<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ایم بلال کی بیاض</title>
	<atom:link href="http://mbilal.paksign.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://mbilal.paksign.com</link>
	<description>قطرہ قطرہ ملے تو بنے سمندر</description>
	<lastBuildDate>Sun, 21 Feb 2010 13:38:30 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9.2</generator>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<item>
		<title>پاکستان کی پکار۔۔۔ اے میرے نوجواں</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/call-of-pakistan-oh-my-youth/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/call-of-pakistan-oh-my-youth/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 21 Feb 2010 13:38:30 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ویڈیوز]]></category>
		<category><![CDATA[aatif saeed video]]></category>
		<category><![CDATA[call of pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Jago jagao]]></category>
		<category><![CDATA[jago Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[youth of pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[اے میرے نوجواں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان کی پکار]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان کی پکار۔۔۔ اے میرے نوجواں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=205</guid>
		<description><![CDATA[کل فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھی۔ مجھے تو بہت اچھی لگی۔ عاطف سعید صاحب نے کیا خوب کام کیا ہے۔ پاکستان کی پکار ہے جو اپنے جوانوں کو پکار رہا ہے۔ فریاد کر رہا ہے کہ ”اے میرے نوجواں کچھ تو محسوس کر“۔ ذرا اس فقرے پر غور کریں اور محسوس کرنے کی کوشش [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کل فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھی۔ مجھے تو بہت اچھی لگی۔ <a href="http://www.facebook.com/aatif.saeed">عاطف سعید</a> صاحب نے کیا خوب کام کیا ہے۔ پاکستان کی پکار ہے جو اپنے جوانوں کو پکار رہا ہے۔ فریاد کر رہا ہے کہ ”اے میرے نوجواں کچھ تو محسوس کر“۔ ذرا اس فقرے پر غور کریں اور محسوس کرنے کی کوشش کریں۔<br />
” میری فریاد سن کچھ تو محسوس کر۔۔۔میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر“<br />
میری تمام دوستوں سے گذارش ہے کہ جو بھی میری تحریر پڑھیں اگر ان کے پاس وقت ہو تو بے شک یہاں کمنٹس کرنے کی بجائے اس ویڈیو کو دیکھیں اور صرف چند لمحات کے لئے پاکستان کی پکار کے صرف اس فقرے ” میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر“ پر غور کریں۔</p>
<p><a href="http://mbilal.paksign.com/call-of-pakistan-oh-my-youth/"><em>Click here to view the embedded video.</em></a></p>
<p>اے میرے نوجواں تو میری بات سن<br />
کچھ تو محسوس کر<br />
تیرے چاروں ہے جو پھیلا ہوا<br />
اس کو محسوس کر<br />
سب مجھے نوچ کر کھا رہے ہیں یہاں<br />
بات اب کی نہیں بات صدیوں کی ہے<br />
ان کو معلوم ہے، جانتے ہیں وہ سب<br />
کتنی لاشیں گریں، کتنے بازوں کٹے<br />
کتنی ماؤں کے بیٹے جدا ہو گئے<br />
کتنی بہنوں کے آنچل جلائے گئے<br />
کتنے بچے یتیمی کو اوڑھے ہوئے میری جانب بڑھے<br />
میں اک خواب تھا<br />
ایسے گھر کا جہاں ہر کوئی رہ سکے ایک پرچم تلے<br />
نہ کوئی خوف ہو اور نہ ڈر کوئی<br />
غیر کے سامنے نہ جھکے سر کوئی<br />
میں اک خواب تھا جس کو قائد نے تعبیر تو کر دیا<br />
میرے بچے مگر اس کی تعبیر کے حرف و معانی سمجھنے سے قاصر رہے<br />
خون اپنوں کا خود ہی بہاتے رہے<br />
اپنے لاشوں کو خود ہی اٹھاتے رہے<br />
لا الہ زباں سے تو کہتے رہے<br />
اس کے معانی سے آنکھیں چراتے رہے<br />
متحد نہ ہوئے منتشر ہو گئے<br />
اور ایمان کو بیچ کر سو گئے<br />
نظم و تنظیم کی خوبیاں بھول کر<br />
میرے بچوں کی قربانیاں بھول کر<br />
اپنی دنیا میں گم اس طرح ہو گئے<br />
جوش جذبے سبھی ولولے کھو گئے<br />
بات اب کی نہیں بات صدیوں کی ہے<br />
جانتا ہوں کہ سب لوگ ایسے نہیں<br />
میری آغوش میں ایسے بچے بھی ہیں<br />
میری چاہت سے دل جن کے لبریز ہیں<br />
جن کی آنکھوں میں خوابوں کی تعبیر ہے<br />
جو سمجھتے ہیں قائد کے فرمان کو<br />
جانتے ہیں جو اقبال نے کہہ دیا<br />
ان کے دم سے ہی زندہ ہوں میں آج تک<br />
یہ میرا نام ہیں میری پہچان ہیں<br />
اے میرے نوجواں تو میری بات سن<br />
کل جو گزرا ہے تو بھی اسے دیکھے<br />
کس میں تیری بقاء ہے اسے جان لے<br />
آنے والا جو کل ہے تیرے دم سے ہے<br />
ایسا بچہ نہ بن جو مجھے نوچ کر پیٹ بھرتا رہے<br />
کام کی عظمتوں کو سمجھ نوجواں<br />
میری مٹی میں سونا ہے تیرے لئے<br />
اپنے قائد کے خوابوں کو تعبیر کر<br />
اپنے اندر کے دشمن کو خود مار دے<br />
میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر<br />
آنے والا جو کل ہے تیرے دم سے ہے<br />
اے میرے نوجواں سن میری بات سن<br />
میری فریاد سن کچھ تو محسوس کر<br />
میرے ہونے نہ ہونے کو محسوس کر<br />
اے میرے نوجواں تو میری بات سن</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/call-of-pakistan-oh-my-youth/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/wake-up-pakistan-1/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/wake-up-pakistan-1/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 18 Feb 2010 13:23:32 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[jago Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[wake up Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[wakeup]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=166</guid>
		<description><![CDATA[یہ چھوٹی اور عام سی مثال اس لئے دی ہے کہ ہم عام لوگ ہیں اور ہمارا بس بھی ان عام اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر چلتا ہے۔ جب یہ عام لوگ ہی بڑے لوگ بنتے ہیں تو بس بھی بڑی بڑی باتوں پر چلتا ہے اور پھر کرپشن اور دیگر برائیاں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔ ہم میں اور صاحبِ اقتدار میں فرق صرف چھوٹے اور بڑے پیمانے کا ہے۔ ہمارے پیمانے میں تھوڑی شراب آتی ہے تو ہم تھوڑی پیتے ہیں اور صاحبِ اقتدار کے پیمانے میں زیادہ آتی ہے تو وہ زیادہ پیتا ہے۔ فرق صرف پیمانے کا ہے ورنہ ہم ہیں ایک جیسے ہی۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; &#8220;حکومت ٹھیک ہو تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔&#8221; اس جیسے فقرات اکثر سننے کو ملتے ہیں۔ بات تو ٹھیک ہے کہ حکومت ٹھیک ہو تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور ہر لحاظ سے ایک بہترین معاشرہ وجود میں آئے گا۔ پہلی بات کہ شاید ہم یہاں یہ بھول جاتے ہیں کہ خراب چیزیں کبھی خود بخود ٹھیک نہیں ہوتیں۔ دوسرا شاید ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ جیسی عوام ہوتی ہے ویسے حکمران ہوتے ہیں۔ اگر ہم تھوڑا سا اپنا تجزیہ کریں تو یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ ہماری اکثریت سوائے حکومت اور نظام کو کوسنے کے اور کچھ نہیں کرتی۔ جبکہ ہماری اکثریت خود اندر سے خراب ہو چکی ہے۔ ہر کوئی شارٹ کٹ اور &#8220;یگاڑ&#8221; لگانے کے چکر میں ہے۔ اخلاقی قدروں کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔ یہاں چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا۔ اگر کسی کے موبائل پر غلطی سے کسی دوسرے کا لوڈ یعنی بیلنس آ جائے تو شاید ہی کوئی ہو گا جو اسے واپس کرے گا یا کرنے کا سوچے گا ورنہ اکثریت کا تو یہ حال ہے کہ شکر کریں گے کہ مفت کا مال ملا ہے۔ جبکہ اخلاقی قدروں کو دیکھا جائے تو کم از کم بیلنس واپس کرنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیئے۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; یہ چھوٹی اور عام سی مثال اس لئے دی ہے کہ ہم عام لوگ ہیں اور ہمارا بس بھی ان عام اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر چلتا ہے۔ جب یہ عام لوگ ہی بڑے لوگ بنتے ہیں تو بس بھی بڑی بڑی باتوں پر چلتا ہے اور پھر کرپشن اور دیگر برائیاں بھی بڑی ہو جاتی ہیں۔ ہم میں اور صاحبِ اقتدار میں فرق صرف چھوٹے اور بڑے پیمانے کا ہے۔ ہمارے پیمانے میں تھوڑی شراب آتی ہے تو ہم تھوڑی پیتے ہیں اور صاحبِ اقتدار کے پیمانے میں زیادہ آتی ہے تو وہ زیادہ پیتا ہے۔ فرق صرف پیمانے کا ہے ورنہ ہم ہیں ایک جیسے ہی۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; اگر ہم چاہتے ہیں کہ نظام بہتر ہو۔ حق دار کو اس کا حق ملے، ہر کسی کو انصاف ملے تو سب سے پہلے ہمیں خود کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ جب ہم حق داروں کو ان کا حق دیں گے، ہر کسی سے انصاف کریں گے اور سب سے بڑھ کر جب اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے تو نظام خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہو جائے گا۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; تاریخ گواہ ہے کہ جب برائی، ظلم و ستم، ناانصافی یعنی ہر طرف اندھیرے کا راج ہوتا ہے تو اس میں روشنی کی لئے دیا خود بخود روشن نہیں ہوتا بلکہ چند لوگوں کو ضرور خوابِ غفلت سے اٹھ کر آگے بڑ کر دیا جلانا پڑتا ہے۔<br />
