<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ایم بلال کی بیاض</title>
	<atom:link href="http://mbilal.paksign.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://mbilal.paksign.com</link>
	<description>قطرہ قطرہ ملے تو بنے سمندر</description>
	<lastBuildDate>Sat, 03 Jul 2010 23:39:24 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9.2</generator>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<item>
		<title>نیا نام، نئی جگہ اور نئے ڈیرے</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/blog-transfer/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/blog-transfer/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 02 Jul 2010 15:35:29 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو اور کمپیوٹر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو بلاگنگ]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور عصر حاضر]]></category>
		<category><![CDATA[تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[طنزومزاح]]></category>
		<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[ویڈیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=334</guid>
		<description><![CDATA[آپ سے گذارش ہے کہ اگر آپ نے اپنے بلاگ رول یا کسی بھی جگہ میرے بلاگ کا ربط دیا ہوا ہے تو تبدیلی کر کے نیا ربط شامل کر دیں۔ شکریہ۔
یہی تحریر میرے نئے بلاگ پر بھی موجود ہے۔ برائے مہربانی نئے نام، نئی جگہ یعنی میرے نئے ڈیرے پر اپنی قیمتی رائے دیجئے تاکہ میں بلاگ کو مزید بہتر کر سکوں۔

اس کے علاوہ تمام بلاگز ایگریگیٹر ویب سائیٹس جیسے اردو سیارہ، اردو لاگز اور ماورائی فیڈر وغیرہ وغیرہ کے منتظمین سے گذارش ہے کہ میرے بلاگ کا ربط تبدیل کر دیا جائے۔

<p align="center"><font color="#FF0000">بلاگ کے متعلق چند ضروری روابط درج ذیل ہیں </font> </p>


<p align="center">بلاگ کا پتہ </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/">http://www.mbilalm.com/blog/</a></p>


<p align="center">تحاریر کے آر ایس ایس کا ربط </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/feed/">http://www.mbilalm.com/blog/feed/</a></p>

<p align="center">تبصروں کے آر ایس ایس کا ربط </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/comments/feed/">http://www.mbilalm.com/blog/comments/feed/</a></p>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
السلام علیکم!<br />
ایک لمبا عرصہ انتظار کیا کہ ہو سکتا ہے دل مان جائے اور یہ فیصلہ نہ ہی کروں لیکن دل ہے کہ مانتا ہی نہیں تھا۔ جب بھی کہیں ڈومین نیم یا بلاگ کا ذکر آتا تو فورا خیال آتا کہ اپنے نام کی بھی ڈومین لینی ہے یا کسی کے لئے کوئی ڈومین رجسٹر کروانے لگتا تو سب سے پہلے یہی خیال آتا کہ یہ کام کرنے کے بعد اپنے نام کی بھی ایک ڈومین رجسٹر کروائیں گے اور پھر اپنا بلاگ وہاں منتقل کر دوں گا لیکن ہر بار کام ختم ہونے پر نیا کام اور پھر اسی طرح کافی عرصہ گزر گیا۔ آخر کار کچھ دن پہلے میں نے اپنے نام کی ڈومین لے ہی لی۔ اور آج اپنا بلاگ نئی ڈومین پر منتقل کر دیا ہے۔ جس کا ربط درج ذیل ہے۔</p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/">http://www.mbilalm.com/blog/</a></p>
<p>سب سے پہلے تو آپ سے گذارش ہے کہ اگر آپ نے اپنے بلاگ رول یا کسی بھی جگہ میرے بلاگ کا ربط دیا ہوا ہے تو تبدیلی کر کے نیا نام اور نیا ربط شامل کر دیں۔ شکریہ۔<br />
اس بلاگ پر تبصرے اور دیگر چیزیں بند کر دی ہیں اس لئے <a href="http://www.mbilalm.com/blog/blog-transfer/">یہی تحریر میرے نئے بلاگ</a> پر بھی موجود ہے۔ برائے مہربانی نئے نام، نئی جگہ یعنی میرے نئے ڈیرے پر اپنی قیمتی رائے دیجئے تاکہ میں بلاگ کو مزید بہتر کر سکوں۔</p>
<p>اس کے علاوہ تمام بلاگز ایگریگیٹر ویب سائیٹس جیسے اردو سیارہ، اردو لاگز اور ماورائی فیڈر وغیرہ وغیرہ کے منتظمین سے گذارش ہے کہ میرا نام اور میرے بلاگ کا ربط تبدیل کر دیا جائے۔</p>
<p align="center"><font color="#FF0000">بلاگ کے متعلق چند ضروری روابط درج ذیل ہیں </font> </p>
<p align="center">بلاگ کا پتہ </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/">http://www.mbilalm.com/blog/</a></p>
<p align="center">تحاریر کے آر ایس ایس کا ربط </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/feed/">http://www.mbilalm.com/blog/feed/</a></p>
<p align="center">تبصروں کے آر ایس ایس کا ربط </p>
<p align="center" dir="ltr"><a href="http://www.mbilalm.com/blog/comments/feed/">http://www.mbilalm.com/blog/comments/feed/</a></p>
<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اس کے علاوہ نام بھی تبدیل کر لیا ہے۔ نام کے آخر پر ایک ”ایم“ یعنی ”م“ کا اضافہ کر دیا ہے۔ ”ایم بلال“ سے ”ایم بلال ایم“ یعنی ”م بلال م“ کر لیا ہے۔ اب نام کو کس طرح لکھوں اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی۔ میرے خیال میں اردو میں ہی لکھنا بہتر ہے جیسے ”م بلال م“ لیکن کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ ”ایم بلال ایم“ لکھو۔ اس لئے یہ آپ سب پر چھوڑ دیتا ہوں جیسے آپ کی مرضی ہو ویسے لکھ لیں۔ ویسے بھی پہلے کوئی خالی ”بلال“ لکھتا ہے تو کوئی ”محمد بلال“ جبکہ میں خود ”ایم بلال“ لکھتا تھا۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">نوٹ:- اگر کسی جگہ یا کسی ربط میں مسئلہ آ رہا ہے تو برائے مہربانی مجھے بئے بلاگ پر تبصرہ کر کے یا درج ذیل ای میل پر اطلاع کریں۔ شکریہ۔</span><br />
<img class="aligncenter" title="E-Mail" src="http://www.paksign.com/mbilal/images/walkondew.gif" alt=""  /></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/blog-transfer/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نعرے لگانا آسان مگر محنت کرنا بہت مشکل</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/discussion-easy-but-hardwork-difficult/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/discussion-easy-but-hardwork-difficult/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 24 Jun 2010 22:00:28 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[اسلام اور عصر حاضر]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[9 ویب سائٹس بند]]></category>
		<category><![CDATA[discussion easy but hardwork difficult]]></category>
		<category><![CDATA[نعرے لگانا آسان مگر محنت کرنا بہت مشکل]]></category>
		<category><![CDATA[ویب سائیٹ بلاک]]></category>
		<category><![CDATA[کرے کون؟]]></category>
		<category><![CDATA[گوگل اور یاہو بلاک]]></category>
		<category><![CDATA[گوگل، ایم ایس این اور یاہو بین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=330</guid>
		<description><![CDATA[اگر ہم اپنے آج کے حالات دیکھیں تو ہم بھی جنگ  کی پوزیشن میں نہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم پہلے ترقی کریں۔ جب ہم ترقی کر جائیں گے اور بادشاہ ہوں گے تو اول غیر مسلموں کو گستاخی کی جرأت ہی نہیں ہو گی اور اگر انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی تو ہم منہ توڑ جواب دے سکیں گے۔ لیکن اس طرف کوئی نہیں آئے گا۔ کیونکہ یہ کام یعنی مستقل مزاجی، ایمانداری، جذبے اور لگن کے ساتھ ترقی کرنا نعرے لگانے، جلوسوں میں اپنے ہی بھائیوں کے کاروبار تباہ کرنے اور ویب سائیٹ بلاک کرنے سے بہت مشکل ہے۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
انٹرنیٹ بنانے والے نے بھی کیا زبردست چیز بنا دی ہے۔ ایک وقت تھا تحریک آزادی اور دوسری تحریکوں کے سربراہ اور دیگر ممبران کو دور دراز علاقوں تک سفر کرنا پڑتا، آزادی کا شعور دینے اور اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے کے لئے پرنٹ میڈیا کا سہارا لینا پڑتا پھر کہیں جا کر چند لوگوں تک آواز پہنچتی۔ دوسری طرف آج کا وقت ہے جس میں انٹرنیٹ جیسی سہولت دستیاب ہے اور مجھ جیسا پینڈو بھی اگر ہمت رکھتا ہو تو انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی آواز چند لمحات میں پوری دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ بلاگ لکھ سکتا ہے، مختلف فورمز پر اپنے حق کی صدا لگا سکتا ہے۔ مختلف اداروں کی رپورٹس دیکھ سکتا ہے۔ لائبریری میں کتابیں  تلاش کرنے کی بجائے گوگل اور دیگر سرچ انجن کے ذریعے چند منٹوں میں اپنی مطلوبہ معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ سوچتا ہوں اب وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کا بچہ بچہ یہ صدا لگائے گا کہ ہمیں ہمارا حق دو۔ کیونکہ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے خیالات سن رہے ہیں۔ تھوڑا اور آہستہ آہستہ سہی لیکن عوام کو شعور ضرور آ رہا ہے۔ سیاست دانوں کے فریب اور جھوٹے وعدے اگر کوئی بھولنا چاہے تو انٹرنیٹ اسے دوبارہ یاد کروا دیتا ہے۔ اور یہ سب انٹرنیٹ کی بدولت تیزی سے ہو رہا ہے۔<br />
