا تھا کہ سنا ہے تم انٹرنیٹ استعمال کرتے ہو؟ جب میرا جواب ہاں میں ہوتا تو اکثر یہی کہتے، سنا ہے یہ انٹرنیٹ کوئی اچھی چیز نہیں، انٹرنیٹ پر بڑی فحاشی ہے وغیرہ وغیرہ&#8221; اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ ہمارے لوگوں کو صرف یہی بتایا گیا تھا کہ یہ غلط ہے۔انٹرنیٹ کے غلط استعمال اور فحاشی کے بارے میں بتانے والوں نے اس کی اچھائی کیوں نہ بتائی؟  آخر کیا وجہ تھی؟<br />
جب ہمارے لوگوں کو پتہ چلا کہ انٹرنیٹ ایک فحاشی کی جگہ ہے تو اکثریت نے اسے فحاشی کے لئے ہی استعمال بھی کیا (اور کر بھی رہے ہیں) آخر کیا وجہ تھی؟<br />
اس ٹیکنالوجی یعنی انٹرنیٹ کے شروع ہوتے ہی ہمیں اس کے فوائد کے بارے میں کیوں نہ بتایا گیا؟ پہلے دن سے اسے اچھائی کے لئے استعمال کیوں نہ کیا گیا؟ آخر کیا وجہ تھی؟<br />
ہمارا یہ رویہ صرف انٹرنیٹ کے ساتھ ہی نہیں تھا بلکہ ہر نئی آنے والی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ سنا ہے ٹرین اور گاڑی کے ساتھ بھی کچھ اسی طرح کا رویہ اختیار کیا گیا تھا۔ مجھے یاد ہے جب انٹرنیٹ عوام کی پہنچ میں آ رہا تھا تو اس کے فوائد کے حق میں شاید ہی کوئی لکھتا تھا زیادہ تر اس کے نقصانات کے حوالے سے ہی پڑھنے کو ملتا۔ بس عنوان بدل بدل کر ہمیں انٹرنیٹ کے نقصانات سے آگاہ کیا جاتا۔ بچوں کو انٹرنیٹ سے کیسے دور رکھنا ہے؟ نئی نسل کو یہ فحاشی کی طرف لے جارہا ہے اس سے ان کو کیسے بچایا جائے؟ وغیرہ وغیرہ<br />
ہمارے بڑے بڑے سیانے لوگوں کی اکثریت نے اکثر اپنی چھوٹی اور بند سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں جدید ٹیکنالوجی کے آتے ہی صرف اس کے نقصانات ہی بتائےاور اس سے دور رہنے کے حکم بھی صادر فرمائے۔ دنیا جدید ٹیکنالوجی کو اپنا کر ترقی کرتی گئی اور ہم نقصانات کے ڈر سے دور رہے جبکہ اگر نقصانات کے ساتھ ساتھ فوائد اور بہتر استعمال پر زور دیا جاتا تو شاید آج ہماری حالت کچھ اور ہوتی۔ اگر یہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے ہم پہلے دن سے اس ٹیکنالوجی کو خوش آمدید کہتے اور ہمارے اچھے لوگ سامنے آتے اور اس کا بہتر استعمال سامنے لاتے تو شاید برائی کی طرف جانے والوں کی تعداد پر قابو پایا جا سکتا۔ آپ چاہے ایک سروے کروا لیں تو یہ بات کھل کر سامنے آئے گی کہ ہمارے ملک میں  انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی اکثریت نے پہلے دن اس کا غلط استعمال کیا ہو گا۔ اس کی سیدھی سی وجہ یہ ہے کہ ہماری چھوٹی اور منفی سوچ کی وجہ سے شروع دن سے ہی اسے غلط الفاظ میں بیان کیا گیا۔ اچھے لوگوں کی اکثریت اس سے دور رہی تو پھر ظاہر ہے برائی نے اپنے ڈیرے تو ڈالنے ہی تھے۔ جب تک اچھے لوگوں نے اس طرف توجہ کی تب تک برائی کافی حد تک بڑ چکی تھی اور اب اس پر قابو پانا مشکل ہو چکا ہے۔<br />
خیر جو ہو چکا سو ہو چکا۔ اب ہمیں نئی ٹیکنالوجی کو خوش آمدید کہنا ہو گا اور ساتھ ہی اس کا بہتر استعمال فورا شروع کرنا ہو گا اور ساتھ ساتھ جو انٹرنیٹ اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ہو رہا ہے اس کی طرف توجہ دینی ہو گی تاکہ معاشرہ بہتر سمت میں چلے اس کے لئے ہمیں جدید ٹیکنالوجی کے مثبت پہلو سامنے لانے کے ساتھ ساتھ  اپنی و دیگر احباب کی سوچ کو مثبت چارج قبول کرنے کے قابل بھی بنانا ہو گا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/internet-technology-aur-hamari-sooch/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>17</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جن کا نام ہی تاریخ ہوتا ہے</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/jin-ka-naam-tareekh-hota-hai/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/jin-ka-naam-tareekh-hota-hai/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 09 Apr 2009 19:53:46 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایجادات، مسلمانو اٹھو]]></category>
		<category><![CDATA[جن کا نام ہی تاریخ ہوتا ہے]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=66</guid>
		<description><![CDATA[بسم اللہ الرحمن الرحیم