&nbsp;&nbsp;&nbsp; اے میرے ہم وطنو! بہت نیند ہو چکی اب جاگو اور دوسروں کو بھی جگاؤ۔ قطرہ قطرہ ملا کر سمندر بنا ڈالو، آگے بڑھو! دوسروں کے لئے نہ سہی کم از کم اپنے حق کے لئے تو آواز بلند کرو۔ اب نہیں تو کب اٹھو گے؟ ہم نہیں تو پھر کون جاگے گا؟ اے پاکستان کے عام شہری تم بکریوں میں رہتے رہتے یہ بھول گئے ہو کہ تم شیر ہو۔ تم ایک عام شہری ہو اور عام شہری اچھائی کا وہ فولاد ہوتا ہے جس سے جو برائی ٹکراتی ہے وہ چکنا چور ہو جاتی ہے۔اے پاکستان کے شیرو سب برائی کے پیمانے توڑ ڈالو۔ سب سے پہلے خود کو اچھائی کا فولاد بناؤ اور پھر دوسروں کو بھی بکریوں سے نکالو، انہیں آئینہ دکھاؤ اور ان میں حقیقی شعور بیدار کرو کہ تم بکری نہیں، تم شیر ہو۔<br />
اے میرے وطن کے مظلومو! پل پل غربت کی چکی میں پسنے والو! قدم قدم پر اپنی خودی کی دھجیاں اڑتی دیکھنے والو! اٹھواپنے حق کے لئے آواز بلند کرو۔ اندھیرے کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ایک دیا جلاؤ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خوابِ غفلت سے جاگو، جگاؤ اور دنیا پہ چھا جاؤ۔</p>
<p>بقول شاعر<br />
کیا پوچھتے ہو یہ کیسی گھڑی ہے<br />
قیامت جیسی برسات کی جھڑی ہے</p>
<p>اپنی جان اپنا وطن بالکل آزاد ہے مگر<br />
عوام اک دوسرے کے پیچھے پڑی ہے</p>
<p>محبت کس کو کہتے ہیں بھول چکے<br />
موتیوں بغیر دیکھو خالی یہ لڑی ہے</p>
<p>کچھ ہمت کرو ساتھیو اٹھ کھڑے ہو<br />
بہت مشکل وقت کی یہ گھڑی ہے<br />
(ارمان سید)</p>
<p>جاری ہے۔۔۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/wake-up-pakistan-1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>وہ بات ہی نہ کریں جس کو کرنے کا آپ میں دم نہیں</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/load-shading-energy-crisis-and-pakistani-minister/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/load-shading-energy-crisis-and-pakistani-minister/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 17 Feb 2010 14:15:48 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[energy crisis]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading-and-pakistani-minister]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading-in-pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[pakistani-minister]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی کا بحران]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان میں بجلی کا بحران]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان میں لوڈ شیڈنگ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=157</guid>
		<description><![CDATA[حکومت اور ان کے درباریوں سے صرف ہم یہ کہتے ہیں کہ اب وہ دور نہیں رہا کہ آپ نے جو کہا عوام نے چپ چاپ سن لیا اور پھر کچھ عرصہ بعد بھول گئے۔ اب میڈیا بہت تیز ہو چکا ہے اور ساتھ ساتھ عوام کے ذہن بھی کچھ کچھ کام کرنا شروع ہو گئے جس کی وجہ سے اب یہ سچے جھوٹے وعدوں اور باتوں کو بھی یاد رکھتے ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
	دنیا کا ایک بہت عام اور سادہ سا قانون ہے کہ جو جتنے بڑے عہدے پر ہوتا ہے اس پر ذمہ داریاں بھی اتنی بڑی ہی ہوتی ہیں۔آپ کسی گھر کے سربراہ کو دیکھ لیں یا کسی بھی ادارے کے سربراہ یا باقی کام کرنے والوں کو۔ جو جتنی بڑی نوکری پر ہو گا اس پر ذمہ داریاں بھی اتنی بڑی ہوں گی۔ آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کسی کو بڑا عہدہ یا نوکری صرف اس لئے دی جاتی ہے کہ اس نے اس نوکری پر رہتے ہوئے بڑے کام اور بڑی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوتی ہیں۔<br />
	حاکمِ وقت ہونا ایک بہت بڑی نوکری اور بہت بڑا عہدہ ہوتا ہے۔ اس عام اور سادہ قانون کے تحت حاکمِ وقت پر بے شمار ذمہ داریاں ہوتی ہیں کیونکہ وہ کسی ملک وقوم کا سب سے بڑا نوکر ہوتا ہے۔ ایک عام انسان پر عام سی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جبکہ حاکمِ وقت پر پورے ملک و قوم کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں اس لئے حاکمِ وقت کو ایک ایک قدم پھونک کر رکھنا ہوتا ہے۔ ہر بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا اور اپنے درباریوں سے مشورہ کرنا ہوتا ہے۔<br />
	ہم ایک ایسی عوام ہیں جو کبھی یہ سوچتے ہی نہیں کہ ہم پر ایک قوم بننے کی ذمہ داری بھی ہے اور اوپر سے سونے پر سہاگہ کہ ہمارے حکمران بھی ہماری طرح کے ہیں کہ وہ بھی کوئی کام کرنے یا بولنے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچتے۔ ابھی چند ماہ پہلے غریب عوام کے پیسے سے لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے کے اشتہارات اخبارات میں چھاپے اور چھپوائے گئے۔ جن میں سب سے اوپر اپنی اور ساتھ ساتھ اپنے درباریوں کی تصاویر بھی تھیں۔ اشتہارات میں کہا گیا کہ دسمبر 2009 تک لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا یا پھر بڑی حد تک قابو پا لیا جائے گا۔ اسی طرح کے بے شمار بیانات بھی پڑھنے کو ملے۔ 18 جولائی 2009 کو ایک اشتہار وزارت پانی و بجلی، حکومت پاکستان کی طرف سے اکثر اخبارات میں شائع ہوا جس میں کہا گیا کہ&#8221;نئے پاور پراجیکٹس۔ خوشحالی کی روشن راہیں۔ انشاءاللہ بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر مختلف نئے پاور پراجیکٹس کی تکمیل سے دسمبر 2009 تک مزید ساڑھے 3ہزار میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔ ہمارا عزم۔روشن پاکستان۔ پاکستان میں توانائی کے شعبے کی نئی جہت۔ پاکستان الیکڑک پاور کمپنی۔&#8221; اس کے ساتھ ساتھ مختلف پراجیکٹس ، وہ کتنے میگاواٹ بجلی بنائیں گے اور کب تکمیل کو پہنچیں گے درج تھا۔اشتہار کے مطابق آخر پر مکمل ہونے والے چار پراجیکٹ بھی دسمبر تک مکمل ہو جائیں گے۔<br />
	حکومت اور ان کے درباریوں سے صرف ہم یہ کہتے ہیں کہ اب وہ دور نہیں رہا کہ آپ نے جو کہا عوام نے چپ چاپ سن لیا اور پھر کچھ عرصہ بعد بھول گئے۔ اب میڈیا بہت تیز ہو چکا ہے اور ساتھ ساتھ عوام کے ذہن بھی کچھ کچھ کام کرنا شروع ہو گئے جس کی وجہ سے اب یہ سچے جھوٹے وعدوں اور باتوں کو بھی یاد رکھتے ہیں۔<br />
ہم حکومت سے صرف یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ نئے پاور پراجیکٹس کہاں ہیں؟ وہ خوشحالی کی روشن راہیں کہاں گم ہو گئیں؟ وہ دسمبر 2009 تک ملنے والی ساڑھے 3 ہزار میگا واٹ بجلی کونسی زمین نگل گئی؟ آپ کا عزم اور اس کے تحت روشن پاکستان کہاں ہے؟ پاکستان میں توانائی کے شعبے کی نئی جہت تو کہیں نظر نہیں آ رہی۔ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کیا بس نام کی ہی تھی؟ روشن پاکستان کے خواب دیکھانے والوں کو صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ روشن پاکستان کی عوام آج بھی پندرہ پندرہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ برداشت کر رہی ہے۔ طالب علم  موم بتیاں جلا کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔ کارخانے بند ہو رہے ہیں۔ مزدور بے روزگار ہو رہیں۔ مگر آپ کروڑوں کے اشتہارات دے کر آخر کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں؟<br />
حکومت سے گذارش ہے کہ کم از کم دنیا کے اس عام اور سادہ قانون کو ہی پہچان لو۔ کچھ بولنے سے پہلے کم از کم سوچ ہی لیا کرو۔ رب نے آپ کو بڑے عہدوں پر بٹھایا ہے تو آپ پر ذمہ داریاں بھی بڑی ہیں۔ کچھ اپنی ذمہ داریاں اور اپنے عہدوں کا ہی خیال کیا کرو۔ غریب عوام کے پیسے سے اخبارات میں اشتہار دینے سے پہلے کچھ سروے یا کچھ درباریوں سے ہی مشورہ کر لیا کرو تاکہ بعد میں آپ کو شرمندہ نہ ہونا پڑے اور غریب عوام کا پیسا فضول اشتہارات میں ضائع بھی نہ ہو۔ اب بہانے بنانے سے بہتر تھا کہ بیانات اور اشتہارات دینے سے پہلے سب دیکھ لیتے کہ یہ کام آپ مکمل کر بھی سکو گے یا نہیں۔ ہم یہاں اخلاقی جرات کی بات نہیں کرتے کیونکہ اگر وہ بات کی جائے تو پھر کئی وزراء کو جرات کرنی پڑے گی اور اپنی ناکامی یا اپنا جھوٹ تسلیم کرتے ہوئے وزارت چھوڑنی پڑے گی۔ اس لئے ہم وہ بات ہی نہیں کرتے جس سے آپ کو تکلیف ہو۔ ہم آپ کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کرتے بس ہماری اتنی گذارش ہے کہ اپنے عہدے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور وہ بات ہی نہ کریں جس کو کرنے کا آپ میں دم نہیں۔</p>
<p><a target="_blank" href="http://express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1100672168&#038;Issue=NP_LHE&#038;Date=20090718"><br />
<img src="http://express.com.pk/images/NP_LHE/20090718/Sub_Images/1100672168-1.jpg" width="500" height="409"></a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/load-shading-energy-crisis-and-pakistani-minister/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بے ہنگم موبائل نیٹ ورک میں پھنسی عوام</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/unarranged-mobile-networks/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/unarranged-mobile-networks/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2009 13:04:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[mobile in pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[mobile networks]]></category>