ایک <a target="_blank" href="http://ejang.jang.com.pk/6-23-2010/images/1026.gif">خبر</a> پڑھی تھی کہ ” قرآن پاک میں تحریف کا الزام، لاہور ہائیکورٹ کا یاہو،ایم ایس این، گوگل سمیت 9 ویب سائٹس بند کرنے کا حکم“۔ اس سے پہلے خاکوں والے معاملے پر فیس بک اور یوٹیوب کو بھی بین کیا گیا تھا۔ اکثر جب دوستوں میں بحث ہوتی تو میری یہی کوشش ہوتی کہ میں اس معاملے پر خاموشی اختیار کروں۔ مجھے ٹھیک طرح سمجھ نہیں آتی تھی کہ اس مسئلہ کا کیا حل ہے؟ جب کوئی زیادہ پوچھتا تو میرا جواب یہی ہوتا کہ اس مسئلہ کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہونا چاہئے لیکن یہ جو حل ہمارے لوگ کر رہے ہیں یہ کوئی بہتر حل نہیں۔ دیکھو جی جنہوں نے یہ گستاخی کی ہے اگر حقیقت کو تسلیم کیا جائے تو وہ اس وقت بادشاہ ہیں اور جنگل میں بادشاہ شیر ہی ہوتا ہے پھر چاہے شیر بچے دے یا انڈے اس کی مرضی۔ اگر بچے یا انڈے دینے پر اعتراض ہے تو خود شیر بنو۔ پھر کسی کی جرأت ہی نہیں ہو گی کہ وہ اس طرح کی گستاخیاں کریں۔ ایسے ویب سائیٹ بلاک کر کے تم اپنا ہی نقصان کر رہے ہو۔ عوام میں جو تھوڑا بہت شعور آ رہا ہے اسے بھی ختم کر دو گے۔<br />
اگر اسلامی تاریخ دیکھی جائے اور خاص طور پر <a target="_blank" href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B5%D9%84%D8%AD_%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%A8%DB%8C%DB%81">صلح حدیبیہ</a> کا معاہدہ دیکھا جائے تو اس کی زیادہ تر شقیں ظاہری طور پر مسلمانوں کے حق میں نہیں تھیں جس کی سب سے بڑی مثال کہ” اگر کوئی مسلمان مکہ کے لوگوں کے کے پاس چلا جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا مگر کوئی مشرک مسلمان ہو کر اپنے بزرگوں کی اجازت کے بغیر مدینہ چلا جائے تو اسے واپس کیا جائے گا۔“ لیکن اس وقت مسلمان جنگ کی پوزیشن میں نہیں تھے اور حالات کا یہی تقاضا تھا کہ مسلمان کسی طرح جنگ سے بچ جائیں۔ اسی معاہدہ جس کی زیادہ شقیں ظاہری طور پر مسلمانوں کے حق میں نہیں تھیں کی بنا پر مسلمان جنگ سے بچ گئے اور پھر اگلے سال مکہ میں داخل ہوئے۔<br />
اگر ہم اپنے آج کے حالات دیکھیں تو ہم بھی جنگ  کی پوزیشن میں نہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم پہلے ترقی کریں۔ جب ہم ترقی کر جائیں گے اور بادشاہ ہوں گے تو اول غیر مسلموں کو گستاخی کی جرأت ہی نہیں ہو گی اور اگر انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی تو ہم منہ توڑ جواب دے سکیں گے۔ لیکن اس طرف کوئی نہیں آئے گا۔ کیونکہ یہ کام یعنی مستقل مزاجی، ایمانداری، جذبے اور لگن کے ساتھ ترقی کرنا نعرے لگانے، جلوسوں میں اپنے ہی بھائیوں کے کاروبار تباہ کرنے اور ویب سائیٹ بلاک کرنے سے بہت مشکل ہے۔<br />
نبی پاکﷺ کی عظمت پر جان قربان کرنے کا نعرہ لگانا بہت آسان ہے لیکن اس کے حقیقی معنوں پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔ ایک طرف ہم انہیں گستاخی کرنے والوں کے ملکوں سے امداد لے کر چلتے ہیں اور دوسری طرف انہیں سے تعلق ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف ہم انہیں کی پروڈکٹ استعمال کر کے ان کی معیشت مستحکم کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ وہ گستاخی کیوں کرتے ہیں۔ اگر حقیقت کو تسلیم کرو تو سچ یہی ہے کہ اگر ان میں گستاخی کی جرأت ہے تو یہ سب ہماری کمزوری ہے کیونکہ انہیں پتہ ہے مسلمان کمزور ہیں زیادہ سے احتجاج کریں گے، اپنے ہی ملک کی املاک کو نقصان پہنچائیں گے، پھر چپ ہو جائیں گے، ہم سے امداد لے کر کھائیں گے اور ہماری معیشت کو طاقت ور بنائیں گے۔<br />
 کبھی کبھی سوچ آتی ہے کہ یہ سب کیا ہے ایک طرف ہم کاربونیٹڈ واٹرز کے ذائقہ تک کے معیار کو قربان نہیں کر تے اور نہ ہی ان کا متبادل بناتے ہیں اور اگر بنائیں تو ہمارے لوگ کہتے ہیں ، جی امپورٹڈ چیز تو پھر کمال کی ہوتی ہے۔ اور پھر دوسری طرف چیختے ہیں کہ وہ گستاخی کر گئے۔ کبھی سوچا ہے ایک سوئی تک ہم نہیں بنا سکتے۔ ہمارا نوجوانوں کا بس ایک ہی خواب ہے کہ کسی اچھے ملک جا کر سیٹ ہو جائیں۔ کبھی سوچا ہے یہی ہمارا ٹیلنٹ وہاں جا کر انہیں ترقی دیتا ہے اور پھر ان میں جرأت پیدا ہوتی ہے۔ نہیں یہ نہیں سوچیں گے ہم کیونکہ یہ سوچیں تو پھر بہت کچھ قربان کرنا پڑے گا اور ہم قربانی نہیں دینا چاہتے بس نعرے ہی لگا سکتے ہیں۔ کبھی سوچا کہ یہ کمپیوٹر، انٹرنیٹ، گاڑیاں حتیٰ کہ وہ بندوق جو ہماری فوج استعمال کرتی ہے، وہ جہاز جن پر ہم حج کے لئے جاتے ہیں، وہ ماربل کاٹنے کی مشینیں جنہوں سے ماربل کاٹا اور حرم پاک میں لگا، وہ گھڑی جس سے وقت دیکھ کر ہم نماز کا وقت معلوم کرتے ہیں۔ ان سب کی ٹیکنالوجی کس نے بنائی؟ میں یہ نہیں کہتا کہ ان کی پروڈکٹ استعمال نہ کرو ان کی ٹیکنالوجی استعمال نہ کرو بلکہ انہیں کی چیزیں، معلومات اور ٹیکنالوجی استعمال کر کے خود ترقی کرو۔ ان کے ملکوں میں جاؤ ان سے تعلیم حاصل کرو۔ جدید ترین ٹیکنالوجی سیکھو۔ ان کے ساتھ امن سے رہو اور یہ سمجھو کہ ہم نے معاہدہ کیا ہوا ہےاور  پھر ہر چیز خود تیار کرو، اپنے دوسرے بھائیوں کو سیکھاؤ اپنے ملک میں آ کر وہی تعلیم، وہی ٹیکنالوجی استعمال کرو اور زبردست قسم کی چیزیں تیار کرو۔ اپنے ملک کو ترقی دو، اپنی معیشیت مستحکم کرو اور پھر دیکھو وہ گستاخی کرتے ہیں یا نہیں؟ لیکن ہم یہ سب نہیں کریں گے کیونکہ ویب سائیٹس بلاک کرو اور بس کام ختم، مستقبل جائے بھاڑ میں۔<br />
او خدا کے بندو! پہلے ترقی کرو، خود کو اتنا مستحکم کرو کہ آج جس ٹیکنالوجی کو وہ کنڑول کر رہے ہیں مستقبل میں تم کنٹرول کرو اور پھر اگر کوئی گستاخانہ  ویب سائیٹ بناتا ہے یا فیس بک جیس ویب سائیٹ پر صفحہ بناتا ہے تم اسے ایک منٹ سے پہلے ختم کر سکو۔ مگر یہ کام، یہ محنت کرے کون؟ کیونکہ نعرے لگانا آسان مگر محنت کرنا بہت مشکل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/discussion-easy-but-hardwork-difficult/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>13</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کیا ہم پینڈو انسان نہیں؟</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/villager-are-not-human/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/villager-are-not-human/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 23 Jun 2010 23:23:46 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[villager]]></category>
		<category><![CDATA[villager are not human]]></category>
		<category><![CDATA[دیہاتی]]></category>
		<category><![CDATA[شہری اور دیہاتی میں تفریق]]></category>
		<category><![CDATA[پینڈو]]></category>
		<category><![CDATA[کیا پینڈو انسان نہیں؟]]></category>
		<category><![CDATA[کیا ہم پینڈو انسان نہیں؟]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=326</guid>
		<description><![CDATA[جب کسی سے پوچھا جائے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دیہات کو کم بجلی اور شہر کو زیادہ تو جواب ملتا ہے شہر میں انڈسٹری ہوتی ہے اور اگر اسے بجلی نہیں ملے گی تو انڈسٹری بند ہو جائے گی۔ شہری لوگ بجلی جانے اور گرمی لگنے پر گھر سے باہر نہیں نکل سکتے اس لئے ان کو بجلی زیادہ دی جاتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی اگر شہر کو بجلی صرف ان دو وجوہات کی بنا پر زیادہ دی جاتی ہے تو ہم دیہاتی مٹی کے ساتھ مٹی ہو جاتے ہیں تو پھر کیا فصلوں کوآنسوؤں سے سیراب کریں؟ تیل کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں آ جا کر بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویل سے کام چلایا تو بجلی بھی ”ٹھس“۔اگر انڈسٹری کے بغیر گزارہ نہیں تو زرعی ملک میں زراعت کے بغیر گزارہ کیسے ہو گا؟ میں مانتا ہوں انڈسٹری کے بغیر گزارہ نہیں لیکن کیا زراعت کے بغیر گزارہ ممکن ہے؟ کیا ہم دیہاتی گرمی لگنے پر باہر فصلوں میں جا بیٹھیں؟ کیا ہمارے بچوں کو گرمی نہیں لگتی؟ کیا ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہمارے بچے پنکھوں کے نیچے بیٹھ کر پڑھ سکیں؟ کیا ہمیں سستی بجلی دیتے ہو جو ساری ساری رات بند رکھتے ہو؟کیا ہم ٹیکس نہیں دیتے؟ کیا ہمیں ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں؟ کیا ٹھنڈا پانی پینے سے ہمارے پیٹ خراب ہو جاتے ہیں؟اوئے بتاؤ ہمیں بتاؤ کیا ہم جانور ہیں؟ کیا ہم انسان نہیں؟ کیا ہم پاکستانی نہیں؟ سیاست دانو جواب دو تم کیسے پاکستانیوں کی اتنی بڑی تعداد کو صرف دیہاتی کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہو؟ ]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