انسان ہمیشہ سے ترقی کی منازل تہہ کرتا رہا ہے۔ ہر دور میں کئی ایسے لوگ ہوئے جو نئی سے نئی ایجاد کرنے میں مصروف رہے اور بہتوں نے کئی ایجادات کیں۔ ماضی میں کئی ایسی ایجادات ہوئیں جو وقتی طور پر شاید اتنی اہمیت نہ رکھتی ہوں لیکن آج وہ ہماری [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
انسان ہمیشہ سے ترقی کی منازل تہہ کرتا رہا ہے۔ ہر دور میں کئی ایسے لوگ ہوئے جو نئی سے نئی ایجاد کرنے میں مصروف رہے اور بہتوں نے کئی ایجادات کیں۔ ماضی میں کئی ایسی ایجادات ہوئیں جو وقتی طور پر شاید اتنی اہمیت نہ رکھتی ہوں لیکن آج وہ ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔ جیسے سائنس کی سب سے بڑی ایجاد &#8220;پہیہ&#8221; اس کے علاوہ مختلف قسم کی لہریں اور بجلی وغیرہ وغیرہ۔<br />
عام طور پر ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ منفرد ہو، وہ کچھ ایسا کرے جو آج سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو یہی سوچ جب جنون بنتی ہے تو تو نئی راہیں کُھلتی ہیں۔ کچھ لوگوں میں یہ جنون صرف اپنی ذات کے لئے ہوتا ہے لیکن جو لوگ خلقِ خدا کی بہتری کے لئے یہ جنون اپنے سرچڑھاتے ہیں وہ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں اور ایسے لوگ تاریخ میں ہمیشہ اچھے الفاظ سے یاد کئے جاتے ہیں۔ ایسے جنونی لوگ جن کا مقصد خلقِ خدا کی بہتری کے لیے کچھ اچھا کرنا ہوتا ہے جس دن کسی معاشرے میں پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں بس اُسی دن اُس معاشرے کی تقدیر بدلنا شروع ہو جاتی ہے۔<br />
آج کے ترقی پذیر ممالک کا ماضی دیکھیں یعنی اُن کے تاریک دور کا مطالعہ کریں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ جب ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم تھا تو چند لوگ ایسے بھی تھے جو اس بات سے قطع نظر کہ اُن کا کام، اُن کی محنت، اُن کی لگن اور اُن کا جنون چھوٹا ہے یا بڑا، لیکن وہ اپنی عوام کی بہتری کے لئے کوشاں رہے۔ وقت گزرتا رہا، حالات بدلتے رہے اور تاریخ وہ دن لے آئی جب وہ ایک ترقی پذیر ملک/ممالک بن کر دنیا پر چھا گئے۔<br />
آج ہمارے حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ کہیں لوٹ مار کا بازار گرم ہے تو کہیں خون کی ہولی، کہیں قوم کے بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں تو کہیں اسی قوم کے پیسے سے عیاشی کی زندگی بسر ہو رہی ہے۔ ایک طرف حکمران دنیا سے بھیک مانگ رہے ہیں تو دوسری طرف عوام حکمرانوں سے اپنے حقوق کی بھیک مانگ رہی ہے۔ ایک طرف حکمران انا کی خاطر ظلم کی داستانیں لکھتے ہیں تو دوسری طرف عام شہری ہر چوراہے، ہر موڑ، ہر سڑک، راہ چلتے ہوئے اپنی خودی کی دھجیاں اڑانے پر مجبور ہے۔ غرض ہم لوگ ہر لحاظ سے ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔<br />
ان حالات میں عوام کسی اچھے لیڈر کی تلاش میں صبح سے شام اور شام سے پھر صبح تک انتظار کرتی ہے۔ انتظار ہے کہ ختم ہی نہیں ہو رہا۔<br />
	اے میرے ہم وطنو، اے میرے مسلمان بھائیوں اور بہنوں! اب لیڈر کا انتظار چھوڑو، خود اپنا لیڈر آپ بنو اور سب سے بڑ کر دنیا کے عظیم لیڈر کا کہا مانو، صبح سے شام تک اور پھر شام سے صبح تک انتظار کی بجائے عقل والے بنو اور دن و رات کے آنے جانے میں نشانیاں تلاش کرو۔ یہ مت سوچو کہ آپ کا کام، آپ کی محنت یا آپ کی ایجاد چھوٹی ہے یا بڑی بس خلقِ خدا کی بہتر کے لئے جنون اپنے سر چڑھا لو۔ ویسے بھی کسی کو کیا معلوم کہ آج کسی کا چھوٹا سا کام کل کو دنیا کی اہم ضرورت بنے گا اس لئے جو جتنا کر سکتا ہے وہ اتنا کرے۔ قطرہ قطرہ ملاؤ اور سمندر بنا ڈالو۔<br />
اے اس قوم کے غیور جوانو! اس قوم کا مستقبل تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اس قوم کے بوڑھے اور بچے تم سے بہتری کی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ کب تم نیند غفلت سے جاگو گے اور قوم کی بہتری کے لئے کچھ ایسا کرو گے جو آج سے پہلے اس قوم کے لئے کسی نے نہیں کیا۔ عوام امید کرتی ہے کہ تم کچھ ایسا کرو جس سے تم اُن لوگوں میں شمار ہو جاؤ جن کا نام ہی تاریخ ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/jin-ka-naam-tareekh-hota-hai/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