		<category><![CDATA[mobile number registration in pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[number registration]]></category>
		<category><![CDATA[sim registration]]></category>
		<category><![CDATA[unarranged mobile networks]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=151</guid>
		<description><![CDATA[آلو اور ٹماٹر کا کیا بھاؤ ہے اور فلاں موبائل کنکشن کتنے کا ہے، فلاں کنکشن کے ساتھ کتنا فری بیلنس ملے گا؟ یہ وہ وقت تھا جب آپ راہ چلتے زیادہ تر دکانوں یا ریڑھی والوں سے ایسے سوالات کر سکتے تھے۔ کچھ ہماری بھیڑ چال، کچھ موبائل ٹیکنالوجی کی بھر مار اور کچھ حکومتی اداروں کی غفلت نے ایسے ایسے بیج بوئے جن کی فصل بالکل تھوڑے عرصہ میں پک کر تیار ہو چکی اور اب ہم کاٹ رہے ہیں اور مستقبل قریب میں مزید کاٹنے والے ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم </p>
<p>آلو اور ٹماٹر کا کیا بھاؤ ہے اور فلاں موبائل کنکشن کتنے کا ہے، فلاں کنکشن کے ساتھ کتنا فری بیلنس ملے گا؟ یہ وہ وقت تھا جب آپ راہ چلتے زیادہ تر دکانوں یا ریڑھی والوں سے ایسے سوالات کر سکتے تھے۔ کچھ ہماری بھیڑ چال، کچھ موبائل ٹیکنالوجی کی بھر مار اور کچھ حکومتی اداروں کی غفلت نے ایسے ایسے بیج بوئے جن کی فصل بالکل تھوڑے عرصہ میں پک کر تیار ہو چکی اور اب ہم کاٹ رہے ہیں اور مستقبل قریب میں مزید کاٹنے والے ہیں۔<br />
تقریباً 2002 سے 2007 تک موبائل کنکشن بالکل سبزی کی طرح خریدا جا سکتا تھا یعنی پیسے دو کنکشن لو۔ اس کے علاوہ اور کسی کاغذی کاروائی کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اسی دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب کنکشن کی قیمت فرض کریں 100 روپے تھی اور ساتھ 150 کا بیلنس ملتا تھا۔ اتنا اچھا موقعہ عوام نے ضائع نہیں کیا تھا یوں 100 روپے خرچ کے 150 کا بیلنس استعمال کرتے اور پھر سِم پھینک دیتے۔ کنکشن بیچتے ہوئے کوئی کاغذی کاروائی نہیں کی جاتی تھی مگر کمپنی کو کنکشن کسی کے نام پر رجسٹر کرنا ہوتا تھا۔ بس پھر کیا تھا کمپنیوں نے کنکشن فرضی ناموں پر رجسٹر کرنے شروع کر دیئے۔ جب پانی سر سے گزر چکا تو حکومتی اداروں کو خیال آیا کہ یہ سب غلط ہو رہا ہے۔ یوں موبائل کنکشن کمپنیوں پر سختی کی گئی اور حکم ہوا کہ فرضی نام کی بجائے کنکشن اصل صارف کے نام پر رجسٹر کیا جائے۔ نادرا کی مدد لیتے ہوئے کنکشن اصل صارف کے نام پر رجسٹر کرنے کا کام شروع ہوا۔ اس معاملے میں صارف کو بھی کچھ بھاگ دوڑ یا ایس ایم ایس کر کے حکومتی ادارے کو بتانا پڑتا۔ اب سارے صارف اس قابل نہیں تھے کہ وہ یہ کام کر سکتے۔ ساتھ ساتھ حکومتی ادارے نے بھی ڈیڈ لائن دے دی کہ فلاں تاریخ تک کنکشن اصل صارف کے نام رجسٹر کرو نہیں تو فرضی ناموں کے کنکشن بند کر دیئے جائیں گے۔ اس حکم نامے سے موبائل کنکشن کمپنیوں کے رنگ اُڑ گئے کہ اب کیا کیا جائے کیونکہ زیادہ تر کنکشن تو ہیں ہی فرضی ناموں پر اور اوپر سے ہر صارف کمپنی یا حکومتی ادارے سے رابطہ تو نہیں کر سکتا۔ اس کا حل کمپنیوں نے یہ ڈھونڈا کہ اِدھر اُدھر سے معلومات لو یعنی لوگوں کے شناختی کارڈ کی کاپی لو یا جو پہلے سے ہی موجود ہیں اُن پر رجسٹر کرتے جاؤ۔ آخر کار نتیجہ یہ نکلا کہ تمام کنکشن فرضی ناموں سے ٹھیک ناموں پر رجسٹر تو ہو گئے لیکن اصل صارف کے نام پر رجسٹر نہ ہو سکے۔ یوں آج بھی بے شمار کنکشن ایسے ہیں جو رجسٹرڈ کسی اور کے نام پر ہیں اور استعمال کوئی اور کر رہا ہے۔ ایک طرف تو کنکشن اصل صارف کے نام پر رجسٹر نہیں اور دوسری طرف ایسے بے شمار لوگ ہیں جنہوں نے زندگی میں کوئی کنکشن نہیں لیا لیکن اُن کے نام پر دس دس کنکشن چل رہے ہیں۔<br />
اس سارے کھیل سے عام شہری کو تو یقیناً کوئی فائدہ نہیں ہو رہا لیکن شرپسند عناصر ضرور فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ کنکشن کسی اور کے نام پر ہوتا ہے  اس لئے اُس کنکشن سے بے دھڑک لوگوں کو تنگ کیا جاتا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ کسی بڑے مسئلے میں یعنی جب حکومتی ادارے تنگ ہوتے ہیں تو وہ تلاش کرتے ہوئے اصلی صارف تک پہنچ جاتے ہیں لیکن دیگر مسائل میں گھری ہوئی عام عوام یونہی برداشت کرتی رہتی ہے۔ کئی بار ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ کچھ لوگ کسی کے گھر تک پہنچ جاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ آپ کے نام پر فلاں نمبر رجسٹرڈ ہے اور اُس نمبر سے ہمیں تنگ کیا جاتا ہے جبکہ اُس گھر والے کا وہ نمبر نہیں ہوتا۔ اس طرح کرتا کوئی ہے اور بھرتا کوئی اور ہے۔اور تو اور ذرا سوچیئے! آج کل وطن عزیز کے جو حالات چل رہے ہیں ان میں اگر کوئی کنکشن میرے، آپ کے یا کسی کے بھی نام پر رجسٹرڈ ہو اور ہمیں اُس کنکشن کے بارے میں پتہ بھی نہ ہو اور اوپر سے وہ کنکشن کسی دہشت گرد کے استعمال میں ہو اور وہ دہشت گرد اس کنکشن کو کسی دہشت گردی کی واردات میں استعمال کر دے یا وہ کنکشن کسی خود کش بمبار سے ملے یا دہشت گردی کی موقع واردات پر ملے تو سوچیئے ہمارا کیا ہو گا؟ مان لیتے ہیں بے گناہ ہونے کی وجہ سے کچھ عرصے بعد رہائی مل جائے گی لیکن وقتی طور پر اور ایک بار جیل کی ہوا اور وہاں کی خدمات لینے کے بعد ہم کیسے ہوں گے؟ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہمارے رشتہ دار ہماری تصویر لیے سپریم کورٹ کے باہر کھڑے ہوں اور ہم اُس جرم کی سزا پا رہے ہوں جو ہم نے کیا بھی نہ ہو اور ہمارا اس سے دور دور کا کوئی تعلق بھی نہ ہو بس کنکشن ہمارے نام تھا جو کہ ہم نے لیا بھی نہیں تھا۔ میرے تو ایسا لکھتے ہوئے بھی رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں۔<br />
ذرا سوچیئے! حکومتی اداروں کی غفلت اور موبائل کنکشن کمپنیوں کے پیسے کمانے کے چکر میں ایک عام شہری جو صرف موبائل کنکشن کے استعمال پر تقریباً 35 فیصد ٹیکس دیتا ہے وہ مفت میں ذلیل ہو رہا ہے۔<br />
ہماری حکومت وقت سے گذارش ہے کہ اس مسئلے کا سختی سے نہ صرف نوٹس لیا جائے بلکہ عملی اقدامات بھی کرے اور راہ چلتے ہوئے مفت میں ہمیں ذلیل نہ کریں اور اس بے ہنگم موبائل نیٹ ورک میں پھنسی عوام کو باہر نکالے۔ ساتھ میں یہ بھی یاد رکھا جائے کہ یہ عوام موبائل پر بہت ٹیکس دے رہی ہے۔</p>
<p>عام عوام سے اپیل:- میری تمام لوگوں سے بھی گذارش ہے کہ اپنے استعمال کے موبائل کنکشن اپنے نام رجسٹرڈ کروائیں اور اگر آپ کے نام پر کوئی دوسرا موبائل کنکشن رجسٹرڈ ہے تو اسے فوری بند کروائیں تاکہ کل کو کسی بڑی پریشانی سے بچا جا سکے۔<br />
٭٭٭اپنا کنکشن کس کے نام پر رجسٹرڈ ہے؟ یہ معلوم کرنے کے لیے اپنے کنکشن کو استعمال کرتے ہوئی رائٹ میسیج میں جا کر MNP لکھ کر 667 پر بھیج دیں تھوڑی دیر بعد آپ کو ایس ایم ایس موصول ہو جائے گا کہ آپ کا کنکشن کس کے نام پر ہے۔ اگر آپ کے نام پر نہیں تو فوراً قریبی متعلقہ فرنچائز سے رابطہ کریں اور کنکشن اپنے نام منتقل کروائیں۔<br />
٭٭٭اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کے نام پر کتنے موبائل کنکشن چل رہے ہیں تو کوئی بھی موبائل کنکشن استعمال کرتے ہوئے رائٹ میسیج میں جا کر اپنا شناختی کارڈ نمبر لکھ کر 668 پر بھیج دیں۔ تھوڑی دیر بعد اپ کو ایس ایم ایس موصول ہو جائے گا کہ آپ کے نام پر کتنے کنکشن ہیں۔ اگر آپ کے نام پر آپ کے استعمال سے زائد کنکشن ہوں تو فوراً قریبی متعلقہ فرنچائز رابطہ کریں۔ اُن سے اپنے نام کے تمام کنکشن کی فہرست لیں اور اپنے استعمال کے علاوہ جتنے بھی کنکشن ہوں اُن کو بند کروانے کی درخواست دیں اور یاد سے اس کام کی رسید بھی حاصل کریں۔<br />
یاد رہے 668 والی سہولت فی الحال یوفون پر میسر نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/unarranged-mobile-networks/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بِلو مال و مال پارلیمنٹ پہنچی</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/billo-and-youth-parliament/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/billo-and-youth-parliament/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 01 Oct 2009 19:41:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[طنزومزاح]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[abrar ul haq]]></category>
		<category><![CDATA[ibrar-ul-haq]]></category>
		<category><![CDATA[youth parliament]]></category>
		<category><![CDATA[youth parliament of pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[youthparliament.org.pk]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=147</guid>