سننے میں آیا ہے کہ پاکستان کی ستر فیصد آبادی چلو اس سے کم سہی لیکن نصف سے زیادہ ضرور ہے اور وہ  دیہی علاقوں میں رہتی ہے یعنی ”پینڈو“ ہے۔ میں بھی ایک پینڈو ہوں۔<br />
مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ شہریوں کو زیادہ حقوق اور دیہاتیوں کو کم کیوں؟ کیا ہم دیہاتی انسان نہیں ہوتے؟ ایک بات واضح کر دوں کہ تمام پاکستانی شہری میرے لئے محترم ہیں اور میں ان کی اتنی ہی قدر کرتا ہوں جتنی میں دیہاتیوں کی کرتا ہوں۔ یہاں بات قدر یا عزت کی نہیں بلکہ اپنے حق کی ہے اور میں اپنے حق کا مطالبہ کسی عام شہری سے نہیں بلکہ صاحبِ اختیار لوگوں سے کر رہا ہوں۔ عام شہری سے تو گذارش ہے کہ جہاں آپ اپنے حق کے لئے آواز اٹھاؤ وہاں اپنے دیہاتی بھائیوں کو بھی یاد رکھو۔<br />
واپس اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں کہ کیا ہم دیہاتی انسان نہیں؟ یہ خیال میرے ذہن میں اس لئے آیا کہ یہاں میرے گاؤں میں شام سات بجے کی بجلی بند ہے اور ابھی بھی بند ہے۔تقریبا 2 بجے کے قریب ایک بار آئی ۔ 30منٹ رہی اور پھر اللہ کو پیاری ہو گئی۔ ہمارے گاؤں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا شہر جلالپورجٹاں ہے۔ اگر ہم اپنے چھت پر جائیں تو شہر کی بتیاں نظر آتی ہیں۔ ابھی بجلی نے ”مت ماری“ تو میں صحن میں گیا اور پھر سوچا چھت پر جا کر دیکھتا ہوں کہ شہر کی بجلی ہے یا نہیں۔ معلوم ہوا کہ شہر میں بجلی ہے اور یہ عذاب صرف دیہاتیوں کے لئے ہے۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اکثر بھی نہیں بلکہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے۔ یہ بات آپ بھی اچھی طرح جانتے ہوں گے۔ خیر نیچے آیا لیپ ٹاپ آن کیا اور پھر کیا ؟ پھر یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔<br />
جب کسی سے پوچھا جائے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دیہات کو کم بجلی اور شہر کو زیادہ تو جواب ملتا ہے شہر میں انڈسٹری ہوتی ہے اور اگر اسے بجلی نہیں ملے گی تو انڈسٹری بند ہو جائے گی۔ شہری لوگ بجلی جانے اور گرمی لگنے پر گھر سے باہر نہیں نکل سکتے اس لئے ان کو بجلی زیادہ دی جاتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی اگر شہر کو بجلی صرف ان دو وجوہات کی بنا پر زیادہ دی جاتی ہے تو ہم دیہاتی مٹی کے ساتھ مٹی ہو جاتے ہیں تو پھر کیا فصلوں کوآنسوؤں سے سیراب کریں؟ تیل کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں آ جا کر بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویل سے کام چلایا تو بجلی بھی ”ٹھس“۔اگر انڈسٹری کے بغیر گزارہ نہیں تو زرعی ملک میں زراعت کے بغیر گزارہ کیسے ہو گا؟ میں مانتا ہوں انڈسٹری کے بغیر گزارہ نہیں لیکن کیا زراعت کے بغیر گزارہ ممکن ہے؟ کیا ہم دیہاتی گرمی لگنے پر باہر فصلوں میں جا بیٹھیں؟ کیا ہمارے بچوں کو گرمی نہیں لگتی؟ کیا ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہمارے بچے پنکھوں کے نیچے بیٹھ کر پڑھ سکیں؟ کیا ہمیں سستی بجلی دیتے ہو جو ساری ساری رات بند رکھتے ہو؟کیا ہم ٹیکس نہیں دیتے؟ کیا ہمیں ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں؟ کیا ٹھنڈا پانی پینے سے ہمارے پیٹ خراب ہو جاتے ہیں؟اوئے بتاؤ ہمیں بتاؤ کیا ہم جانور ہیں؟ کیا ہم انسان نہیں؟ کیا ہم پاکستانی نہیں؟ سیاست دانو جواب دو تم کیسے پاکستانیوں کی اتنی بڑی تعداد کو صرف دیہاتی کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہو؟<br />
صرف ایک بجلی کا مسئلہ نہیں ہر بات میں دیہاتیوں کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ مانا کہ ایک دیہات کی آبادی کم ہوتی اس لئے اس کو ساری سہولیات نہیں دی جاسکتی۔لیکن کچھ دیہات ملا کر مشترکہ سہولت تو دی جا سکتی ہے۔ جیسے سکول، کالجز اور ہسپتال وغیرہ۔ ہوتا کیا ہے کہ سکول اور ہسپتال بنائے تو جاتے ہیں لیکن پھر استاد اور ڈاکٹر صاحب غائب۔ کیونکہ ان کو لگتا ہے یہ پینڈو لوگ ہیں ان کو تعلیم اور صحت کی کیا ضرورت۔ حکومت دیہات سے زیادہ شہری سکول و کالجز اور ہسپتالوں کی نگرانی کرتی ہے لیکن دیہات کو دیہات سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ دیہات میں شہر جتنی سہولیات نہیں دی جا سکتیں لیکن جب چند دیہاتوں کو ملا کر شہر جتنی آبادی ہو جائے پھر تو سکول، کالج اور ہسپتال شہر جیسے ہونے چاہئیں۔ ہم دور دراز سفر کرنے کو تیار ہیں لیکن ہمیں بھی تعلیم اور صحت کا ویسا ہی معیار ملنا چاہئے جیسا شہری بابو کو ملتا ہے۔ یہاں ہمارے ساتھ والے گاؤں میں ہائی سکول ہے اور شہر میں بھی ہائی سکول ہے۔ دونوں میں طلباء کی تعداد میں کوئی خاص فرق نہیں لیکن شہر کے سکول کا معیار اور ہے اور گاؤں کے سکول کا معیار اور۔ جو تھوڑے بہت اچھے استاد ہیں وہ سب شہر کے سکول میں ہیں اور جو سارا دن حقہ پینے والا بندہ ہے وہ گاؤں کے سکول میں استاد ہے اور وہ سارا دن بچوں کو اسی کام لگائے رکھتا ہے۔میں مانتا ہوں چھوٹی جگہ پر چھوٹے پیمانے پر اور بڑی جگہ  پر بڑے پیمانے پر کام ہوتا ہے۔ اب ہر گاؤں میں یونیورسٹی تو نہیں بن سکتی لیکن بالکل بنیادی سہولیات تو بغیر کسی تفریق کے  ملنی چاہئیں۔شہرمیں رہنے والے کو گرمی لگتی ہے تو گاؤں میں رہنے والے کو بھی لگتی ہے۔ شہری بچے کو تعلیم کا حق ہے تو دیہاتی بچے کو بھی اتنا ہی حق ہے۔ ہم دور دراز سفر کرنے کو تیار ہیں۔ ہم پینڈو کہلوانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے لیکن خدا کے لئے ہمیں مساوی حقوق دیئے جائیں۔ پہلے ہی پیارے پاکستان میں لوگ تفرقوں میں تقسیم ہیں، کوئی صوبہ مانگ رہا ہے تو کوئی ملک۔ کوئی پنجابی کی صدا لگا رہا ہے تو کوئی سندھی کی، کوئی پاکستانی سے زیادہ بلوچی کہلوانا پسند کرتا ہے تو کوئی ہزاروی۔ اس سے پہلے کہ شہری اور پینڈو کی صدائیں بھی بلند ہونا شروع ہو جائیں۔ خدا کے لئے عوام کو پاکستانی بناؤ اور ہم جیسے پینڈو لوگوں کو بھی انسان اور پاکستانی سمجھو۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/villager-are-not-human/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>10</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>لوگ ایسا کیوں سوچتے ہیں؟</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/why-people-think-like-this/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/why-people-think-like-this/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 21 Jun 2010 20:36:42 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[our thinking]]></category>
		<category><![CDATA[why people think like this]]></category>
		<category><![CDATA[لوگ ایسا کیوں سوچتے ہیں]]></category>
		<category><![CDATA[لوگ ایسا کیوں سوچتے ہیں؟]]></category>
		<category><![CDATA[ہماری سوچ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=317</guid>
		<description><![CDATA[لو فیر پے گیا سیاپا۔۔۔ میں کئی کئی اندازے لگانے میں مصروف ہو گیا کہ یہ تخفہ صرف مفت میں مدد کرنے کا نتیجہ ہے بلکہ وہی لوگ بہتر ہیں جو پیسے لے کر ہی دوسروں کی مدد کرتے ہیں تاکہ کام کی  قدر بھی ہو اور مال بھی مل جائے؟ یا پھر وہ لوگ جو کوئی مفاد رکھ کر مدد کرتے ہیں؟  مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ انہوں نے ایسا کیوں لکھا اور کیا سوچ کر لکھا؟ کیا انہوں نے لڑکوں کی اجتماعی سوچ کو دیکھتے ہوئے ایسا کہا؟ کیا ہم لڑکے واقعی ایسے ہوتے ہیں؟ کیا عورت ذات یہی سوچتی ہے کہ مرد حضرات  ہمیشہ کسی مفاد کی خاطر ہی مدد کرتے ہیں؟  جبکہ میں اردو کمپیوٹنگ کے معاملے میں جہاں تک ہو سکے سب کو ہی جواب دیتا ہوں اور جتنی جلدی ہو سکے جواب دے دیتا ہوں۔ اس بات کی گواہی وہ مرد حضرات ضرور دیں گے جنہوں نے مجھ سے ای میل یا دیگر ذرائع سے رابطہ کیا اور جہاں تک مجھ سے ہو سکا  میں نے ان کی تھوڑی بہت مدد کی۔ یہ مسئلہ یہاں بلاگ پر لانے کا مقصد ایک تو یہ ہے کہ آپ تبصرہ کریں اور اندازہ لگائیں کہ ان محترمہ نے ایسا کیوں لکھا ہو گا؟ انہوں نے سوچا  اور لکھا ہے تو ظاہر ہے ہمارے لوگوں کی ایک سوچ یہ بھی ہے ۔ میری نظر میں یہ بھی ایک المیہ ہے اور ہمیں خود کو بدلنا ہو گا تاکہ اس سوچ کا اور اس سوچ کو پیدا کرنے والے محرکات کا خاتمہ ہو سکے یا کم از کم تھوڑا کم ہو جائے۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