		<description><![CDATA[&#8220;بِلو&#8221; ابھی تک گھر میں ہی تھی کہ ایک دن سکول میں تفریح کے وقت ہمارا ایک دوست کچھ گنگنا رہا تھا جب غور کیا تو پتہ چلا کہ حضرت بِلو کے گھر جانے کی صدا لگا رہے ہیں۔ تھوڑی بہت تحقیق سے پتہ چلا کہ اصل میں ابرار الحق سب کو آوازیں دے رہے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>&#8220;بِلو&#8221; ابھی تک گھر میں ہی تھی کہ ایک دن سکول میں تفریح کے وقت ہمارا ایک دوست کچھ گنگنا رہا تھا جب غور کیا تو پتہ چلا کہ حضرت بِلو کے گھر جانے کی صدا لگا رہے ہیں۔ تھوڑی بہت تحقیق سے پتہ چلا کہ اصل میں ابرار الحق سب کو آوازیں دے رہے تھے کہ جس نے بِلو کے گھر جانا ہے وہ ٹکٹ لے اور لائن میں لگ جائے۔ ابرارالحق کی آواز ہمارے دوست تک پہنچی اور اس نے بھی وہی صدا لگانی شروع کر دی۔ یہ وہ وقت تھا جب پہلی بار ابرار الحق موسیقی کی دنیا میں نمودار ہوئے۔ مجھ جیسے کئی لوگ حیران تھے کہ کیا یہ کوئی گانا ہے یا پھر مداری ہو رہی ہے؟ لیکن وقت کی تیز دھار نے مجھ جیسے کئی لوگوں کے ذہن کاٹ کر یہ بات باور کروا دی کہ یہ کوئی مداری نہیں بلکہ اب ایسے ہی گانے ہوا کریں گے۔ خیر وقت کے ساتھ ساتھ ابرار الحق کے چاہنے والوں میں اضافہ ہوتا گیا اور ابرار الحق کا ہر البم خاص طور پر نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کرتا۔ وقت گزرتا گیا اور شائد  بِلو بھی بڑی ہو چکی تھی یوں بِلو گھر سے نکلی اور جی ٹی روڈ پر آگئی۔ یہی وہ وقت تھا جب بابے بھی جوان ہونے لگے اور ان کے دل کی ٹلیاں بجنے لگیں۔ بِلو کے لشکارے پر جی ٹی روڈ پر بریکیں لگیں، اُڑتے ہوئے جہاز بھی نیچے اتر آئے، کافی گاڑیوں میں گاڑیاں &#8220;ٹھا&#8221; کر کے لگیں اور  یوں روڈ بند اور مداری شروع۔یہیں بِلو کو سائیکل پر بیٹھنے کی دعوت بھی دی گئی اور ساتھ ساتھ کچھ تھوڑے بہت میٹھے میٹھے طنز بھی ہوئے جیسے پینی پیپسی، کھانے برگر اور مقابلہ جٹ سے۔پتہ نہیں بِلو سائیکل پر بیٹھی بھی یا نہیں لیکن ابرارالحق کے &#8220;شریک&#8221; ان سے بہت جل رہے تھے۔ ابرارالحق کے اسی سائیکل کو دیکھتے ہوئے کچھ سیاست دانوں نے انتخابی نشان بھی سائیکل رکھ لیا اور ابرارالحق ان سیاست دانوں کے لئے اسی سائیکل پر ووٹ مانگنے نکل پڑے کچھ کامیابی بھی ہوئی لیکن پتہ نہیں کب وہ سائیکل پنکچر ہوا اور ساری سیاست کی ہوا نکل گئی۔یہاں یاد رہے ہمیں جتنا معلوم ہوا ہے اس کے مطابق ابرارالحق خود سیاست میں نہیں تھے بلکہ سیاست دانوں کی اشتہاری مہم میں کام کر رہے تھے۔ خیر پنکچر سائیکل کو بھیگے ہوئے دسمبر میں پیدل ساتھ ساتھ چلاتے ہوئے ابرارلحق کو سجنی کی بہت یاد آئی۔ پھر نہ جانے کب دل تڑپا اور آواز آئی کہ &#8220;دھرتی ہے ماں&#8221;۔ مجھ جیسے کئی لوگ حیران تھے کہ ابرار بھائی کو کیا ہو گیا ہے؟ پنجاب دھرتی سے ابرارالحق کو جگا جٹ مل گیا پھر اس کی کہانی شروع ہو گئی۔ جٹ کی دہشت نے اسے جرم کرنے پر مجبور کر دیا اور پھر جٹ کچہری پہنچا، سزا ہو گئی۔ جگا جیل سے رہا تو ہو گیا لیکن جگے جٹ کو دشمنوں نے کاٹ کر موت کی گھاٹ اتار دیا۔ خیر اتنے میں جی ٹی روڈ کھل گیا اور ابرارالحق لاہور پہنچ گئے۔ اب کی بار صرف ایک &#8220;بِلو&#8221; ہی نہیں پورے لاہور کی &#8220;کڑیوں&#8221; کو ابرارالحق میلہ دیکھانے لے گئے۔ میلے میں رنگ  برنگا ماحول دیکھا تو ابرارالحق کو رب کے کئی رنگ یاد آئے تو انہوں نے رب کے رنگوں کی صدا کیا لگائی پھر ماں کی یاد آئی،قربانی کا جذبہ پیدا ہوا اور اشاروں پر گاڑیاں صاف کرتے ہوئے بچوں کے دکھ بھی یاد آئے اور انہوں نے ان سب کی بھی صدا لگائی۔ بڑی حیرانی ہونے کے ساتھ ساتھ دل بہت خوش ہوا چلو ابرار بھائی نے ہم جیسے غریبوں کے لئے بھی کچھ بولا ہے۔ ابرار بھائی کا دل نرم ہو چکا تھا یوں انہوں نے ایک اور کارنامہ کر دکھایا اور صغریٰ شفیع ہسپتال بنایا۔ اس کام کے بعد ابرار بھائی نے پھر جوش مارا اور عشق کا نعرہ لگا دیا۔ نعرہ لگاتے ہوئے شہر شہر گھومنا شروع کیا۔ بِلو اور دیگر کے ساتھ ساتھ &#8220;مجاجنی&#8221;، &#8220;پریتو&#8221;، &#8220;رانو&#8221;، &#8220;پروین یا پرمین&#8221;   اور بھی بے شمار لوگوں کو ساتھ ملا لیا ابھی لوگ جمع ہوئے ہی تھے کہ اسلام آباد سے فیکس آ گئی۔ ابرار بھائی نے پیار کی پالیسی تھوڑی تبدیل کی، نوجوانوں میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ سب کے فارم پُر کیے۔ بِلو اور دیگر عاشقوں کی ٹیم لے کر اسلام آباد پارلیمنٹ میں پہنچ گئے۔یوں گھر سے نکلی بِلو مال و مال پارلیمنٹ پہنچی۔<br />
مندرجہ بالا تحریر بس کچھ مزاح لکھنے اور کچھ ابرارالحق کے بارے میں لکھنے کا شوق ہوا تو لکھ دیا۔ ویسے یہ شوق اس وقت ہوا جب کچھ دن پہلے سوشل کمیونٹی ویب سائیٹ &#8220;فیس بک&#8221; پر ابرارالحق کے دیئے ہوئے ایک لنک http://www.youtube.com/watch?v=12CHjEcY9qk  پر ایک چھوٹی سی ویڈیو دیکھی۔ ویڈیو، شاعری اور ابرارالحق کے کمنٹس کسی کے لئے متاثر کن ہوں یا نہ ہوں لیکن میرے لئے کافی متاثر کن تھے۔ دراصل وہ ویڈیو ابرارالحق کے ایک پروجیکٹ یوتھ پارلیمنٹ کے بارے میں تھی۔ یوں تو یوتھ پارلیمنٹ کا اشتہار کئی بار اخبارات میں دیکھا لیکن کچھ خاص سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ پروجیکٹ کس لئے ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔ لیکن ویڈیو میں ابرارالحق کے کمنٹس سن کر کچھ کچھ اندازہ ہوا۔ پھر یوتھ پارلیمنٹ کی ویب سائیٹ دیکھی اور اپنی کمزور سی انگریزی کو استعمال کرتے ہوئے کچھ سمجھنے کی کوشش کی تو کچھ کچھ ایسا ہی لگا کہ یہ ایک اچھا پروجیکٹ ہے۔ یوتھ پارلیمنٹ ویب سائیٹ کے ایڈمن کو ایک ای میل بھی کی تھی کہ جناب ہم جیسے لوگ جو انگریزی نہیں پڑھ سکتے ان کے بارے میں بھی کچھ سوچیں اور اگر ہو سکے تو یوتھ پارلیمنٹ کے بارے میں معلومات اردو میں بھی فراہم کر دیں۔ جب میل کا کوئی جواب نہ آیا تو فیس بک پر بھی یوتھ پارلیمنٹ کے پیج پر بھی گزارش کی لیکن پھر بھی کوئی جواب نہیں۔ خیر کوئی مسئلہ نہیں۔ ابرارالحق اور یوتھ پارلیمنٹ سے گذارش ہے کہ اردو میں بھی معلومات فراہم کریں کیونکہ جس &#8220;یوتھ&#8221; کے لئے یہ سب ہو رہا ہے اس میں بہت زیادہ لوگ مجھ جیسے ہیں جو ٹھیک طرح سے انگریزی نہیں سمجھ سکتے۔ ایک بار پھر گذارش ہے کہ خدارا ہم پر اور ہماری زبان پر پہلے ہی بہت ظلم ہو رہے ہیں اس لئے کم از کم ہمارا نہیں تو ہماری زبان کا ہی کچھ خیال کریں۔<br />
باقی آپ سب سے گذارش ہے کہ ابرارالحق کے گانے آپ کو پسند ہیں یا نہیں اس بات کو ایک طرف کر کے کم از کم یوتھ پارلیمنٹ کے بارے میں http://www.youthparliament.org.pk پر پڑھیں اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ پروجیکٹ کچھ بلکہ رتی برابر بھی بہتری لا  سکتا ہے تو اس پروجیکٹ میں ضرور شامل ہوں اوردوسروں کو بھی اس پروجیکٹ میں شامل ہونے کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ مجھ جیسے ان پڑھ کو بھی سمجھائیں اور ابرارالحق کو بھی مشورہ دیں کہ اس کو کس طرح مزید بہتر کیا جا سکتا ہے۔ ویسے میں نے مشورے کا کہہ تو دیا ہے لیکن مجھے خود معلوم نہیں کہ ابرارالحق اور یوتھ پارلیمنٹ والے مشورہ لینا پسند بھی کریں گے یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/billo-and-youth-parliament/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>توہین رسالت قانون، اصل خرابی کہاں</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/toheen-e-risalat-qanoon-asal-kharabi-kaha/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/toheen-e-risalat-qanoon-asal-kharabi-kaha/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 20 Sep 2009 00:16:55 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[توہین رسالت قانون، اصل خرابی کہاں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%d8%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84-%d8%ae%d8%b1%d8%a7%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%da%ba/</guid>
		<description><![CDATA[بسم اللہ الرحمن الرحیم
یوں تو آج کل توہین رسالت، ختم نبوت، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ پر بہت باتیں اور جگہ جگہ بحث و مباحث کا سلسلہ جاری ہے لیکن 17 ستمبر 2009ء کو روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ کے صفحہ اول پر شائع ہونے والے گورنر پنجاب کے بیان &#8220;توہین رسالت کا قانون ختم ہونا چاہیے&#8221; نے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
یوں تو آج کل توہین رسالت، ختم نبوت، اقلیتوں کے حقوق وغیرہ پر بہت باتیں اور جگہ جگہ بحث و مباحث کا سلسلہ جاری ہے لیکن 17 ستمبر 2009ء کو روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ کے صفحہ اول پر شائع ہونے والے گورنر پنجاب کے بیان &#8220;توہین رسالت کا قانون ختم ہونا چاہیے&#8221; نے مجھ جیسے عام شہری کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ آج ہم یہاں اسلام میں توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے بات نہیں کریں گے بلکہ عمومی جائزہ لیں گے کیونکہ اگر اسلامی نقطہ نظر سے بات کی جائے  تو اس کے لئے علم کا معیار بھی  کافی بلند ہونا چاہے اور ویسے بھی  یہ ایک بہت حساس معاملہ ہے اور اپنے ایمان کی فکر کرتے ہوئے ایک ایک قدم پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس لئے آج ہم عمومی جائزہ ہی لیتے ہیں۔<br />