پتہ نہیں یہ بات ہر معاشرے میں موجود ہے یا نہیں لیکن ہمارے معاشرے میں ضرور ہے۔ بات یہ کہ اگر آپ کو کسی گُر  کا پتہ چل گیا ہے تو پھر کسی اور کو نہ بتاؤ اگر بتاؤ تو یا تو اس کا  بہت زیادہ وقت ضائع کر کے یا پھر پیسے لے کر۔ چلو مانا کہ پروفیشنل کام نہ بتاؤ لیکن اگر کوئی بنیادی معلومات لینا چاہے یا پھر اس تعلیم کا جنون رکھتا ہو تو کم از کم بنیادی معلومات تو ضرور دینی چاہئے۔ لیکن یہاں ایسا نہیں۔ مجھے یاد ہے ایک بار میرے ایک جاننے والے کے ہاتھ کمپیوٹر کا ایک چھوٹا سا Trick لگ گیا۔ Trick کوئی ایسا نہیں تھا کہ اس سے پیسے کمائے جاتے تھے یا پھر وہ کوئی بہت بڑا فائدہ کر دینے والا تھا لیکن مجھے سیکھنے کا شوق تھا توان سے پوچھا تو کہنے لگے بہت محنت کے بعد حاصل کیا ہے اس لئے ایسے تو نہیں دیں گے خیر بڑا وقت ضائع کیا انہوں نے اور پھر وہ Trick بتایا۔ کئی بار بالکل بنیادی معلومات کے حصول کے لئے بڑی بڑی مغز ماری کرنی پڑی اور لوگوں سے رابطے کرنے پڑے ۔ کئی تو بتانے سے صاف انکار کردیتے تھے  لیکن یہ لوگ بہتر ہوتے ہیں ان کی نسب جو ای میل اور ایس ایم ایس کا جواب تک نہیں دیتے تھے۔ سوچتا اگر جواب نہیں دینا ہوتا تو پبلک کو اپنا ای میل اور نمبر دینے کی پھر ضرورت ہی کیا ہے؟خیر مجھے ان سب باتوں پر بہت غصہ آتا تھا۔ بالکل منا بھائی کی طرح سوچتا تھا کہ یہ لوگ علم اپنے پاس رکھ کر سڑاتے کیوں ہیں کسی کو دیتے کیوں نہیں۔<br />
میرا دل کرتا تھا کہ مجھے جس فائدہ مند چیز کا علم ہو وہ میں روڈ پر کھڑے ہو کر لوگوں کو پکڑ پکڑ کر بتاؤ۔ لیکن میں اس قابل تھا ہی نہیں کہ ایسا کر سکوں۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے مجھے کچھ تھوڑا بہت علم ہوتا گیا میری کوشش ہوتی کہ اگر کسی کو اس کی ضرورت ہے تو اس تک ضرور پہنچاؤں۔<br />
2006ء میں مجھے یونیکوڈ اردو کے بارے میں پتہ چلا لیکن میرا مسئلہ یہ تھا کہ میں انپیج کے فونیٹک کی بورڈ کا عادی تھا لیکن ونڈوز میں کوئی اور کی بورڈ تھا پھر کی بورڈ بنانے کی تلاش میں نکل پڑا اور بہت کچھ سیکھا۔ جب میں کی بورڈ لے آؤٹ بنا چکا تو پھر میں نے وہی کی بورڈ لے آؤٹ، اردو کے چند فونٹس اور اردو کی انسٹالیشن کا طریقہ ایک فولڈر میں رکھا اور پھر سب دوستوں کو ای میل کر دیا اس کے علاوہ جس کو ضرورت ہوتی اسے وہی فولڈر دیتا اور سمجھاتا بھی۔ یہی سلسلہ چلتا رہا  اور بعد میں میں نے ایک کتابچہ ”اردو اور کمپیوٹر“ کے نام سے لکھا۔ اس کتابچہ کو لکھنے کے پیچھے بھی وہی سوچ تھی کہ جن بنیادی معلومات کے لئے میں نے بہت مغز ماری کی ہے لیکن اگر کوئی دوسرا یہی معلومات چاہتا ہو تو آسانی سے اور اپنی زبان اردو میں حاصل کر سکے۔ اس کے بعد کئی لوگوں کو سمجھ نہ آتی تو پھر وہ ای میل یا فون پر رابطہ کرتے انہیں سمجھاتا اور کتابچہ میں بھی وہی معلومات شامل کر دیتا۔ یہ سلسلہ یہیں ختم نہ ہوا بلکہ اردو کے متعلق رابطہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور میرا ایک خاص وقت ای میلز کا جواب دینے میں ہی گزر جاتا ہے۔ لیکن میری کوشش ہوتی ہے کہ جلد از جلد جواب دے سکوں۔ خیر یہ سلسلہ اچھا بھلا چل رہا تھا (انشاءاللہ جہاں تک مجھ سے ہو سکا چلتا رہے گا)۔ مجھے کچھ دن پہلے ایک ای میل ملی۔ یہ ساری تمہید اور تحریر اسی ای میل کی وجہ سے لکھ رہا ہوں۔ ای میل کے ساتھ آنے والے نام سے تو وہ کوئی محترمہ  تھیں اب پتہ نہیں وہ محترم تھے یا واقعی محترمہ تھیں۔  خیر انہوں نے ارد و کمپیوٹنگ کے متعلق کافی سوال لکھے ہوئے تھے۔ تمام سوال بنیادی نوعیت کے ہی تھے میں نے دوسرے دن جواب دے دیا انہوں نے پھر مزید معلومات پوچھی میں نے پھر جواب دے دیا۔ اس طرح یہ سلسلہ کوئی پانچ سات ای میلز تک چلا جب ان کا مسئلہ حل ہو گیا تو انہوں نے مجھے ایک بہت اچھا تخفہ دیا۔ جو کہ صرف چند الفاظ تھے لیکن میں سوچنے اور یہ تحریر لکھنے پر مجبور ہو گیا۔ میں نے ان محترمہ کو اس وقت  کوئی جواب نہیں دیا تھا بلکہ اب اس تحریر کا ربط میل کر رہا ہوں کہ وہ بھی یہ تحریر پڑھ لیں۔<br />
ان کے الفاظ یہ تھے کہ ”آپ نے میری بہت مدد کی اس کے لئے آپ کا بہت شکریہ۔ ایک بات کہتی ہوں کہ اگر میری جگہ کوئی لڑکا ہوتا تو آپ لڑکے لوگ کبھی اس کی اتنی مدد نہ کرتے“۔<br />
لو فیر پے گیا سیاپا۔۔۔ میں کئی کئی اندازے لگانے میں مصروف ہو گیا کہ یہ تخفہ صرف مفت میں مدد کرنے کا نتیجہ ہے بلکہ وہی لوگ بہتر ہیں جو پیسے لے کر ہی دوسروں کی مدد کرتے ہیں تاکہ کام کی  قدر بھی ہو اور مال بھی مل جائے؟ یا پھر وہ لوگ جو کوئی مفاد رکھ کر مدد کرتے ہیں؟  مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ انہوں نے ایسا کیوں لکھا اور کیا سوچ کر لکھا؟ کیا انہوں نے لڑکوں کی اجتماعی سوچ کو دیکھتے ہوئے ایسا کہا؟ کیا ہم لڑکے واقعی ایسے ہوتے ہیں؟ کیا عورت ذات یہی سوچتی ہے کہ مرد حضرات  ہمیشہ کسی مفاد کی خاطر ہی مدد کرتے ہیں؟  جبکہ میں اردو کمپیوٹنگ کے معاملے میں جہاں تک ہو سکے سب کو ہی جواب دیتا ہوں اور جتنی جلدی ہو سکے جواب دے دیتا ہوں۔ اس بات کی گواہی وہ مرد حضرات ضرور دیں گے جنہوں نے مجھ سے ای میل یا دیگر ذرائع سے رابطہ کیا اور جہاں تک مجھ سے ہو سکا  میں نے ان کی تھوڑی بہت مدد کی۔<br />
یہ مسئلہ یہاں بلاگ پر لانے کا مقصد ایک تو یہ ہے کہ آپ تبصرہ کریں اور اندازہ لگائیں کہ ان محترمہ نے ایسا کیوں لکھا ہو گا؟ انہوں نے سوچا  اور لکھا ہے تو ظاہر ہے ہمارے لوگوں کی ایک سوچ یہ بھی ہے۔ میری نظر میں یہ بھی ایک المیہ ہے اور ہمیں خود کو بدلنا ہو گا تاکہ اس سوچ کا اور اس سوچ کو پیدا کرنے والے محرکات کا خاتمہ ہو سکے یا کم از کم تھوڑا کم ہو جائے۔<br />
اور دوسرا مقصد یہ کہ اگر ہو سکے تو وہ محترمہ اپنی سوچ کچھ بدل سکیں اور  جان سکیں کہ اردو کمپیوٹنگ کے حوالے سے میری تھوڑی سی کاوش یہاں سب کے لئے ہے نہ کہ صرف صنفِ نازک کے لئے اور یہ کہ جس طرح تمام عورتیں ایک جیسا نہیں سوچتی جیسے انہوں نے کچھ اور سوچا اور باقی کچھ اور طرح سوچتیں ہیں ایسے ہی  سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے بلکہ کئی مجھ جیسے پاگل بھی ہوتے ہیں (پاگل صرف اس لئے لکھا کیونکہ ان جیسوں کے لئے ہم پاگل ہی ہیں) جو صرف اس لالچ میں دوسروں کی اردو کمپیوٹنگ کے حوالے سے یا دیگر معاملات میں مدد کرتے ہیں تاکہ ہماری زبان اردواور ہمارے اپنے ترقی کر سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/why-people-think-like-this/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>30</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>وادی ناران کاغان کی سیر (تصاویر حصہ اول)</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/naran-kaghan-2010-pictures-1/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/naran-kaghan-2010-pictures-1/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 10 Jun 2010 13:53:14 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[kaghan]]></category>
		<category><![CDATA[kaghan pictures]]></category>
		<category><![CDATA[lake-saif-ul-maluk]]></category>
		<category><![CDATA[lalazar]]></category>
		<category><![CDATA[lalazar pictures]]></category>
		<category><![CDATA[naran]]></category>
		<category><![CDATA[naran kaghan]]></category>
		<category><![CDATA[naran pictures]]></category>
		<category><![CDATA[saif-ul-maluk pictures]]></category>
		<category><![CDATA[saiful-maluk]]></category>
		<category><![CDATA[جھیل سیف الملوک]]></category>
		<category><![CDATA[جھیل سیف الملوک کی تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[لالہ زار]]></category>
		<category><![CDATA[لالہ زار کی تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[ناران]]></category>
		<category><![CDATA[ناران کاغان کی سیر]]></category>
		<category><![CDATA[ناران کی تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[کاغان]]></category>
		<category><![CDATA[کاغان کی تصویریں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=234</guid>
		<description><![CDATA[دو جون 2010ء کی صبح ہم <a target="_blank" href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%AF%D8%AC%D8%B1%D8%A7%D8%AA">گجرات</a> سے <a target="_blank" href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86">ناراں</a>، <a target="_blank" href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%A7%D9%86">کاغاں</a> کے لئے نکلے۔ سارا سفر گپ شپ کرتے ہوئے گذارا۔ یوں تو دل کر رہا ہے کہ سارے سفر اور سیروتفریح کے لمحات کو قلمبند کروں لیکن وقت ساتھ نہیں دے رہا۔ جب تک کچھ لکھتا ہوں یا نہیں لکھتا تب تک آپ اگر دیکھنا پسند کریں تو پیارے پاکستان کے پیارے علاقے کی تصاویر دیکھیں۔ میں نے کوشش کی ہے کہ ہر تصویر کے ساتھ جگہ کا نام اور وقت لکھ سکوں۔ اگر انجانے میں کوئی غلطی ہو گئی ہو تو معذرت چاہتا ہوں۔
<a target="_blank" href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/02.jpg"><img alt="" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/02.jpg" title="LalaZar" class="aligncenter" width="520" height="auto" /></a>
]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>دو جون 2010ء کی صبح ہم <a target="_blank" href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%AF%D8%AC%D8%B1%D8%A7%D8%AA">گجرات</a> سے <a target="_blank" href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%86%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D9%86">ناراں</a>، <a target="_blank" href="http://ur.wikipedia.org/wiki/%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%A7%D9%86">کاغاں</a> کے لئے نکلے۔ سارا سفر گپ شپ کرتے ہوئے گذارا۔ یوں تو دل کر رہا ہے کہ سارے سفر اور سیروتفریح کے لمحات کو قلمبند کروں لیکن وقت ساتھ نہیں دے رہا۔ جب تک کچھ لکھتا ہوں یا نہیں لکھتا تب تک آپ اگر دیکھنا پسند کریں تو پیارے پاکستان کے پیارے علاقے کی تصاویر دیکھیں۔ میں نے کوشش کی ہے کہ ہر تصویر کے ساتھ جگہ کا نام اور وقت لکھ سکوں۔ اگر انجانے میں کوئی غلطی ہو گئی ہو تو معذرت چاہتا ہوں۔<br />
<a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/02.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="LalaZar" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/02.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار صبح کے وقت۔ بارش کا پانی تو تھوڑا سا تھا لیکن میرے دوست سلیم نے اپنا فن دکھایا</center><br />
<span id="more-234"></span></p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/01.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/01.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>بالا کوٹ سے کاغان کی طرف جاتے ہوئے بالا کوٹ شہر کی تصویر۔</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/02.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/02.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>بالا کوٹ اور کاغان کے درمیان۔ جہاں ہماری گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/03.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/03.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>بالا کوٹ اور کاغان کے درمیان۔</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/04.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/04.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>ناران سے تھوڑا پہلے ایک چھوٹی سی آبشار</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/05.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/05.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>ناران سے تھوڑا پہلے ایک چھوٹی سی آبشار</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/06.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/06.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>کاغان سے ناران کے رستے میں</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/07.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/07.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>جہاں سے ناران شہر شروع ہوتا ہے</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/08.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/08.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>جس ہوٹل میں ٹھہرے تھے اس کی چھت سے ناران کے گردونواح کے پہاڑوں کی تصویر</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/09.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/naran-and-naran-way/09.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>چھوٹا سا لیکن بہت خوبصورت ناران، یہ تصویر ناران بازار کی ہے جو مین روڈ پر ہی ہے</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/01.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/01.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>ناران سے لالہ زار جاتے ہوئے رستے کی تصویر۔ راستے کے دونوں طرف برف پڑی ہے اور درمیان سے سڑک سے برف ہٹا کر راستہ صاف کیا ہوا ہے</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/02.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/02.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>ناران سے لالہ زار جاتے ہوئے رستے میں ایک آبشار</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/03.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/03.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>ناران سے لالہ زار جاتے ہوئے رستے میں ایک آبشار</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/04.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/04.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>ناران اور لالہ زار کے رستے میں ایک جگہ سہوچ</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/05.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/05.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>ناران اور لالہ زار کے رستے میں ایک جگہ سہوچ</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/06.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/06.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>ناران اور لالہ زار کے رستے میں ایک جگہ</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/07.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/07.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>ناران اور لالہ زار کے رستے میں ایک جگہ</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/08.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar-way/08.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>ناران اور لالہ زار کے رستے میں ایک جگہ</center></p>
<p><center><a href="http://mbilal.paksign.com/naran-kaghan-2010-pictures-2/">حصہ دوم یعنی مزید تصاویر یہاں دیکھیں</a></center></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/naran-kaghan-2010-pictures-1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>18</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>وادی ناران کاغان کی سیر (تصاویر حصہ دوم لالہ زار)</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/naran-kaghan-2010-pictures-2/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/naran-kaghan-2010-pictures-2/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 10 Jun 2010 13:49:59 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[kaghan]]></category>
		<category><![CDATA[kaghan pictures]]></category>
		<category><![CDATA[lake-saif-ul-maluk]]></category>
		<category><![CDATA[lalazar]]></category>
		<category><![CDATA[lalazar pictures]]></category>
		<category><![CDATA[naran]]></category>
		<category><![CDATA[naran kaghan]]></category>
		<category><![CDATA[naran pictures]]></category>
		<category><![CDATA[saif-ul-maluk pictures]]></category>
		<category><![CDATA[saiful-maluk]]></category>
		<category><![CDATA[جھیل سیف الملوک]]></category>
		<category><![CDATA[جھیل سیف الملوک کی تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[لالہ زار]]></category>
		<category><![CDATA[لالہ زار کی تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[ناران]]></category>
		<category><![CDATA[ناران کاغان کی سیر]]></category>
		<category><![CDATA[ناران کی تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[کاغان]]></category>
		<category><![CDATA[کاغان کی تصویریں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=264</guid>