پوری دنیا میں کوئی قانون اس  لئے بنایا جاتا ہے کہ ریاستی نظام کو امن و امان سے چلایا جا سکے اور خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دی جائے تاکہ آئندہ مجرم یا کوئی دوسرا بھی سزا سے نصیحت پکڑے اور جرم سے دور رہے۔ قانون پر عملدرآمد کرانا  حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور خلاف ورزی کرنے والے کو سزا صرف اور صرف عدالت دے سکتی ہے۔ عوام کسی جرم کی نشاندہی کر سکتی ہے،جرم روکنے میں حکومت کی مدد کر سکتی ہے لیکن سزا دینے کا اختیار عام عوام کے پاس نہیں ہوتا اور جب ماورائے عدالت سزا عام شہری دینے لگتے ہیں۔ ایک تو یہ سیدھا سیدھا جرم کرتے ہیں اور دوسرا اس وجہ سے معاشرے میں شر پیدا ہوتا ہے اور سارا معاشرہ تباہ ہو کر رہ جاتا ہے۔  اگر کہیں ایسے حالات پیدا ہو جائیں جیسا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے تو اس صورت میں حکومت وقت کو خود بھی اور عام عوام کو بھی قانون پر سختی سے عمل کرنے اور کروانے کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ادارے اور حکمران نہ تو خود سو فیصد قانون پر عمل کرتے ہیں اور نہ ہی عوام سے کروا سکتے ہیں۔ جب کوئی مسئلہ بنتا ہے تو اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے عجیب عجیب بیان دے دیتے ہیں کہ فلاں قانون ٹھیک نہیں، فلاں شق تبدیل کی جائے ، یہ کیا جائے ، وہ کیا جائے وغیرہ۔۔۔<br />
ایسا ہی ایک بیان ہمارے گورنر صاحب بھی دے چکے ہیں جس کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ہم پر ایسے حکمران بیٹھے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ دنیا کا کوئی ملک، کوئی قانون نبی تو دور کی بات ایک عام انسان کی توہین کی بھی اجازت نہیں دیتا اور تو اور کسی مجرم کو اس کے جرم کی سزا کے علاوہ مزید کوئی تکلیف دینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اور ایک ہمارے گورنر صاحب ہیں جو توہین رسالت کے قانون کو ختم کروانا چاہتے ہیں۔ ہاں یہاں یہ بات یاد رہے کہ توہین رسالت کی سزا کیا ہے اور کیا ہونی چاہیے اس پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی  اسمبلی اور پارلیمنٹ وغیرہ اسلامی نقطہ نظر سے ضرور بحث کر سکتی ہے اور قانون میں تبدیلی کر سکتی ہے لیکن یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ توہین رسالت کا قانون ختم ہو جائے۔ ذرا سوچئیے دنیا کا کوئی بھی انسان اپنے نبی، پیغمبریا لیڈر کی توہین برداشت نہیں کرتا۔ مسلمانوں کو ایک طرف کر کے  فرض کریں اگر کوئی ہندؤ یا کوئی دوسرا بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو کیا عیسائی یہ برداشت کریں گے؟ اگر کوئی مسلمان ہندؤں کے دیوتا کی توہین کرتا ہے تو کیا ہندؤں یہ برداشت کریں گے؟ ہر گز نہیں کریں گے اور کرنی بھی نہیں چاہئے کیونکہ جب ہم اپنی توہین ہونے پر ہتک عزت کا دعوی کر دیتے ہیں تو پھر ان لوگوں جن کو انسانوں کی ایک جماعت عظیم ہستی سمجھتی ہے کی شان میں گستاخی یا توہین کسی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہئے۔ چاہے وہ ہستی مسلمانوں کی ہو یا پھر کسی بھی مذہب کی ہو۔ کسی کی بھی توہین قابل قبول ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔ یہاں ایک بات یاد رہے کہ نظریات و عقائد سے اختلاف اور چیز ہے اور توہین و گستاخی اور چیز ہے۔<br />
 فرض کریں اگر یہ قانون ختم کر دیا جاتا ہے تو پھر ہر کسی کو چھوٹ ہو گی کہ وہ جو چاہے کرے۔ منفی ذہنیت کے مالک لوگوں کو موقع مل جائے گا اور پھر ایسے ایسے بیانات اور گستاخیاں ہو گیں کہ پوری دنیا کا معاشراتی نظام بگڑ کر رہ جائے گا۔ یہ  ہمارے کچھ لوگ اور حکمران آج ہمیں جس دنیا کے قانون کا حوالہ دیتے ہیں شاید ان کو خود معلوم نہیں کہ اُس دنیا میں ایک عام انسان کی توہین پر کیا سے کیا ہو جاتا ہے اور عدالتیں ایسے حرکت میں آتی ہیں کہ صدر تک کو اپنی فکر ہونے لگتی ہے۔ میں کوئی قانون دان تو نہیں لیکن یہ بات بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ دنیا کا کوئی قانون کسی کی مذہبی شخصیات اور مذہبی رسومات کی توہین کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا کے ہر ملک میں ایسے قانون کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔<br />
آج کل ایک اور بحث بڑی چل رہی ہے کہ مسئلہ توہین رسالت کے قانون کا نہیں بلکہ اس قانون کے غلط استعمال کا ہے۔  بات پھر وہیں آ جاتی ہے کہ قانون کا ٹھیک استعمال کرنا اور کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ دنیا میں کوئی ایسی چیز ، عہدہ اور نہ ہی کوئی قانون ایسا ہے جس کا غلط استعمال نہ کیا جاسکتا ہو۔ مثلا کوئی جھوٹی گواہی دے کر کسی کو سزا دلوا دیتا ہے اب بے گناہ کو سزا ہو جاتی ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ سب جانتے ہوئے بھی کہ گواہی کے نظام کے بغیر کام نہیں چلے گا اور آپ  سیدھا سیدھا گواہی کے نظام کو ہی ختم کروانے چل پڑیں بلکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ اس نظام کو بہتر کیا جائے۔ اگر اس میں بہتری کی گنجائش ہے تو بہتری کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور بھی پیدا کریں تاکہ کوئی جھوٹی گواہی دے ہی نہ۔ اب یہ بات تو صاف ہے کہ کسی کی مذہبی شخصیات کی توہین کا قانون اگر ختم کر دیا جائے تو بے شمار مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہاں اگر اس قانون میں کوئی کمی ہے تو اس کو بہتر کیا جائے اور اگر حکمرانوں یا انتظامی اداروں سے ٹھیک طرح قانون پر عمل درآمد نہیں کروایا جا رہا تو وہ خود کو بہتر کریں یا پھر اپنی غلطی تسلیم کریں۔ میں مانتا ہوں کہ توہین رسالت کے قانون کی آڑ میں کئی شر پسند عناصر فائدہ حاصل کرتے ہیں اور قانون کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ بات پھر وہیں آتی ہے کہ قانون کا ٹھیک استعمال کس نے کروانا ہے؟ انتظامی اداروں کو کس نے بہتر کرنا ہے؟<br />
میری گورنر صاحب اور ہر اس بندے سے گذارش ہے جو خودکو &#8220;لبرل&#8221; ظاہر کرنے کے لئے پتہ نہیں کیا کیا بیان دے جاتے ہیں کہ جناب ذرا سوچئیے کیا اس قانون کو ختم کرنے سے معاشرے میں فساد برپا نہیں ہو گا؟ باقی اگر آپ سے انتظامی امور نہیں چلائے جاتے اور آپ کے دور حکومت میں توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال کیا جاتا ہے تو برائے مہربانی اپنی کمی کو چھپانے کے لئے قانون کو ختم کرنے کے بیان نہ دیں۔ ویسے یہ تو آپ اور ہم سب جانتے ہیں کہ اصل خرابی کہاں ہے۔۔۔</p>
<p>نوٹ:- یہ کوئی فتوی نہیں بلکہ میرے خیالات و نظریات ہیں۔ ضروری نہیں کہ آپ کو ان سے مکمل اتفاق ہو لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ بحث برائے تعمیر کی بجائے بحث برائے بحث شروع کر دیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/toheen-e-risalat-qanoon-asal-kharabi-kaha/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>16</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اردو بلاگرز کے لئے چند مشورے</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/some-advices-for-urdu-blogers/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/some-advices-for-urdu-blogers/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 07 Aug 2009 23:51:12 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[some advices for urdu blogers]]></category>
		<category><![CDATA[urdu blog theme]]></category>
		<category><![CDATA[urdu blogers]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=136</guid>
		<description><![CDATA[بسم اللہ الرحمن الرحیم
اردو بلاگنگ ابھی ابتدائی مراحل میں ہونے کے ساتھ ساتھ دن بدن ترقی بھی کر رہی ہے۔ نئے لوگ اس طرف آ رہے ہیں۔ ہمیں مشاورت کے ساتھ اردو بلاگنگ کو آسان بنانا ہو گا تاکہ بلاگ پڑھنے والوں کو اور خاص طور پر نئے آنے والوں کو مشکل پیش نہ آئے۔ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
اردو بلاگنگ ابھی ابتدائی مراحل میں ہونے کے ساتھ ساتھ دن بدن ترقی بھی کر رہی ہے۔ نئے لوگ اس طرف آ رہے ہیں۔ ہمیں مشاورت کے ساتھ اردو بلاگنگ کو آسان بنانا ہو گا تاکہ بلاگ پڑھنے والوں کو اور خاص طور پر نئے آنے والوں کو مشکل پیش نہ آئے۔ کچھ دن پہلے میں اپنے <a href="http://mbilal.paksign.com/">بلاگ</a> پر کچھ تبدیلیاں کر رہا تھا۔ تبدیلیاں کرتے ہوئے کئی ایک باتیں میرے ذہن میں آئیں۔ آج انہیں باتوں کو مشوروں کے طور پر آپ لوگوں کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے ان باتوں/مشوروں سے کسی کا بھلا ہو جائے اور میری طرف سے اردو بلاگنگ کی خدمت میں ایک قطرہ شامل ہو جائے۔<br />
عام طور پر ہر انسان کی اپنی ایک پسند ہوتی ہے اور وہ کرتا بھی وہی ہے جو اسے پسند ہوتا ہے۔ سافٹ ویئر، ویب سائیٹ یا کوئی بھی چیز جو بناتے آپ خود ہیں لیکن اس کا استعمال دوسرے لوگ کرتے ہیں تو ایسی چیز بناتے ہوئے آپ کو اپنی پسند نہیں بلکہ استعمال کرنے والے زیادہ لوگوں کی پسند کو دیکھنا پڑتا ہے۔ بلاگ یا ویب سائیٹ بناتے ہوئے یہ نہ دیکھئے کہ آپ کو کیا پسند ہے بلکہ یہ دیکھیئے کہ زیادہ لوگ کیا پسند کرتے ہیں۔ یہ دیکھئے کہ بلاگ پڑھنے والے مہمانوں کو آپ کتنی آسانی دیتے اور اُن کی کتنی مہمان نوازی کرتے ہیں۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">مہمان نوازی کے لئے درج ذیل چند چیزوں کا خیال رکھیں۔</span><br />
<span style="color: #0000ff;"> •	سادگی اور ہلکے رنگوں کا انتخاب کریں کیونکہ سادگی فائدہ بھی دیتی ہے اور خوبصورت بھی ہوتی ہے۔<br />
•	اہم اور ضروری روابط کو خاص اور نمایا جگہ پر رکھیں۔<br />
•	ضرورت کے روابط کے علاوہ بے جا روابط اور دیگر غیر ضروری چیزوں کا استعمال آپ کے بلاگ کو جھنجال پورہ بنا دیتا ہے۔<br />