		<description><![CDATA[<center><a href="http://mbilal.paksign.com/naran-kaghan-2010-pictures-1/">اس سے پہلے والی تصاویر یہاں دیکھیں</a></center>
<br />

<a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/03.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/03.jpg" alt="" width="520" height="auto" /></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center><a href="http://mbilal.paksign.com/naran-kaghan-2010-pictures-1/">اس سے پہلے والی تصاویر یہاں دیکھیں</a></center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/01.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/01.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>ناران سے ہم بٹہ کنڈی پہنچے اور وہاں فیاض کے گھر گاڑی کھڑی کر کے لالہ زار کے لئے ٹریکنگ شروع کی اور یہ تصویر بالکل شروع کی ہے اور دور ہم لوگ بھی نظر آ رہے ہیں </center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/02.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/02.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار صبح کے وقت۔ بارش کا پانی تو تھوڑا سا تھا لیکن میرے دوست سلیم نے اپنا فن دکھایا</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/03.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/03.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار کے خوبصورت جنگل میں سیر کرتے ہوئے یہ تصویر بنائی۔ نیچے بالکل چھوٹے چھوٹے ہمارے خیمے بھی نظر آ رہے ہیں</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/04.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/04.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center> لالہ زار بالکل صبح کے وقت</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/05.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/05.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار کی تصویر۔ پیچھے جو برف پوش پہاڑ نظر آ رہا ہے اس سے دائیں طرف درختوں کے پیچھے جو چھوٹا پہاڑ ہے اس کے پیچھے جھیل سیف الملوک ہے۔ لالہ زار سے مقامی لوگ تقریبا 3 گھنٹوں میں انہیں پہاڑی رستوں سے ہوتے ہوئے جھیل سیف الملوک تک پہنچ جاتے ہیں۔</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/06.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/06.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار صبح کے بعد اور دوپہر سے پہلے</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/07.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/07.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>ہم، ہمارے خیمے اور لالہ زار۔ ویسے اس بار شدید سردی، تیز ہوا اور بارش کی وجہ سے ہم خیموں میں نہیں رہ سکے تھے۔</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/08.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/08.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/09.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/09.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/10.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/10.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار سے نیچے کھائی میں بٹہ کنڈی کی تصویر</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/11.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/11.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/12.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/12.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>خیموں سے باہر تقریبا دوپہر کے وقت ہم دوپ کے مزے لیتے ہوئے</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/13.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/13.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/14.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/14.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار میں ایک گھر</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/15.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/15.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>شام کے وقت جب بارش تھوڑی دیر کے لئے رکی اور پھر بادل سیروتفریح میں مصروف ہو گئے</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/16.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/16.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>شام کے وقت اور بارش کے فورا بعد</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/17.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/17.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/18.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/18.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار کے میدانوں میں بھیڑیں گھاس چرتی ہوئیں</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/19.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/19.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار کے میدانوں میں بھیڑیں گھاس چرتی ہوئیں</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/20.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/20.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار کے میدانوں میں بھیڑیں گھاس چرتی ہوئیں</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/21.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/21.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار کے میدانوں میں ہماری طرح بھیڑیں بھی سیروتفریح میں مصروف</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/22.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/22.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/23.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/23.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>دوپہر کا وقت ہو گیا اور سیاح لالہ زار آنے شروع ہو گئے۔ لیکن ہم نے تو رات بھی لالہ زار میں گزاری ہے۔</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/24.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/24.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>شام سے کچھ دیر پہلے سخت سردی میں اکیلی کرسی میز کے ساتھ سیاحوں کا انتظار کرتے ہوئے</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/25.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/25.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار سے نیچے کھائی میں بٹہ کنڈی کی تصویر</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/26.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/26.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>جنگل میں سیر کرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے آرام کرنے کے لئے نیٹ بھی لگایا لیکن اس پر آرام سے زیادہ تصویر کشی ہی ہوئی </center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/27.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/27.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>بارش کے بعد اور شام ہونے سے پہلے</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/28.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/28.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>بارش کے بعد اور شام ہونے سے پہلے</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/29.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/29.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>بارش کے بعد اور شام ہونے سے پہلے</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/30.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/30.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>بارش کے بعد اور شام ہونے سے پہلے</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/31.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/31.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>بارش کے بعد اور شام ہونے سے پہلے</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/32.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/32.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>بارش کے بعد اور شام ہونے سے پہلے جب لالہ زار کا طلسم شروع ہو رہا تھا</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/33.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/33.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>لالہ زار</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/34.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lalazar/34.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>اور پھر جب ہم نے لالہ زار کو الوداع کہا اور ناران واپسی کے لئے سفر شروع کیا۔</center><br />
<br />
<center><a href="http://mbilal.paksign.com/naran-kaghan-2010-pictures-3/">حصہ سوئم یعنی مزید تصاویر یہاں دیکھیں</a></center></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/naran-kaghan-2010-pictures-2/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>وادی ناران کاغان کی سیر (تصاویر حصہ سوئم جھیل سیف الملوک)</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/naran-kaghan-2010-pictures-3/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/naran-kaghan-2010-pictures-3/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 10 Jun 2010 13:23:34 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[kaghan]]></category>
		<category><![CDATA[kaghan pictures]]></category>
		<category><![CDATA[lake-saif-ul-maluk]]></category>
		<category><![CDATA[lalazar]]></category>
		<category><![CDATA[lalazar pictures]]></category>
		<category><![CDATA[naran]]></category>
		<category><![CDATA[naran kaghan]]></category>
		<category><![CDATA[naran pictures]]></category>
		<category><![CDATA[saif-ul-maluk pictures]]></category>
		<category><![CDATA[saiful-maluk]]></category>
		<category><![CDATA[جھیل سیف الملوک]]></category>
		<category><![CDATA[جھیل سیف الملوک کی تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[لالہ زار]]></category>
		<category><![CDATA[لالہ زار کی تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[ناران]]></category>
		<category><![CDATA[ناران کاغان کی سیر]]></category>
		<category><![CDATA[ناران کی تصاویر]]></category>
		<category><![CDATA[کاغان]]></category>
		<category><![CDATA[کاغان کی تصویریں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=287</guid>
		<description><![CDATA[<center><a href="http://mbilal.paksign.com/naran-kaghan-2010-pictures-2/">اس سے پہلے والی تصاویر یہاں دیکھیں</a></center>
<br />

<a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/07.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/07.jpg" alt="" width="520" height="auto" /></a>]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center><a href="http://mbilal.paksign.com/naran-kaghan-2010-pictures-2/">اس سے پہلے والی تصاویر یہاں دیکھیں</a></center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/01.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/01.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>برف اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے جھیل پر جانے کے لئے جیپ والا رستہ بند تھا اس لئے ہمیں مجبوری میں جھیل کے لئے ٹریکنگ ہی کرنی پڑی اور یہاں سے ہم نے ٹریکنگ شروع کی تھی۔</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/02.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/02.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>جھیل سیف الملوک پر جاتے ہوئے رستے کی تصویر۔ تصویر میں نظر آنے والا گلیشیئر ہم نے پیدل کراس کیا تھا۔</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/03.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/03.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>جھیل سیف الملوک کے لئے ٹریکنگ کرتے ہوئے رستے کی تصویر</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/04.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/04.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>جب جھیل پر پہنچنے میں صرف دو منٹ باقی تھے</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/05.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/05.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>جھیل بالکل قریب آ چکی ہے یا پھر ہم جھیل کے قریب پہنچ چکے ہیں</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/06.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/06.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>جھیل سیف الملوک</center><br />
</p>
<p><a href="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/07.jpg" target="_blank"><img class="aligncenter" title="Naran Kaghan Valley" src="http://dl.dropbox.com/u/2580033/naran/lake-saif-ul-maluk/07.jpg" alt="" width="520" /></a><br />
<center>جھیل کے پانی پر تیرتا ہوا برف کا ٹکڑا</center><br />
<center>آج کے لئے اتنا ہی کیونکہ کافی دیر صرف تصاویر کی ہی ترتیب دے رہا تھا۔ اب کہیں جا کر مکمل ہوئی ہیں اور پھر پوسٹ کر رہا ہوں۔ باقی کوشش کروں گا کہ جلد ہی اس سفر کے بارے میں کچھ لکھ سکوں اور اگر نہ لکھ سکا تو معذرت چاہوں گا۔</center></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/naran-kaghan-2010-pictures-3/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>دور حاضر میں بے شمار مسائل اور بیماریوں کی جڑ</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/load-shading-and-pakistani-nation/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/load-shading-and-pakistani-nation/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 25 Apr 2010 13:50:55 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ہمارا معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[load shading and pakistani nation]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading]]></category>
		<category><![CDATA[load-shading-and-pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ اور بیمار عوام]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈ شیڈنگ اور نفسیاتی مریض]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=230</guid>
		<description><![CDATA[اللہ نہ کرے جب کسی انسان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو وہ کئی لحاظ سے بے بس ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں انرجی کسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ آج ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی بُری طرح ٹوٹے ہوئے بھی ایک عرصہ ہونے کو ہے لیکن ہمارے حکمران کرسی بچانے کے چکر میں اس مرض کا علاج کرنے کی بجائے عام کو جھوٹے دلاسے اور جھوٹے سرکاری بیان دیتے رہتے ہیں۔ انہیں بیانات اور اشتہارات پر غریب عوام کا بے شمار پیسا لگا دیا گیا ہے۔ اگر یہی پیسا اپنی واہ واہ بنانے کی بجائے کسی کام پر لگایا جاتا تو آج ہمارے حالات بالکل ٹھیک نہ سہی لیکن کم از کم آج جیسے نہ ہوتے۔
ہمیں جھوٹے دلاسے دینے والے، ہمیں بجلی کم استعمال کرنے کا کہنے والے خود آرام سے عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جن کے گھروں اور دفتروں میں بڑے بڑے جنریٹر اور یو پی ایس لگے ہیں۔ جو جہاں جائیں وہاں بجلی بند نہیں ہوتی چاہے وہ نتھیا گلی ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ٹیکسوں اور ہمارے خون پسینے کی کمائی سے ہمارے نوکر ہمیں ہی ذلت کی زندگی دے رہے ہیں۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
	اللہ نہ کرے جب کسی انسان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو وہ کئی لحاظ سے بے بس ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں انرجی کسی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ آج ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی بُری طرح ٹوٹے ہوئے بھی ایک عرصہ ہونے کو ہے لیکن ہمارے حکمران کرسی بچانے کے چکر میں اس مرض کا علاج کرنے کی بجائے عوام کو جھوٹے دلاسے اور جھوٹے سرکاری بیان دیتے رہتے ہیں۔ انہیں بیانات اور اشتہارات پر غریب عوام کا بے شمار پیسا لگا دیا گیا ہے۔ اگر یہی پیسا اپنی واہ واہ بنانے کی بجائے کسی کام پر لگایا جاتا تو آج ہمارے حالات بالکل ٹھیک نہ سہی لیکن کم از کم آج جیسے نہ ہوتے۔<br />