•	مہمان یعنی قاری اپنا قیمتی وقت آپ کے بلاگ کو دیتا ہے، پڑھتا اور تبصرہ کرتا ہے۔ جواباً آپ بھی اس کی حوصلہ افزائی کریں۔<br />
•	مہمان آپ کے بلاگ پر آتا ہے تو آپ بھی اس کی ضروریات کا خاص خیال رکھیں اور ضروری سہولیات مہیا کریں۔</span></p>
<p><span style="color: #0000ff;"><br />
</span></p>
<p>اب مندرجہ بالا نقاط کی تفصیل یعنی یہ کیوں ضروری ہیں۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;">سادگی اور ہلکے رنگوں کا انتخاب</span><br />
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بعض دوست بلاگ کو خوبصورت کرنے کے لئے بے شمار رنگوں کا استعمال کرتے ہیں جس سے ایک رنگ برنگا بلاگ تو بن جاتا ہے لیکن پڑھنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔اگر آپ کو میری طرح رنگوں کا زیادہ استعمال پسند ہے تو ضرور زیادہ رنگ استعمال کریں لیکن اسے بلاگ کے ہیڈر یا چند ایک جگہ تک محدود رکھیں۔ جہاں عام طور پر مکمل پوسٹ ہوتی ہے وہاں کوشش کریں کہ بیک گراؤنڈ کا رنگ ہلکا یعنی سفید کے قریب ترین اور تحریر کا رنگ کالا رکھیں۔ کوئی چیز پڑھتے ہوئے اگر بیک گراؤنڈ کا رنگ گاڑھا ہو اور تحریر کا رنگ ہلکا ہو تو اس سے پڑھنے والے کو اکتاہٹ ہوتی ہے بلکہ کئی لوگوں کی نظر پر بھی فرق پڑتا ہے۔ اگر آپ انٹرنیٹ کی دنیا کی مشہور ویب سائیٹس دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ زیادہ تر سائیٹس بہت سادی بنائی گئی ہیں اور ہلکے رنگوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;">اہم روابط اور ان کا مقام</span><br />
میری نظر میں کسی بھی بلاگ کے لئے چار قسم کے روابط سب سے زیادہ ضروری اور اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ تازہ ترین تحریر، زمرہ جات (موضوعات)، صفحات اور تلاش کا ربط۔ عام طور پر بلاگ کے سانچوں کو بناتے ہوئے تازہ ترین تحریر تو بلاگ پر نمایا رکھی جاتی  ہے اور کچھ پرانی اس کے ساتھ بالترتیب نیچے ہوتی ہیں اس لئے علیحدہ سے سائیڈ بار یا کسی اور جگہ تازہ ترین تحریروں کے روابط مہیا نہ ہی کئے جائیں تو بہتر ہوتا ہے۔ زمرہ جات کے روابط کسی بلاگ کے اہم ترین روابط ہوتے ہیں اس کو ہیڈر، سائیڈ بار یا جہاں بھی آپ کا دل ہو وہاں رکھیں لیکن ایسی جگہ پر رکھیں جہاں یہ نمایا نظر آئیں۔اس کے بعد ضروری روابط صفحات کے ہوتے ہیں جو عام طور پر کم ہی ہوتے ہیں۔ ان کو بھی کوئی اچھی جگہ دیں اور کوشش کریں کہ یہ بھی نمایا ہی ہوں۔تلاش کا ربط بھی اپنی ایک اہمیت رکھتا ہے اس کو بھی نمایا جگہ دی جانی چاہئے۔<br />
ان چار قسم کے روابط کے بعد کئی روابط ہوتے ہیں جیسے تازہ تبصروں کے روابط، آر ایس ایس، محفوظات اور دیگر روابط وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ روابط ہیں جن میں عام قاری یا پہلی دفعہ آنے والے قاری کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی اور جن کو ان میں دلچسپی ہوتی ہیں وہ ان کو ڈھونڈ لیتے ہیں چاہے یہ کہیں بھی رکھے گئے ہوں۔ ویسے ان روابط کو استعمال کرنے والوں میں زیادہ لوگ وہ ہوتے ہیں جو عام طور پر آپ کے بلاگ کا دورہ کرتے ہیں اور پڑھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ آپ کے بلاگ کے کونے کونے سے واقف ہوتے ہیں اور انہیں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;">غیر ضروری روابط اور چیزوں کا استعمال</span><br />
اردو بلاگنگ میں نئے آنے والوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنی ہوں گی تاکہ وہ اکتاہٹ کا شکار ہونے کی بجائے بلاگنگ کو آسان سمجھیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بعض بلاگر دوست اپنے بلاگ پر طرح طرح کے روابط اور دیگر چیزیں لگائے ہوئے ہیں۔ اگر میں نے یہاں مثال کے طور پر بھی کوئی ربط یا چیز کہی تو کئی بلاگر دوستوں کی طرف سے فتوی آ جائے گا اس لئے میں یہاں مثال دینے سے پرہیز ہی کروں گا۔ آپ لوگ مجھ سے کئی گنا سمجھدار ہیں اس لئے خود ہی سمجھیں کیونکہ میری نظر میں بلاگ کے حوالے سے ان ربط اور چیزوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ کوشش کریں کہ ضرورت کے روابط اور چیزوں کے علاوہ بے جا روابط اور چیزوں کا استعمال نہ کریں اور اپنے بلاگ کو جھنجال پورہ بننے سے بچائیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فلاں فلاں ربط اور چیزوں کی بھی بلاگ پر ضرورت ہے اور ان کا استعمال آپ کے بلاگ کو جھنجال پورہ بھی بنا رہا ہے تو اس کا آسان حل یہ ہے کہ آپ ان کاموں کے لئے علیحدہ صفحہ بنائیں یا علیحدہ سائیڈ بار استعمال کریں۔ غیر ضروری چیزوں کے استعمال کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ نئے بلاگر کے لئے بلاگ بنانے میں کئی مشکلات ہوتی ہیں اور جب وہ بلاگ بنا لیتا ہے تو لکھنے کی بجائے دوسروں کی دیکھا دیکھی فضول چیزوں کے حصول میں وقت ضائع کرتا ہے۔ کوشش کریں کہ سادگی کا سبق دیں اور نوجوانوں میں اپنا قیمتی وقت تعمیری کاموں میں لگانے کا جذبہ بیدار کریں۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;">تبصرہ کرنے والے کی حوصلہ افزائی</span><br />
قاری اپنا قیمتی وقت آپ کے بلاگ کو دیتا ہے، پڑھتا  اور تبصرہ کرتا ہے جواباً آپ کو بھی چاہئے کہ اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ قاری اگر کوئی سوال کرتا ہے تو کوشش کریں کہ جلد سے جلد اس کو جواب دیں۔ اس کے علاوہ جب چار پانچ تبصرے ہو جائیں یا ایک خاص وقت گزر جائے تو کوشش کریں کہ تمام تبصرہ کرنے والوں کا شکریہ ادا کریں۔ مزید تبصرہ کرنے والےکے بلاگ یا ویب سائیٹ کا ربط، اوتار اور اس کے بلاگ سے آخری تحریر کا عنوان بمعہ ربط اس کے تبصرے کے ساتھ ظاہر کرنے کا انتظام کریں۔ ان کاموں سے تبصرہ کرنے والے کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ آپ کے بلاگ کے ذریعے تبصرہ کرنے والے کے بلاگ کی تشہیر بھی ہو جائے گی۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;">قاری کے لئے سہولیات اور دیگر باتیں</span><br />
یوں تو بلاگ پر جتنی بھی سہولیات ہوتی ہیں ان میں زیادہ تر قاری اور تبصرہ کرنے والے کے لئے ہی ہوتی ہیں لیکن میرے خیال میں چند سہولیات ضرور دینی چاہئیں۔ جیسےبلاگ کو سادہ اور آسان فہم بنایا جائے تاکہ قاری اکتاہٹ کا شکار نہ ہو۔ ہر ربط اور چیز کو ایسے رکھا جائے کہ سب علیحدہ علیحدہ نظر آئیں نہ کہ ایک کے ساتھ دوسری ایسے ہو کہ لگے اسی کا ہی حصہ ہے۔ جن ٹیکسٹ باکس یا ایریا میں صرف انگریزی ہی لکھی جاتی ہو جیسے ای میل اور ویب سائیٹ کےٹیکسٹ باکس کے علاوہ ہر ٹیکسٹ  ایریا میں اردو ویب ایڈیٹر کا استعمال ضرور کریں تاکہ اگر کسی کے کمپیوٹر پر اردو انسٹال نہ ہو تو وہ بھی آسانی سے اردو میں تبصرہ یا تلاش کر سکے۔ تحریر کی مناسبت سے اس کا فونٹ سائز بھی مناسب رکھیں تاکہ ایک عام قاری بھی آسانی سے پڑھ سکے۔تبصرے کا اقتباس دینے کے لئے ہر تبصرے کے ساتھ اقتباس دینے کے لنک کا انتظام کریں تاکہ تبصرہ کرنے والا اس کا آسانی سے استعمال کر سکے اور  قاری کو آسانی سے پتہ چل سکے کہ کس تبصرے کا جواب دیا گیا ہے۔ کوشش کریں کہ تبصرہ کرنے والی جگہ پر جذبات ظاہر کرنے والی تصاویر کا بھی ایک حد تک انتظام کریں کیونکہ جو لوگ تحریر میں ان تصاویر کا استعمال کرتے ہیں وہ بھی خوش رہیں۔ بلاگ پر جس اردو فونٹ کا استعمال کر رہے ہیں اُس کا ڈاؤن لوڈ لنک ضرور اور نمایا جگہ پر دیں اور کوشش کریں کہ اردو کے عام طور پر استعمال ہونے والے فونٹس میں سے کوئی ایک یا چند فونٹ استعمال کریں۔ اپنے بلاگ پر یونیکوڈ اردو کی تنصیب کے حوالے سے کوئی نہ کوئی ربط ضرور دیں تاکہ یونیکوڈ اردو کا پیغام سب تک آسانی تک پہنچ سکے۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ کئی ایسے  لوگ ہیں جو انٹرنیٹ پر اردو تو لکھتے ہیں لیکن کمپیوٹر پر اردو کی تنصیب کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے کے لئے اردو ویب ایڈیٹر کا ہی استعمال کرتے ہیں۔ مہربانی کر کے اگر ہو سکے تو اپنے بلاگ پر اردو کی تنصیب کا کوئی نہ کوئی ربط ضرور دیں۔</p>
<p>مندرجہ بالا چند مشورے میری طرف سے اردو بلاگرز کے لئے ہیں۔ اگر آپ خود تھیم بنانا جانتے ہیں تو میرے خیال میں مندرجہ بالا مشوروں کو ضرور ذہن میں رکھیں اور اگر آپ خود سے تھیم نہیں بنا سکتے تو کسی ایسے تھیم کا انتخاب کریں جس میں مندرجہ بالا خصوصیات ہوں۔</p>
<p><span style="color: #0000ff;">نوٹ:- یہ میرے چند مشورے ہیں اگر دل کرے تو اپنا لیں نہیں تو آپ رد کرنے کا پورا پورا اختیار رکھتے ہیں۔ یہ میری آج تک کی سوچ ہے۔ وقت اور ٹیکنالوجی کی تبدیلی کے ساتھ میری سوچ میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔</span></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/some-advices-for-urdu-blogers/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>13</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>انٹرنیٹ، جدید ٹیکنالوجی اور ہماری سوچ</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/internet-technology-aur-hamari-sooch/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/internet-technology-aur-hamari-sooch/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 10 Jun 2009 14:59:13 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[internet]]></category>
		<category><![CDATA[internet and new technology]]></category>