	لوڈ شیڈنگ یعنی بجلی کا بحران ایک ایسا مرض ہے جو عوام کی زندگی کو ”الف“ سے لے کر ”ے“ تک متاثر کر رہا ہے۔ اس سے پوری قوم نفسیاتی مریض بنتی جا رہی ہے۔ جس کی مثالیں آپ کو جگہ جگہ ملیں گی۔ تمام شعبہ ہائے زندگی برباد ہورہےہیں۔ طالب علم اپنی جگہ پریشان ہے تو صنعتکار اپنی جگہ۔ فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، غریب مزدور فاقوں پر مجبور ہورہا ہے۔ جو کام گھنٹوں میں ہو جاتے تھے وہ دنوں میں بھی نہیں ہو رہے۔ ساری ساری رات مچھر سے گانے سننے کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی کوفت میں رات جاگ کر گزارنے والے طالب علم دن کو کیا خاک پڑھائی کریں گے۔ اسی طرح مزدور دن کو مزدوری کرے گا یا اپنی نیند پوری کرے گا۔ اسی طرح ہر شعبہ ہائے زندگی کا حال ہے۔ آپ جہاں دیکھو جدھر دیکھو ہر محفل میں ہر دفتر میں غرض ہر جگہ لوگ لوڈ شیڈنگ کی ہی باتیں کرتے ہیں اور اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور اندر ہی اندر لوڈ شیڈنگ کی وجوہات کو کوستے ہیں۔ یہ عجیب سی کیفیت ذہنی مریض بنانے کے لئے کافی ہے۔<br />
	ذرا سوچئے! نیند کی کمی، ذہنی الجھن، روزگار میں کمی، پیسے کی مشکلات، فاقوں کا ڈر، پروڈکشن میں کمی، منٹوں کا کام دنوں میں اور سست رفتاری وغیرہ وغیرہ۔ کیا یہ چھوٹی سی مصیبتیں ہیں؟ نہیں۔ بلکہ آج کے دور میں یہ کسی عذاب سے کم نہیں۔ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی بے شمار بیماریوں اور مسائل کو گلے لگانے پر مجبور ہیں۔ ہمارا مستقبل دن بدن تاریک سے تاریک تر ہو رہا ہے۔ ہماری پوری ایک نسل نفسیاتی مریض بن رہی ہے۔ ہمیں کمر کسنے کا کہنے والے، ہمیں جھوٹے دلاسے دینے والے، ہمیں بجلی کم استعمال کرنے کا کہنے والے خود آرام سے عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جن کے گھروں اور دفتروں میں بڑے بڑے جنریٹر اور یو پی ایس لگے ہیں۔ جو جہاں جائیں وہاں بجلی بند نہیں ہوتی چاہے وہ نتھیا گلی ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے ٹیکسوں اور ہمارے خون پسینے کی کمائی سے ہمارے نوکر ہمیں ہی ذلت کی زندگی دے رہے ہیں۔<br />
	اور ایک ہم عوام ہیں جو بجلی جانے پر واپڈا و دیگر حکام کو چند گالیاں اور برا بھلا کہہ کر اندر ہی اندر جلتے اور تڑپتے رہتے ہیں لیکن کوئی انقلابی قدم نہیں اٹھاتے۔ خود تو سوچتے ہیں اور عجیب عجیب سوچ کر خود کو نفسیاتی مریض تو بنا رہے ہیں لیکن جب آواز بلند کرنے یا کام کا وقت آتا ہے تو چپ کر جاتے ہیں۔<br />
	میں اپنی اس تحریر کے ذریعے اپنے ہم وطن پاکستانیوں کو دعوتِ فکر دیتا ہوں کہ وہ ذرا اپنے گھر اور گردونواح کے لوگوں کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ اس لوڈشیڈنگ کی وجہ سے وہ خود اور باقی لوگ کن کن بیماریوں اور مسائل کی وجہ سے آہستہ آہستہ اس زہر سے موت کی آغوش میں جا رہے ہیں۔ آخر پر بس اتنا کہوں گا کہ جاگو پاکستانی جاگو! اور دیکھو کہ آج کے دور میں یہ لوڈ شیڈنگ بے شمار بیماریوں اور مسائل کی جڑ ہے اور یہ کس طرح پوری ایک نسل کو نفسیاتی مریض بنا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/load-shading-and-pakistani-nation/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>11</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>بل گیٹس کی بات جاوید چوہدری کی زبانی (قصور کس کا؟)</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/bill-gates-and-javed-chaudhry/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/bill-gates-and-javed-chaudhry/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 31 Mar 2010 11:40:44 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[ویڈیوز]]></category>
		<category><![CDATA[Bill Gates and Javed Chaudhry]]></category>
		<category><![CDATA[بل گیٹس کی بات جاوید چوہدری کی زبانی]]></category>
		<category><![CDATA[قصور کس کا؟]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=218</guid>
		<description><![CDATA[[youtube]http://www.youtube.com/watch?v=AoY3waNHaOk[/youtube]
]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>[youtube]http://www.youtube.com/watch?v=AoY3waNHaOk[/youtube]</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/bill-gates-and-javed-chaudhry/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پی ٹی اے اردو ویب سائیٹ کا افتتاح</title>
		<link>http://mbilal.paksign.com/news-urdu-version-of-pta-website/</link>
		<comments>http://mbilal.paksign.com/news-urdu-version-of-pta-website/#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 18 Mar 2010 23:58:52 +0000</pubDate>
		<dc:creator>ایم بلال</dc:creator>
				<category><![CDATA[متفرقات]]></category>
		<category><![CDATA[PTA urdu website]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Version of PTA Website]]></category>
		<category><![CDATA[urdu website of PTA]]></category>
		<category><![CDATA[پی ٹی اے اردو ویب سائیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پی ٹی اے اردو ویب سائیٹ کا افتتاح]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://mbilal.paksign.com/?p=211</guid>
		<description><![CDATA[پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) نے انٹر نیٹ پر اپنی سرکاری ویب سائیٹ کا آغازاردو میں بھی کر دیا ہے۔
صارفین پی ٹی اے کی ویب سائٹ کے ذریعے اس کی مختلف سہولیات بھی استعمال کر سکیں گے۔
صارفین اس ویب سائیٹ پر اپنی شکایات کا اندراج ”شکایات“ کے نام سے موجود لنک کے تحت ایک سادہ اور آسان شکایت فارم پر کر کے بہ آسانی کرا سکیں گے۔ اس کے علاوہ پی ٹی اے کی اردو ویب سائٹ پرسم انفارمیشن سسٹم 668 ، چوری شدہ موبائل کو ایمی نمبر کے ذریعے بلاک کرانا، ٹیلی کام سیکٹر کی کارکردگی کے اعدادوشمار اور پی ٹی اے کی دیگر ایسی سہولیات بھی موجود ہوں گی۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) نے انٹر نیٹ پر اپنی سرکاری ویب سائیٹ کا آغازاردو میں بھی کر دیا ہے۔</p>
<p> پی ٹی اے کی اردو ویب سائیٹ کا ڈیزائن اور خاکہ انگریزی ویب سائیٹ جیسا ہو گا اوراسی مواد کو آسان اردو میں ترجمہ کر کے پیش کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد در اصل ان انٹر نیٹ صارفین کو آن لائن معلومات تک رسائی فراہم کرنا ہے جو عمومی طور پر انٹرنیٹ کے استعمال اور انگریزی زبان سے کم واقفیت رکھتے ہیں۔ لیکن اب وہ صارفین بھی اس ویب سائیٹ کے ذریعے پی ٹی اے کی سرگرمیوں، فیصلوں، پالیسیوں، تحفظ صارفین ریگولیشنز اور کمپلینٹ مینیجمنٹ سسٹم سے متعلق آن لائن معلومات تک رسائی حاصل کر کے ان سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔</p>
<p>صارفین پی ٹی اے کی ویب سائٹ کے ذریعے اس کی مختلف سہولیات بھی استعمال کر سکیں گے۔ پی ٹی اے اپنے ہیڈ کوارٹرز اور زونل دفاتر کے ساتھ ساتھ اپنی ویب سائیٹ پر بھی ٹیلی کام صارفین کی مختلف شکایات براہ راست وصول کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک مخصوص سسٹم سی ایم ایس (کانٹنٹ مینیجمنٹ سسٹم) تیار کیا گیا ہے جس کے ذریعے صارفین کی شکایات کے نئے نظام کو آپریٹرز کے نظام سے مربوط کر دیا گیا ہے۔ اس نئے نظام کے ذریعے شکایات کا اندراج اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میںکیا جا سکے گا۔ صارفین اس ویب سائیٹ پر اپنی شکایات کا اندراج ”شکایات“ کے نام سے موجود لنک کے تحت ایک سادہ اور آسان شکایت فارم پر کر کے بہ آسانی کرا سکیں گے۔ اس کے علاوہ پی ٹی اے کی اردو ویب سائٹ پرسم انفارمیشن سسٹم 668 ، چوری شدہ موبائل کو ایمی نمبر کے ذریعے بلاک کرانا، ٹیلی کام سیکٹر کی کارکردگی کے اعدادوشمار اور پی ٹی اے کی دیگر ایسی سہولیات بھی موجود ہوں گی۔ پی ٹی اے کی اردو ویب سائیٹ ملاحظہ کرنے کیلئے صارفین www.pta.gov.pk لنک پر جا سکتے ہیں اس لنک کے تحت کھلنے والے صفحے پر موجود مینیو میں ”اردو“ کا بٹن دبانے سے صارفین اردو ویب سائیٹ پر پہنچ جائیں گے۔</p>
<p><a href="http://urdu.pta.gov.pk/index.php?option=com_content&#038;view=article&#038;id=1454">حوالہ</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://mbilal.paksign.com/news-urdu-version-of-pta-website/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>4</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