		<category><![CDATA[internet and our thinking]]></category>
		<category><![CDATA[internet-technology-aur-hamari-sooch]]></category>
		<category><![CDATA[our thinking]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ، جدید ٹیکنالوجی اور ہماری سوچ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=110</guid>
		<description><![CDATA[بسم اللہ الرحمن الرحیم
	آج نیٹ گردی کے دوران ایک تحریر ملی جس کا عنوان تھا &#8220;گلوبل ویلیج میں انٹرنیٹ کی دنیا کے اثرات&#8221; پڑھنی شروع کی تو حیرانی اس بات پر ہوئی کہ تحریر کا زیادہ بلکہ یوں کہیے کہ 95فیصد حصہ انٹرنیٹ کے منفی اثرات پر لکھا گیا تھا۔ حیرت کی بات ہے ہم [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
	آج نیٹ گردی کے دوران ایک تحریر ملی جس کا عنوان تھا &#8220;گلوبل ویلیج میں انٹرنیٹ کی دنیا کے اثرات&#8221; پڑھنی شروع کی تو حیرانی اس بات پر ہوئی کہ تحریر کا زیادہ بلکہ یوں کہیے کہ 95فیصد حصہ انٹرنیٹ کے منفی اثرات پر لکھا گیا تھا۔ حیرت کی بات ہے ہم ہر چیز کے صرف منفی پہلو ہی کیوں تلاش کرتے ہیں؟ یہ سوال ذہن میں تھا کہ میں نے سوچا چلو میں بھی ہر چیز کے منفی پہلو تلاش کرتا ہوں۔ بے شمار منفی پہلو سامنے آتے گئے حتیٰ کہ میں انسان کی صحت و تندرستی کے منفی پہلو تک میں کھو گیا۔ آخر میرے پرانے نظریہ کو ایک بار پھر تقویت ملی اور میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ دنیا میں کوئی چیز منفی نہیں اگر منفی ہوتی ہے تو وہ ہماری سوچ۔ بلا شبہ دنیا کی زیادہ تر ایجادات انسان کے لئے آسانی پیدا کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں جس کی مثال ہم روزمرہ ہر موڑ پر دیکھتے ہیں۔ ایک گاڑی کو استعمال کرتے ہوئے آپ تعلیم حاصل کرنے کے لئے مدرسہ جا سکتے ہیں، مریض کو ہسپتال لے جا سکتے ہیں اور غلط استعمال کرتے ہوئے جان بوجھ کر آپ اسی گاڑی کے نیچے کسی کو دے کر قتل کر سکتے ہیں، قتل کر کے بھاگ سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ حتیٰ کہ انسان اپنی صحت و تندرستی سے کسی کی اور اپنی حفاظت بھی کر سکتا ہے اور اسی تندرستی کو استعمال کر کے کسی کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ چیزیں بری نہیں ہوتیں جبکہ ان کے استعمال کرنے کے پیچھے ہماری سوچ اچھی یا بری ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ہم اچھائی یا برائی کو حاصل کرتے ہیں۔ یہی حال انٹرنیٹ کا ہے۔ اگر ہم انٹرنیٹ کا استعمال اس لئے ترک کر دیں کہ اس سے برائی آسانی سے پھیلتی ہے تو میرے خیال میں یہ دیوانے کی سوچ کے علاوہ کچھ نہیں۔<br />
جب کاغذ بنا ہو گا، جب تلوار بنی ہو گی تب بھی انسان نے شاید سوچا ہو یہ بری چیزیں ہیں ان سے برائی آسانی سے پھیلے گی۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جس کاغذ سے جس تلوار سے برائی آسانی سے پھیل سکتی ہے اس سے اچھائی بھی تو آسانی سے پھیل سکتی ہے۔ کیسی بات ہے جب یہ سب کچھ نہیں تھا، انسان کو مرے ہوئے انسان کو ٹھکانے لگانے کا فن بھی نہیں آتا تھا تب بھی شیطان نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ایک انسان کے ہاتھوں دوسرے انسان کو قتل کروا دیا تھا۔<br />
حقیقت میں ہم لوگ کنویں کے مینڈک ہیں شاید۔ ہماری سوچ شاید منفی سے شروع ہو کر منفی پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ پتہ نہیں کیوں مثبت چارج ہم پر اثر ہی نہیں کرتا۔ اسی بات پر آپ کو ایک لطیفہ نما بات سناتا ہوں۔ &#8220;میں اپنے گاؤں میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والا پہلا انسان ہوں جب میں نے شروع شروع میں بڑی مشکل سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی تو اکثر لوگوں کا یہی سوال ہوتا تھا کہ سنا ہے تم انٹرنیٹ استعمال کرتے ہو؟ جب میرا جواب ہاں میں ہوتا تو اکثر یہی کہتے، سنا ہے یہ انٹرنیٹ کوئی اچھی چیز نہیں، انٹرنیٹ پر بڑی فحاشی ہے وغیرہ وغیرہ&#8221; اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ ہمارے لوگوں کو صرف یہی بتایا گیا تھا کہ یہ غلط ہے۔انٹرنیٹ کے غلط استعمال اور فحاشی کے بارے میں بتانے والوں نے اس کی اچھائی کیوں نہ بتائی؟  آخر کیا وجہ تھی؟<br />
جب ہمارے لوگوں کو پتہ چلا کہ انٹرنیٹ ایک فحاشی کی جگہ ہے تو اکثریت نے اسے فحاشی کے لئے ہی استعمال بھی کیا (اور کر بھی رہے ہیں) آخر کیا وجہ تھی؟<br />
اس ٹیکنالوجی یعنی انٹرنیٹ کے شروع ہوتے ہی ہمیں اس کے فوائد کے بارے میں کیوں نہ بتایا گیا؟ پہلے دن سے اسے اچھائی کے لئے استعمال کیوں نہ کیا گیا؟ آخر کیا وجہ تھی؟<br />
ہمارا یہ رویہ صرف انٹرنیٹ کے ساتھ ہی نہیں تھا بلکہ ہر نئی آنے والی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ سنا ہے ٹرین اور گاڑی کے ساتھ بھی کچھ اسی طرح کا رویہ اختیار کیا گیا تھا۔ مجھے یاد ہے جب انٹرنیٹ عوام کی پہنچ میں آ رہا تھا تو اس کے فوائد کے حق میں شاید ہی کوئی لکھتا تھا زیادہ تر اس کے نقصانات کے حوالے سے ہی پڑھنے کو ملتا۔ بس عنوان بدل بدل کر ہمیں انٹرنیٹ کے نقصانات سے آگاہ کیا جاتا۔ بچوں کو انٹرنیٹ سے کیسے دور رکھنا ہے؟ نئی نسل کو یہ فحاشی کی طرف لے جارہا ہے اس سے ان کو کیسے بچایا جائے؟ وغیرہ وغیرہ<br />
ہمارے بڑے بڑے سیانے لوگوں کی اکثریت نے اکثر اپنی چھوٹی اور بند سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں جدید ٹیکنالوجی کے آتے ہی صرف اس کے نقصانات ہی بتائےاور اس سے دور رہنے کے حکم بھی صادر فرمائے۔ دنیا جدید ٹیکنالوجی کو اپنا کر ترقی کرتی گئی اور ہم نقصانات کے ڈر سے دور رہے جبکہ اگر نقصانات کے ساتھ ساتھ فوائد اور بہتر استعمال پر زور دیا جاتا تو شاید آج ہماری حالت کچھ اور ہوتی۔ اگر یہ رویہ اختیار کرنے کی بجائے ہم پہلے دن سے اس ٹیکنالوجی کو خوش آمدید کہتے اور ہمارے اچھے لوگ سامنے آتے اور اس کا بہتر استعمال سامنے لاتے تو شاید برائی کی طرف جانے والوں کی تعداد پر قابو پایا جا سکتا۔ آپ چاہے ایک سروے کروا لیں تو یہ بات کھل کر سامنے آئے گی کہ ہمارے ملک میں  انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی اکثریت نے پہلے دن اس کا غلط استعمال کیا ہو گا۔ اس کی سیدھی سی وجہ یہ ہے کہ ہماری چھوٹی اور منفی سوچ کی وجہ سے شروع دن سے ہی اسے غلط الفاظ میں بیان کیا گیا۔ اچھے لوگوں کی اکثریت اس سے دور رہی تو پھر ظاہر ہے برائی نے اپنے ڈیرے تو ڈالنے ہی تھے۔ جب تک اچھے لوگوں نے اس طرف توجہ کی تب تک برائی کافی حد تک بڑ چکی تھی اور اب اس پر قابو پانا مشکل ہو چکا ہے۔<br />
خیر جو ہو چکا سو ہو چکا۔ اب ہمیں نئی ٹیکنالوجی کو خوش آمدید کہنا ہو گا اور ساتھ ہی اس کا بہتر استعمال فورا شروع کرنا ہو گا اور ساتھ ساتھ جو انٹرنیٹ اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ہو رہا ہے اس کی طرف توجہ دینی ہو گی تاکہ معاشرہ بہتر سمت میں چلے اس کے لئے ہمیں جدید ٹیکنالوجی کے مثبت پہلو سامنے لانے کے ساتھ ساتھ  اپنی و دیگر احباب کی سوچ کو مثبت چارج قبول کرنے کے قابل بھی بنانا ہو گا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/internet-technology-aur-hamari-sooch/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>17</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>جن کا نام ہی تاریخ ہوتا ہے</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/jin-ka-naam-tareekh-hota-hai/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/jin-ka-naam-tareekh-hota-hai/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 09 Apr 2009 19:53:46 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایجادات، مسلمانو اٹھو]]></category>
		<category><![CDATA[جن کا نام ہی تاریخ ہوتا ہے]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=66</guid>
		<description><![CDATA[بسم اللہ الرحمن الرحیم
انسان ہمیشہ سے ترقی کی منازل تہہ کرتا رہا ہے۔ ہر دور میں کئی ایسے لوگ ہوئے جو نئی سے نئی ایجاد کرنے میں مصروف رہے اور بہتوں نے کئی ایجادات کیں۔ ماضی میں کئی ایسی ایجادات ہوئیں جو وقتی طور پر شاید اتنی اہمیت نہ رکھتی ہوں لیکن آج وہ ہماری [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
انسان ہمیشہ سے ترقی کی منازل تہہ کرتا رہا ہے۔ ہر دور میں کئی ایسے لوگ ہوئے جو نئی سے نئی ایجاد کرنے میں مصروف رہے اور بہتوں نے کئی ایجادات کیں۔ ماضی میں کئی ایسی ایجادات ہوئیں جو وقتی طور پر شاید اتنی اہمیت نہ رکھتی ہوں لیکن آج وہ ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔ جیسے سائنس کی سب سے بڑی ایجاد &#8220;پہیہ&#8221; اس کے علاوہ مختلف قسم کی لہریں اور بجلی وغیرہ وغیرہ۔<br />
عام طور پر ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ منفرد ہو، وہ کچھ ایسا کرے جو آج سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو یہی سوچ جب جنون بنتی ہے تو تو نئی راہیں کُھلتی ہیں۔ کچھ لوگوں میں یہ جنون صرف اپنی ذات کے لئے ہوتا ہے لیکن جو لوگ خلقِ خدا کی بہتری کے لئے یہ جنون اپنے سرچڑھاتے ہیں وہ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں اور ایسے لوگ تاریخ میں ہمیشہ اچھے الفاظ سے یاد کئے جاتے ہیں۔ ایسے جنونی لوگ جن کا مقصد خلقِ خدا کی بہتری کے لیے کچھ اچھا کرنا ہوتا ہے جس دن کسی معاشرے میں پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں بس اُسی دن اُس معاشرے کی تقدیر بدلنا شروع ہو جاتی ہے۔<br />
آج کے ترقی پذیر ممالک کا ماضی دیکھیں یعنی اُن کے تاریک دور کا مطالعہ کریں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ جب ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم تھا تو چند لوگ ایسے بھی تھے جو اس بات سے قطع نظر کہ اُن کا کام، اُن کی محنت، اُن کی لگن اور اُن کا جنون چھوٹا ہے یا بڑا، لیکن وہ اپنی عوام کی بہتری کے لئے کوشاں رہے۔ وقت گزرتا رہا، حالات بدلتے رہے اور تاریخ وہ دن لے آئی جب وہ ایک ترقی پذیر ملک/ممالک بن کر دنیا پر چھا گئے۔<br />
آج ہمارے حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ کہیں لوٹ مار کا بازار گرم ہے تو کہیں خون کی ہولی، کہیں قوم کے بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں تو کہیں اسی قوم کے پیسے سے عیاشی کی زندگی بسر ہو رہی ہے۔ ایک طرف حکمران دنیا سے بھیک مانگ رہے ہیں تو دوسری طرف عوام حکمرانوں سے اپنے حقوق کی بھیک مانگ رہی ہے۔ ایک طرف حکمران انا کی خاطر ظلم کی داستانیں لکھتے ہیں تو دوسری طرف عام شہری ہر چوراہے، ہر موڑ، ہر سڑک، راہ چلتے ہوئے اپنی خودی کی دھجیاں اڑانے پر مجبور ہے۔ غرض ہم لوگ ہر لحاظ سے ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔<br />
ان حالات میں عوام کسی اچھے لیڈر کی تلاش میں صبح سے شام اور شام سے پھر صبح تک انتظار کرتی ہے۔ انتظار ہے کہ ختم ہی نہیں ہو رہا۔<br />
	اے میرے ہم وطنو، اے میرے مسلمان بھائیوں اور بہنوں! اب لیڈر کا انتظار چھوڑو، خود اپنا لیڈر آپ بنو اور سب سے بڑ کر دنیا کے عظیم لیڈر کا کہا مانو، صبح سے شام تک اور پھر شام سے صبح تک انتظار کی بجائے عقل والے بنو اور دن و رات کے آنے جانے میں نشانیاں تلاش کرو۔ یہ مت سوچو کہ آپ کا کام، آپ کی محنت یا آپ کی ایجاد چھوٹی ہے یا بڑی بس خلقِ خدا کی بہتر کے لئے جنون اپنے سر چڑھا لو۔ ویسے بھی کسی کو کیا معلوم کہ آج کسی کا چھوٹا سا کام کل کو دنیا کی اہم ضرورت بنے گا اس لئے جو جتنا کر سکتا ہے وہ اتنا کرے۔ قطرہ قطرہ ملاؤ اور سمندر بنا ڈالو۔<br />
اے اس قوم کے غیور جوانو! اس قوم کا مستقبل تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اس قوم کے بوڑھے اور بچے تم سے بہتری کی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ کب تم نیند غفلت سے جاگو گے اور قوم کی بہتری کے لئے کچھ ایسا کرو گے جو آج سے پہلے اس قوم کے لئے کسی نے نہیں کیا۔ عوام امید کرتی ہے کہ تم کچھ ایسا کرو جس سے تم اُن لوگوں میں شمار ہو جاؤ جن کا نام ہی تاریخ ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/jin-ka-naam-tareekh-hota-hai/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہر دن 12 ربیع الاول کا دن ہو</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/har-din-12-rabi-ul-awal-ka-din-ho/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/har-din-12-rabi-ul-awal-ka-din-ho/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 11 Mar 2009 22:52:25 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلام اور عصر حاضر]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=65</guid>
		<description><![CDATA[بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ کونسی سنسان جگہ ہے؟ نہ روشنی ، نہ رونق؟ ہر چہرہ مرجایا ہوا ہے؟ ہر کسی کو اپنی پڑی ہے؟
 یہ سوال میرے لئے پہلے اتنے عجیب نہ تھے کیونکہ میں انہیں میں رہا۔ روز دیکھتا روز سنتا۔ لیکن کل شائد کوئی ایسا خواب دیکھا تھا جس نے مجھے یہ عجیب [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
یہ کونسی سنسان جگہ ہے؟ نہ روشنی ، نہ رونق؟ ہر چہرہ مرجایا ہوا ہے؟ ہر کسی کو اپنی پڑی ہے؟<br />
 یہ سوال میرے لئے پہلے اتنے عجیب نہ تھے کیونکہ میں انہیں میں رہا۔ روز دیکھتا روز سنتا۔ لیکن کل شائد کوئی ایسا خواب دیکھا تھا جس نے مجھے یہ عجیب سے سوال کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حقیقی دنیا کچھ اور نظارہ پیش کرتی تھی جو کہ اب بھی ہے۔ لیکن خواب اتنا سہانا تھا کہ کیا بتاؤ۔ خواب میں ہوا کچھ یوں کہ جس طرف دیکھا چراغاں تھا۔ گھر، بازار، گلیوں، محلوں اور شہروں کو لوگوں نے سجا رکھا تھا۔ کئی ایسی جگہ بھی دیکھیں جہاں لوگوں کا گزر کم ہوتا تھا لیکن وہاں بھی لائٹوں کی بھر مار تھی اور ہر طرف روشنی ہی روشنی تھی۔ روشنیوں کی وجہ سے کئی گھر ایک بلب جیسے چمک رہے تھے۔ گلیوں کی مکمل صفائی کی گئی تھی بلکہ کئی گلیوں میں بڑے خوبصورت ریشمی کلین بھی بچھائے گئے تھے۔ ہر چہرے پر رونق تھی۔ لوگ خوشی سے جھوم جھوم کر نعرے لگا رہے تھے۔ خوشی کا اظہار کرنے کے لئے کئی لوگوں نے اپنی سائیکل، موٹر سائیکل یا گاڑی غرض جو جو جس کے پاس تھا اسے مختلف جھنڈیوں اور جھنڈوں سے سجایا ہوا تھا۔ ایک جشن کا سما تھا ایک عجیب سی چہل پہل تھی۔ رونقیں ہی رونقیں تھیں۔ پھر اچانک میری آنکھ کھل گئی۔ اور دنیا اپنا اصل رنگ دیکھانے لگی۔ کل خواب میں جہاں رونقیں ہی رونقیں تھیں آج وہاں پھر خواب سے پہلے جیسی حالت تھی وہی سنسان گلیاں جہاں اندھیرے اپنے رنگ جمائے ہوئے تھے۔ وہی فقیر مانگ رہے تھے۔ وہی غریب لوگ روٹی کی تلاش میں در در بھٹک رہے تھے۔ وہی غریب کا بچہ کھیل کود اور سکول جانے کے دنوں میں مزدوری کر رہا تھا۔ بازاروں میں تاجر گاہکوں کو جھوٹ بول بول کر اور قسمیں کھا کھا کر اپنا مال بھیچ رہے تھے۔ خواب میں جہاں ہر چہرہ پر رونق تھا  حقیقت میں وہی چہرے اداسی کی داستانیں سنا رہے تھے۔ یہ سب دیکھ کر مجھے اپنا خواب بہت عجیب لگا اور میں اپنے خواب کے بارے میں تحقیق کرنے لگا تو سب سامنے آیا اور پتہ چلا کہ یہ میرا خواب نہیں تھا بلکہ کل 12 ربیع الاول کا دن تھا۔ جس دن ہر سال ہمارے مسلمان بھائی حضرت محمدﷺ کی ولادت کی خوشی میں جشن مناتے ہیں۔ اپنے رب تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ملنے پر شکر ادا کرتے ہیں اور یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر، سن کر اور محسوس کر کے مجھے بڑی حیرانی ہوئی اور میں یہ سب لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ  ایک طرف مسلمان یہ چیز مانتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہیں مگر یہ کیا بات ہوئی اتنی بڑی نعمت کی خوشی صرف ایک دن؟ سال میں صرف ایک دن بھلائی کے کام کئے اور پھر بس (اللہ اللہ تے خیر سلا)۔ ایک دن اتنی روشنی کر دی کہ باقی سال وہی اندھیرے۔ ایک دن میں اتنا مال خرچ کر دیا جو کسی خاص کام نہ آیا اور باقی سال پھر وہی غربت۔ دوستو! یہ کیسی خوشی ہے؟ یہ کیسا جشن ہے؟<br />
ہونا تو یہ چاہئے کہ جب بھی توفیق ہو اسی وقت اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اسی چیز کو دیکھتے ہوئے  آؤ کچھ ایسا کرتے ہیں جس سے ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر سارا سال بلکہ ہر لمحہ ادا کریں۔ آؤ حضورﷺ کی ولادت کی خوشی سارا سال منائیں جس سے عالم اسلام بلکہ پوری دنیا میں رونقیں ہی رونقیں ہوں۔<br />
 ایک دن میں بہت زیادہ بلب لگانے اور بجلی پر خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ ایک بلب گلی میں لگا دیا جائے جو سارا سال کام کرے اور راہگیروں کا بھلا ہو۔ بہت زیادہ جھنڈوں پر کپڑا لگانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کو لباس سلوا دیں تاکہ وہ گرمی و سردی سے محفوظ رہ سکے۔ایک دن میں بہت زیادہ پٹرول لگانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب طالب علم کا سکول آنے جانے کا بندوبست کر دیں۔ ایک دن میں لوگوں کو پکڑ پکڑ کر دودھ پلانے سے بہتر ہے کہ غریب کے معصوم بچے کے لئے پورے سال کے دودھ کا بندوبست کر دیں۔ ایک دن میں بہت زیادہ محنت کر کے گلی صاف کرنے سے بہتر ہے کہ روز مرہ کے کوڑے کرکٹ کا مناسب انتظام کریں۔ ایک دن گلیوں میں کالین بچھانے سے بہتر ہے کہ درس گاہ میں طالب علموں کے بیٹھنے کا انتظام کر دیں۔ ایک دن ہی بہت زیادہ کام کرنے سے بہتر ہے کہ روز کام روز کریں۔ ایک دن مسجد کو سجانے بہتر ہے کہ پورا سال باقائدگی سے نماز پڑھیں۔ ایک دن حضرت محمدﷺ کی ولادت کی خوشی منانے سے بہترکہ ہر وقت ولادت کی خوشی مناتے ہوئےان کی تعلیمات پر عمل کریں اور ہر لمحہ خدا کا شکر ادا کریں۔ اسی طرح<br />
جب ہم مندرجہ بالا اور دیگر اپنی ذمہ داری کے کام روزانہ کریں گے تو یقینا ہماری دنیا و آخرت بہتر ہو گی۔<br />
میرے مسلمان بھائیوں ذرا غور کرو اسلامی تعلیمات کو سمجھو اور جو اسلام کہتا ہے وہ کرو ویسے کیسی عجیب بات ہے کہ ہم مسلمانوں نے کرنا کچھ اور تھا مگر کر کچھ اور رہے ہیں۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اسلامی تعلیمات اپناؤ اور باقی دنیا کے لئے روشنی کی کرن بنو تاکہ ہر دن 12 ربیع الاول کا دن ہو اور ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوں۔</p>
<p>نوٹ:- یہ ضروری نہیں کہ آپ میرے نظریات سے اتفاق کریں مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ بحث برائے بحث کریں</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/har-din-12-rabi-ul-awal-ka-din-ho/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>7</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
